۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
شهر شیعه نشین "جاغوری" در افغانستان

حوزہ/ طالبان دہشت گرد گروہ نے شیعہ قصبہ بانو اور افغانستان کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے اور اس کے باشندوں کو ہلاک کرنے کے بعد، صوبہ غزنی کے جاغوری قصبے پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، طالبان دہشت گرد گروہ نے شیعہ قصبہ بانو اور افغانستان کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے اور اس کے باشندوں کو ہلاک کرنے کے بعد، صوبہ غزنی کے جاغوری قصبے پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔

افغانستان کے شیعہ قصبے جاغوری پر طالبان کا حملہ

افغانستان کے شیعہ قصبے جاغوری پر طالبان کا حملہ

طالبان گروپ نے الحمرا بٹالین کے ایک ہزار ارکان کو حکم دیا کہ جاگوری شہر کے باسیوں پر، جو امیر المومنین (ع) کے شیعوں سے بھرا ہوا ہے اگر انہوں نے طالبان کی بیعت نہ کی تو ان پر یورش کرتے ہوئے شہر کو ان پر ڈھا دیا جائے۔

افغانستان کے شیعہ قصبے جاغوری پر طالبان کا حملہ
جاغوری پر طالبان کا حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا، اور ایک شدید لڑائی کے بعد، عوامی مزاحمتی دستے، سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے، طالبان کے حملے کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور محاصرے کے بعد فوجیوں اور فوجی سازوسامان کو شدید دھچکا لگا، ۲۲ طالبان دہشت گرد میدان جنگ میں مارے گئے اور بہت سے افراد کو قیدی بنا لیا گیا۔

افغانستان کے شیعہ قصبے جاغوری پر طالبان کا حملہ

شہر جاغوری صوبہ غزنی کا ایک اہم شیعہ علاقہ ہے اور شہر علمائے کرام اور آیت اللہ اسحاق فیاض کی جائے پیدائش ہے جو نجف اشرف کے ایک مرجع تقلید ہیں۔

افغانستان کے شیعہ قصبے جاغوری پر طالبان کا حملہ

تبصرہ ارسال

You are replying to: .