۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
آغا حسن

حوزہ/ جموں و کشمیر میں تعلیمی نصاب کو یکسر بدلنے کے حکومتی منصوبہ کو یکطرفہ جبری اقدام کی ایک اور کڑی سے تعبیر کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ یہ اقدام یہاں کی فرقہ وارانہ رواداری تہذیب و تمدن تاریخ ثقافت کو نقصان پہنچانے کا گھناونا منصوبہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ایام فاطمیہ کے سلسلے میں قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں حسب عمل قدیم مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحوم آغا سید محمد حسین الموسوی الصفوی ؒ کو انکی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے خاتون جنت جناب فاطمۃ الزہرا ؑ کی سیرت اور حیات طیبہ کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی آغا صاحب نے کہا کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا ؑ دنیا کی برگزیدہ خواتین میں سرفہرست اور تمام خواتین عالم کی سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے جناب سیدہ ؑ کو شان و عزمت اور بے پناہ مقام و منزلت سے سرفراز کیا یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ؐ اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور انکا از حد احترام بجا لاتے تھے اس محبت و وابستگی کی بنیاد نصبی نہیں بلکہ وہ کردار و عمل تھا جس کا مظاہرہ جناب سیدہ ؑ نے اپنی مختصر زندگی میں کیا۔

آغا صاحب نے کہا کہ پیغمبر اسلام(ص)نے متواتر اپنے قول و عمل سے امت مسلمہ پر جناب زہراؑ کی شان و عظمت واضح کی اور ان سے محبت و مودت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام اور امت مسلمہ جناب فاطمۃ الزہراؑ اور انکی نسل پاک کی مرحون منت ہے جن کی عزیم قربانیوں اور علمی و فکری خدمات سے اسلام آج تک اپنی حقیقی شکل و صورت میں باقی ہے لیکن یہ ایک جگر سوز علمیہ ہے کہ حکومت آل سعود نے جنت البقیہ میں جناب فاطمہ ؑ اور انکی اولاد ائمہ معصومین ؑ کے ساتھ ساتھ اصحاب رسول ؐ کے مرقد ہاے مقدسہ کو مسمار کرنے کا سیاح کارنامہ انجام دیا تقریباً ایک صدی سے مسلمانان عالم ان منہدم شدہ عتبات عالیہ کی از سر نو تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں حکومت آل سعود اس معاملے میں نہ خود کوئی اقدام کر رہی ہے اور نہ دنیا کے مسلمانوں کو انکی تعمیرات کی اجازت دے رہا ہے۔

سعودی عربیہ میں تبلیغی جماعت پر قدغن کو بلا جواز اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل اور امریکہ کے منشا کے عین مطابق ہے جو نہیں چاہتے کہ وہاں کوئی ایسی تبلیغی جماعت مصروف عمل ہو جائے جو مسلمانوں کے مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرسکیں۔

جموں و کشمیر میں تعلیمی نصاب کو یکسر بدلنے کے حکومتی منصوبہ کو یکطرفہ جبری اقدام کی ایک اور کڑی سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ یہ اقدام یہاں کی فرقہ وارانہ رواداری تہذیب و تمدن تاریخ ثقافت کو نقصان پہنچانے کا گھناونا منصوبہ ہے انہوں نے کہا کہ اس مذموم سازش کو کشمیری عوام کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اس کے خلاف بھر پور احتجاج بلند کیا جائے گا ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .