۴ خرداد ۱۴۰۱ |۲۳ شوال ۱۴۴۳ | May 25, 2022
مولانا ناظر مہدی محمدی

حوزہ/ جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کی آزادی سے لے کر آج تک لداخ کے مسلمان ملک کے تعین اپنے وفاداری کا ثبوت اپنے جانوں کی قربانی سے دیتے آرہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمن جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ، ہند کے صدر ناظر مہدی محمدی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں دہلی میں اسرائیلی سفارت خانہ پر ہوئے مبینہ دھماکہ کے متعلق Aaj Tak چینل پر گفتگو کرتے ہوئے سابقہ آئی بی سنئیر آفیشل ٹی ایس تنور نے لداخی شیعہ مسلمانوں پر متعدد الزامات عائد کئے ۔ انہوں نے اپنے ٹی وی دیبیٹ کے دوران کہا کہ تقریباً دس سال قبل انہوں نے لداخ کی ایک شیعہ عسکری تنظیم حزب المومنین کے کمانڈر کو دہلی کے لاجپت نگر سے گرفتار کیا تھا ۔ انہوں نے ساتھ میں یہ بات بھی کہی کہ لداخ میں شیعہ مسلمانوں کی ایک عسکری تنظیم بھی ہے ۔ اس بیان کے فوراً بعد مذکورہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے  جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل نے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ اس دوران جمعیت العلما  ء اثنا عشریہ کی جانب سے لداخ پولیس سربراہ کے نام بھی ایک مکتوب لکھا گیا ہے جس میں اس شخص کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔  

جمعیت العلماء اثنا عشریہ کے صدر حجتہ الاسلام شیخ ناظر مہدی محمدی نے اس سلسلہ میں  اپنے بیان میں کہا  ہے کہ " ہم جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل، لداخ ایسے بے بنیاد الزامات اور بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزارت داخلہ حکومت ہندوستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے جو ملک کے امن و امان میں خلل ڈالنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازشیں کررہے ہیں"۔

اس بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ خطہ لداخ کے مسلمان ملک کے آزادی سے لے کر آج تک دہشتگردی اور اسلام کے نام کئے جا رہے قتل و غارتگری کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے آ رہیں ہیں اور اس ملک کی آئین پر اعتماد کرتے ہوئے آج بھی آئین ہند کے تحت ملک کے تمام معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے آ رہے ہیں ۔ لداخ کے مسلمانوں نے ملک کے تعین اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنے جانوں کی قربانی دی ہے اور خطہ لداخ بالخصوص ضلع کرگل کے دراس اور بٹالک جیسے سرحدی علاقے آج بھی اس ملک کا حصہ ہے ۔ 

جمعیت العلماء اثنا عشریہ کے صدر دفتر سے جاری اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے شخص کو نیشنل ٹیلی ویژن پر کسی مخصوص کمیونٹی  کو ٹارگیٹ کرنے سے قبل سوچنا چاہئے کہ وہ کہہ کس بارے میں رہا ہے اور کس کے متعلق زبان درازی کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ لداخیوں کی حب الوطنی کی کہیں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 16 =