۳۰ مهر ۱۴۰۰ |۱۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 22, 2021
مولانا قمی

حوزہ/ پیروان ولایت جموں وکشمیر کے سربراہ نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے بے گناہ روزہ داروںکو بموں توپوں اور گولیوں کا نشانہ بنانا اسلامی اصول و قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی ہے اس طرح کی مذموم کاروائیاں انجام دینے والے تک اسلام کی بو تک بھی نہیں پہنچتی ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پیروان ولایت جموں وکشمیر کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے افغانستان میں شیعہ مسلمانوں پر ہوئے دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس سانحہ کو افسوسناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عرصہ دراز سے شیعہ مسلمان ظلم و تشدداور دہشتگردی کا شکار ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کٹھ پتلی حکمران کے کانوں پر جوں تک بھی نہیں رینگتی۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ مسلک کوٹارگٹ بنانا سامراجی ممالک کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو خطے میں فرقہ وارنہ فسادات کے ذریعے مسلمانوں کو منتشر کرنے اورانہیں کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مولانا نے کہا افغانستان میں امریکہ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اب جب انہیں افغانستان سے مکمل انخلا کا وقت آگیاہے تو وہ زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے افغانستان میں دہشتگردانہ کاروائیاں انجام دے رہے ہیں اور انخلا کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے بے گناہ روزہ داروںکو بموں توپوں اور گولیوں کا نشانہ بنانا اسلامی اصول و قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی ہے اس طرح کی مذموم کاروائیاں انجام دینے والے تک اسلام کی بو تک بھی نہیں پہنچتی ۔

مولانا نے سید اشہدا اسکول کے نزدیک شہید ہونے والے درجنوں افراد کو خراج پیش کرتے ہوئے ان کے اعلیٰ درجات اور لواحقین کے صبر جمیل کے لئے دعا کیا۔اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کے قاتلوں کوبے نقاب کرکے تختہ دار پر چڑھانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 0 =