۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
مولانا ارشد حسین آرمو

حوزہ/ فیشن شو اور اس میں نوجوان نسل خواتین و مرد حضرات کی شرکت یعنی دینی اصولوں کو  مسلمانوں کے ہاتھوں سے پامال کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سرینگر/ وادی کشمیر کے برجستہ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا ارشد حسین نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین کے فیشن شو تقریب کے انعقاد سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ہر چیز کی حد مقرر کر رکھی ہے اور جو ان حدود لو سمجھتا ہے وہ کائنات کے خوبصورتی کا راز بھی سمجھ لیتا ہے۔ لیکن جو بھی اللہ تبارک و تعالٰی کے حدود کو پامال کردیتا ہے تو سوائے تباہی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسلامی نظام میں لباس کے بھی حدود بیان کئے گئے ہیں جن کے اپنانے پر اسلامی اصولوں نے تاکید کی ہوئی ہے۔ 

مسلمان نشین شہر ہو یا ملک، فیشن شو میں جس لباس کا تعارف کرایا جائے اس میں اسلام کے بیان کردہ اصولوں کی پاسداری کی جانی چاہئے۔ فیشن کے ذریعے ہم لوگوں کو اسلامی ثقافت کی طرف رغبت  دلا سکتے ہیں!۔کیا وجہ ہے کہ اسلامی ثقافت و اسلامی قوانین کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے اور ہم خواب غفلت میں گرفتار ہیں۔ 

اس بات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فیشن شو اور اس میں نوجوان نسل خواتین و مرد حضرات کی شرکت یعنی دینی اصولوں کو  مسلمانوں کے ہاتھوں سے پامال کرنا ہے۔

دنیا بھر میں اسلام مخالف سیاسی سرگرمیاں ہمارے سامنے عیاں ہیں جن کا کوئی انکار نہیں کرسکتا وادی کشمیر کی بیدار عوام کو 30 مارچ کے دن جھٹکا لگا جب وادی کشمیر میں بھی فیشن شو کا اہتمام کیا گیا۔جس میں اسلامی ثقافت کو تباہ و برباد کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے اور وہ اس سلسلے کو آگے لیکر جانا چاہتے ہیں۔ اور نوجوان نسل کو دعوت دی جارہی ہے کہ فیشن شو میں شرکت کریں۔ 

دشمن یہ بھی جانتا ہے کہ نوجوان قوم کا مستقبل ہوتا ہے اسی لئے ان پر ہی ایسا حربہ استعمال کیا جائے تاکہ قوم کا مستقبل آج سے ہی تباہ و برباد کیا جائے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 1 =