۴ تیر ۱۴۰۰ | Jun 25, 2021
شوهانی

حوزہ/بحرینی سیاسی سرگرم رکن عبد الغنی عیسی خنجر نے اپنی ایک خصوصی یادداشت میں لکھا ہے کہ بحرینی امام راحل(رح)کے عظیم تفکر اور روش سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے والے اپنے علماء کی فکر انگیز تقاریر سننے کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں میں حاضر ہوتے تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بحرینی سیاسی سرگرم کارکن عبد الغنی عیسی خنجر نےحوزہ نیوز ایجنسی کے لئے "اسلامی دنیا خاص طور پر ملت بحرین کی بیداری اور انقلاب میں امام خمینی(رح)کے مؤثر کردار"کےموضوع پر ایک خصوصی یادداشت لکھی ہے جس کا تفصیلی متن کچھ یوں ہے۔

حضرت امام خمینی(رح)نے اسلامی دنیا میں ایک گہرا اثر چھوڑا اور عالمی سطح پر سیاست کے تمام پہلوؤں میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور ان کا یہ گہرا اثر مختلف پہلوؤں میں کار آمد ثابت ہوا۔

امام راحل(رح)نےاسلامی بیداری کو پیدا کیا اور اس کے ذریعے لاکھوں جوانوں کی رہنمائی اور ہدایت کی اور دنیائے اسلام کے مستضعین کے راستے کو جغرافیائی اور مذہبی اعتبار سے واضح کردیا۔
یہ بیداری،ایک مذہبی بیداری اور مذہبِ تشیع کے پیروکاروں کے ساتھ مخصوص بیداری نہیں تھی بلکہ تمام مسلمان فرقوں اور مذاہب الٰہی کے ساتھ مخصوص تھی اور اس بیداری نے عالمی سطح پر ظلم اور ناانصافی کے خلاف انقلاب اسلامی کے لئے کوششیں کرنے والوں پر نمایاں اثر چھوڑا۔بحرین نے بیداری کا وہ شعلہ دریافت کیا جسے امام خمینی(رح)نے روشنی بخشی تھی۔

آپ نے اپنے پر خلوص بیانات سے عوام الناس اور قابل قدر شخصیات پر اثر چھوڑا اور عوام نے آپ کے عملی رفتار و کردار جو کہ تقویٰ،زہد،شجاعت اور خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان کے مظہر تھے،سے بھر پور استفادہ کیا اور اسی طرح آپ کی بے نظیر فکر سے بھی استفادہ کرتے تھے۔آپ نے عوام اور ان کی توانائیوں پر دنیا یا ریاست اور قیادت کی طمع کے بغیر اعتماد کرتے ہوئے شرعی فریضے کی بنیاد پر قیام کے لئے عمل درآمد کیا۔

ایران میں انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد جس چیز کی آپ سے نسبت دی جانے لگی وہ آپ کا رہبریت اور قیادت سے منسوب ہونا تھا،ان القابات پر آپ شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ میں ترجیح دیتا ہوں کہ مجھے رہبر کہنے کے بجائے خادم کہیں،بنابر ایں آپ نے دنیوی زندگی کو مادی میراث کے بغیر خیر باد کہہ دیا اور وہ چیزیں جن کو آپ نے ارث پدری کے عنوان سے حاصل کیا تھا ان کے بارے میں وصیت فرمائی کہ اسے غریب و غرباء کے درمیان تقسیم کریں۔

ان اہم خصوصیات نے ان کےشجاعانہ بیانات،بےنظیر انقلاب،تقوی،علم و دانش اور اہم ترین عنصر جو کہ خدا کے لئے ان کا پر خلوص کام ہے،کے ساتھ روح اللہ خمینی(رح)کو عصر حاضر کے بے بدیل اور بے نظیر رہبر بنا دیا۔

بحرین نے خطے میں دیگر ممالک کی مانند امام خمینی(رح)کی قیادت میں رونما ہونے والے انقلاب اسلامی سے تمسک کرنے کا فیصلہ کیا اور بحرینی جوان،امام راحل کے توسط سے پھیلنے والی عدالت کی روشنیوں سے منور ہوئے۔انقلاب اسلامی اور اس کے رہبر پر استکبار جہاں اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے پے در پے وحشیانہ حملے،خطے میں انقلاب کے ذریعے پھیلنے والے فیوضات اور نور کے مقابلے میں رکاوٹ نہیں بن سکے اور امام راحل(رح)کی آواز اور عظیم فرامین مستضعین جہاں کے جوانوں کے دلوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں بن سکے۔

بحرینی جوانوں کو امام خمینی(رح)کی تصویر رکھنے کے جرم میں جیل بھیجنے اور بدترین تشدد کے باوجود،ان انقلابی جوانوں کو یہ ظالم حکمران استکبار جہاں کے خلاف جد و جہد،اقدار کی پاسداری،فلسطین کی حمایت اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے نہیں روک سکے۔تحریک بحرین،حق اور انصاف کے قیام کے لئے امام راحل کے پاک افکار اور ہدایات کے ساتھ بحرینی عوام کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ تھی۔

بحرینی امام راحل(رح)کے عظیم تفکر اور روش سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے والے اپنے علماء کی فکر انگیز تقاریر سننے کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں میں حاضر ہوتے تھے،ان میں ممتاز اور برجستہ آیۃ اللہ شیخ عیسی قاسم تھے،آپ بحرین کے دارالحکومت منامہ کی مساجد میں خطبہ دیا کرتے تھے اور ہزاروں جواں ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے لئے جمع ہوتے تھے اور امام خمینی(رح)کے افکار،راہ اور عظیم روش اختیار کرنے کے لئے شعار بلند کرتے تھے۔

امام راحل(رح)کے توسط سے رونما ہونے والے اس انقلاب کے شعار استکبار جہاں کو محکوم کرنے کے لئے مؤمن اور انقلابی نماز گزاروں کے دلوں سے بلند ہوتے تھے تاکہ اس انقلاب کے ہدایات آمیز پیغامات کو ایک نسل در نسل کردیا جائے،یہ ایک ایسا انقلاب ہے جو امام خامنہ ای کی قیادت میں استکبار جہاں،ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کی طاقت کے خلاف فلسطین، یمن، بحرین، لبنان،عراق اور مستضعفین جہاں کے ہمراہ قائم و دائم ہےاور یہ سلسلہ،ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز اور شہنشاہی حکومت کے تختہ الٹنے اور امریکی صہیونیت کے ایران سے تسلط کے خاتمے کے ساتھ اب بھی پوری طرح جاری ہے۔

حضرت امام خمینی(رح)نے اپنے بیانات سے قبل،اپنے رفتار و کردار،افکار اور اقدامات سے کامیابی کے اصولوں کو بیان کردیا ان میں سب سے پہلا اصول، نہ قیادت بلکہ آپ کا خدا کے لئے کام کرنا تھا اور آپ کا دنیا کو فانی سمجھنا تھا۔آپ نے برائیوں کا حکم دینے والے نفس امارہ کا مقابلہ اور دنیا کی محبت کو اپنے دل سے نکالتے ہوئے بے انصافی اور ظلم کے خلاف جد و جہد کی اور مظلومین اور مستضعفین جہاں کی کھل کر حمایت کی اور آخری سانس تک آپ کی یہ تمام جد و جہد خدا کی خوشنودی اور رضایت کے لئے تھی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 7 =