۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
مولانا ناظر مہدی محمدی

حوزہ/ افغانستان کی موجودہ حکومت شیعہ مسلمانوں سمیت وہاں کی دیگر مذہبی و قومی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے حملہ ہو سکتے ہیں جسے وہاں کی موجودہ انتظامیہ کی ناکامی کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کی ساری ذمہ داری بھی اُنہی پر عائد ہوگی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا ناظر مہدی محمدی صدر جمعیۃ العلماء اثنا عشریہ کرگل (لداخ) نے کہا کہ افغانستان سے ملی خبروں کے مطابق صوبہ قندوز کے شہر سید آباد میں گزشتہ روز نماز جمعہ کے دوران یہاں کی سب سے بڑی شیعہ مسجد میں ایک خود کش دھما کہ ہوا جس میں 100 کے قریب نمازی شہید جبکہ 150 کے قریب زخمی ہونے کی خبر ہے, بتایا جاتا ہے کہ اس دوران تقریباً 300 کے قریب افراد مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔

انجمن جمعیت العلماء اثن اعشریہ کرگل (لداخ) اس دہشت گردانہ و وحشیانہ حملہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور افغانستان کے شیعہ مسلمانوں سے بالعموم اور شہدا کے لواحقین سے بالخصوص گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے عزیز و اقارب اس دہشت گردانہ حملہ میں کھوئے ہیں, ساتھ ہی ہم دعاگو ہیں کہ اس صفا کانہ حملے میں زخمی ہونے والے جلد صحت یاب ہوں گے۔

اگر چہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم انجمن جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں جو کوئی بھی تنظیم ، گروہ یا سوچ کے حامل افراد افغانستان میں وہاں کا نظام چلا رہے ہیں یہ اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شیعہ مسلمانوں سمیت وہاں کی دیگر مذہبی و قومی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے حملہ ہو سکتے ہیں جسے وہاں کی موجودہ انتظامیہ کی ناکامی کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کی ساری ذمہ داری بھی اُنہی پر عائد ہوگی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 12 =