۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
مولانا تقی عباس رضوی

حوزہ/ رمضان المبارک کو خداوندعالم نے صاحبانِ ایمان کے لئے کلیدِ سعادت قرار دیا ہے یہ وہ مبارک مہینہ ہے جوقرب خداوندی کا باعث ہے۔ یہ مہینہ صرف بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنے کا ہی نہیں بلکہ خود احتسابی اورپاکیزگی نفس کا مہینہ ہے،یہ مہینہ اصلاح معاشرہ اور عبادت و بندگی اور تلاوت ِ قرآن کریم کا مہینہ ہے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،دہلی/ اہل بیت (ع)فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی استقبال ماہ رمضان کے عنوان سے کہا کہ رمضان المبارک کو خداوندعالم نے صاحبانِ ایمان کے لئے کلیدِ سعادت قرار دیا ہے یہ وہ مبارک مہینہ ہے جوقرب خداوندی کا باعث ہے۔ یہ مہینہ صرف بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنے کا ہی نہیں بلکہ خود احتسابی اورپاکیزگی نفس کا مہینہ ہے ،یہ مہینہ اصلاح معاشرہ اور عبادت و بندگی اور تلاوت ِ قرآن کریم  کا مہینہ ہے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماہ رمضان ’’شہراللہ‘‘ ہے اسی طرح یہ مہینہ’’ شہر القرآن‘‘ بھی ہے ۔ ان دونوں کے درمیان انتہائی گہرا تعلق ہے جیسے ماہ رمضان  کا مبارک مہینہ روزوں سے مخصوص ہے اسی طرح یہ قرآن مجید کے لئے بھی خاص ہے۔جیساکہ روایت میں ہے کہ : لِکُلِّ شَیئٍ رَبیع وَ رَبیعُ القُرآنِ شَهرُ رَمضان؛ ہر چیز کی ایک بہار ہوتی ہے، قرآن کریم کی بہارماہ رمضان ہے۔

عبادتوں کے چمن کی بہار ہے رمضان
علاجِ گردش لیل و نہار ہے رمضان

مزید اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ رمضان کا بابرکت مہینہ  نزولِ قرآن کا مہینہ ہے اور قرآن مجید تمام انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے نازل کیا گیا ہے۔ لہذا اس ماہ میں اس ابدی وسرمدی کتاب کہ جو موجودہ زمانے میں ملکی اور غیر ملکی سطح پر اسلام دشمن عناصر کی ایجاد کردہ شکوک و شبہات کے گرد و غبار کی اوٹ میں ہےکی زیادہ سے زیادہ تلاوت ،اس میں تفکر، تدبر اور اس پرعمل کر کے اپنی دنیا وآخرت کو سنوارا جاسکتا ہے ۔

ہندوستان کے برجستہ عالم دین کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا باعث ِبرکت وثواب ہے مگر اسے صرف اور صرف پڑھ لینا ہی کافی نہیں ہے، اس پرغور و فکر اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور جب تک ہم اسے یونہی ثواباً کبھی کبھار پڑھتے رہیں گے ہمارے اندر قرآنی مزاج ِ انقلاب پیدا نہیں ہوسکتااس لئے کہ قرآن ہمارے لئے ایک مکمل ضابطۂ حیات،گھرو خاندان اور ملک و سماج میں  عدل و انصاف کا ایک جامع قانون اور تزکیہ نفوس کیلئے ایک نایاب دستور العمل بھی ہے۔یہ وہ صحیفہ انقلاب و ہدایت ہے جو قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں اور اُن کی زندگی کے ہر شعبے کے لیے جامع و مانع ہے اس کی واضح تعلیمات راہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کررکھ دینے والی ہیں۔

رسول خدا ﷺنے ارشاد فرمایا: ویل لمن قرأھا ولم یتفکر فیھا۔’’ہلاکت ہے اس کے لیے جوقرآن کی آیات کی تلاوت توکرتاہے مگر اس میں غورفکرنہیں کرتا۔‘‘ شاید! ہماری موجودہ صورت حال میں ذلت و  ہلاکت اور گمراہی  کا سبب یہی  ہے کہ ہم نے قرآن مجید کوصرف گھر وں میں برکت  و ثواب ،سرپر رکھنے، چومنے اور اس کو آنکھوں سے لگانے تک محدود کر رکھا ہے۔
وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر

یاد رہے ! یہ بابرکت مہینہ لوگوں کو کئی جہتوں سے فیض یاب کرتا ہے ۔  لہذا ہر صاحب ایمان کو اس ماہ کی برکت و رحمت کے چشمۂ فیض سے فیض یاب ہونے کی جد و جہد کرنی چاہئیے۔اگر اس ماہ مبارک میں ہمارے اندر روزوں کے ذریعہ تقویٰ کی صفت اور تلاوتِ قرآن مجید سے ہمارے اندر رقتِ نفس ،استقلال اور انقلاب کی کیفیت طاری نہ ہو تو پھر ہمیں اپنے فہم اسلام اور قرآن  پر غور و فکرکرنے کی ضرورت ہے۔ 

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .