۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
کابل

حوزہ/ایرانی سوشل میڈیا کے سرگرم رکن نےکہا کہ سائبر اسپیس کے کارکنوں اور عام طور پر، تمام ذرائع ابلاغ اور فنکار حضرات جو مذہب اور انسانیت کے بارے میں فکر مند ہیں انہیں کابل میں پیش آنے والی حالیہ دہشتگردی پر خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام محمد رسول بہرامیان نے کابل افغانستان کے دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ معصوم بچیوں کی شہادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں کہ جہاں پر جرائم اور انسانیت کاقتل عام ایک بدترین عادات میں سے ایک بن گئے ہیں لہذا دنیا کے گوشہ و کنار سے آئے روز انسانیت کے خلاف بم دھماکے یا جرائم کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں جو کہ حقیقت میں ہر آزادی پسند اور حق پرست انسانوں کے دلوں کو غمزدہ کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سید الشہداء گرلز ہائی سکول کابل پر حالیہ دنوں دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں 60 سے زائد طالبات کو شہید کیا گیا اور دسیوں سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ میں انسانی حقوق کے دفاع کا دعوی کرنے والوں کی طرف سے عملی طور پر کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی اور ایک بار پھر ان کی دوغلی پالیسی تمام باشعور انسانوں پر عیاں ہو گئی ہے۔

ثقافتی اور سوشل میڈیا کے سرگرم کارکن نے یہ بھی کہا کہ یقیناً اس جیسے دہشت گردانہ حملوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے ایجنٹوں اور حامی بنیادی طور پر علم اور فضیلت اور ایک قوم کی ترقی اور شعور کے مخالف ہیں،لیکن اس معاملے میں سوشل میڈیا کے سرگرم کارکنوں اور مؤثر ذرائع ابلاغ کے عوامل کو اس جرم کی مذمت کرتے ہوئے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا چاہیے تاکہ یہ معاملہ واضح ہو سکے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 13 =