۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
News Code: 381532
18 جون 2022 - 01:46
شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں ؟

حوزہ/ عصر حاضر میں، ماتم داری مجالس کا ایک حصہ بن گئی ہے بالخصوص جوانوں کی رغبت نوحہ اور ماتم کی طرف بڑھ گئی ہے۔

تحرير : مولانا سید حسن رضا نقوی

حوزہ نیوز ایجنسیماہ ذیعقدہ کی17 تاریخ حرم کریمہ اھلبیتؑ حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم زیارت کی غرض سے گیا یا اسی دوران موبائل کھولا تو مری سے ایک مواحد عزادار برادر سید مطلوب حسین نقوی کا میسج پڑھنے کو ملا جس میں سلام خیریت کے بعد ایک دو صفحات پہ مشتمل پی ڈی ایف بھی دیکھنے کو ملی جس میں مکتب تشیع کے اعتقادات میں سے بنیادی عقیدہ عزاداری سید الشہداء کے حوالے سے ایک انتہائی سمجھدار شخص نے اپنی سوچ کے مطابق اس کی نفی کرنے کی ناکام کوشش کی جس میں مغالطہ پیش کیا گیا اور کچھ شیعہ کتب سے روایات کو تروڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جو کسی اور موضوع کے لیے تھی جنہے یہاں پیش کیا گیا اور نتیجہ نکالا گیا کے شیعہ جو ماتم کرتے ہیں یہ منافی سنت محمد و آل محمد ہے بلکہ ان کی بد دعا کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے مسلمان بھائی اکثر ہم سے الجھتے رہتے ہیں کہ شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں حالانکہ نبی پاک (ص) نے ماتم کرنے سے منع کیا ہے۔
پھر شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟
اس مسلے کے حل کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ لفظ ماتم کا مطلب جان لیا جائے۔
تاکہ پتہ چلے کہ نبی پاک (ص) نے ماتم سے کیوں منع کیا ہے؟
ماتم کا مطلب ہے احتجاج کرنا یعنی جو ہوا غلط ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔اور جب کوئی اپنی طبعی موت مر جاتا ہے اس میں خدا کی مرضی شامل ہوتی ہے تو خدا کی مرضی کے خلاف کوئی احتجاج یعنی ماتم نہیں کر سکتا اور اسی لیے نبی پاک (ص) نے مردوں کے ماتم سے منع فرمایا ہے اور ملت تشیع میں بھی مردوں کا ماتم سختی سے منع ہے اور حرام ہے
اب رہا سوال کہ پھر شیعہ ماتم کیوں کرتے ہیں۔۔؟ تو ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ شیعہ شہید کا ماتم کرتے ہیں کسی مردے کا نہیں۔؟
اسکی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شہید ہوتا ہے تو ضروری ہے پہلے وہ قتل ہو اور جب کوئی قتل ہوتا ہے تو اس میں خدا کی مرضی شامل نہیں ہوتی جس کام میں خدا کی مرضی شامل نہ ہو اس کے خلاف احتجاج یعنی ماتم کر سکتے ہیں۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہوتا ہے؟
تو اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے یعنی اگر وہ چاہے تو ایک منٹ سے پہلے زمین سے تمام برائیوں کو ختم کر دے لیکن وہ ایسا کرتا نہیں۔
کیونکہ اس نے دنیا میں ایک نظام بنایا ہے اور نیکی اور بدی کے دو راستے رکھے ہیں جو نیکی کا راستہ ہے اس میں اسکی مرضی ہوتی ہے اور جو بدی کا راستہ ہے اس میں اسکی مرضی نہیں ہوتی تاکہ قیامت میں حساب لے سکے کہ دنیا میں میری مرضی والے کام کیے ہیں یا وہ کام کیے ہیں جن میں میری مرضی نہیں تھی۔
لہذا جو بے گناہ قتل کر کے شہید کر دیا جاتا ہے اس میں اللہ کی مرضی شامل نہیں ہوتی اور کسی شہید کو ظلم جبر کر کے قتل کیا گیا ہو تو احتجاج کے طور پر دنیا کو بتانے کے لیے ماتم کی اجازت ہے۔
جسکی اجازت قرآن پاک چھٹے پارے کی پہلی آیت میں موجود ہے۔
( لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم )
ترجمہ:اللہ پسند نہیں کرتا اونچی اونچی آواز میں رونا پیٹنا مگر سواے مظلوم کے۔
اور کچھ نہیں تو علامہ شبلی نعمانی کی کتاب سیرت البنیؐ اٹھا کر پڑھیں آپکو پتہ چلے گا کہ نبی پاک (ص) نے اپنی حیات طیبہ میں اپنے شہید چچا امیر حمزہ کا ماتم کروایا تھا جسکا انکار کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ان پر ظلم ہی ایسا کیا گیا تھا۔ تو میرے بھائیوں ہم بھی چودہ سو سال سے یہی تو کہ رہے ہیں ہم اپنے کسی مردے کا ماتم نہیں کرتے بلکہ ہم تو مظلوم کربلا امام حسین (ع) کا ماتم کرتے ہیں اور ہر سال دنیا والوں کو بتاتے ہیں کہ کربلا میں جنگ نہیں بلکہ ظلم ہوا تھا اب ہمارا سوال یہ ہے ایسے مسلمانوں سے جو ماتم کی مخالفت کرتے ہیں وہ یہ بتائیں کہ: امام حسین (ع) کے ماتم سے روک کر ظلم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔؟
یاظالم کے ظلم پے پردہ ڈال کے ظالم کا ساتھ دے کر اسکے ظلم میں شریک ہو رہے ہیں۔۔؟
اب فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے ان باتوں کا مطلب کسی مکتبئہ فکر کی حمایت نہیں بلکہ امام حسین (ع) کی حمایت ہےحق بات کی نشانی یہ ہے کہ جو بات حق ہوتی ہے وہ دل کو ضرور چھوتی ہے۔

ماتم داری کی تاریخ
عزاداری کی حالت میں اپنے سینے پر ماتم کرنا، صدر اسلام سے ہی مرسوم شیوہ تھا اور نقل ہوا ہے کہ بعض عورتوں نے پیغمبر اسلامؐ کی وفات پر اپنے سینے اور سر پر ماتم کیا تھا اور اس طرح عزاداری کی تھی.[1] حضرت امام حسینؑ کی شہادت کے بعد، مختلف طریقوں سے عزاداری کے رواج چل پڑے، جن میں سے ایک یہی ماتم کرنا ہے. ایسی حالت میں عزادار ماتم کرتے ہوئے خود کو امام حسینؑ کی مصیبت اور غم میں شریک سمجھتے ہیں. [2]
ماتم کرنا عرب قوم میں مرسوم تھا. [3] اور ایران میں صفوی دور میں ماتم نے مذہبی شکل اختیار کی اور اس کے بارے میں قول ہے کہ لوگ بہت زور سے اپنے سینے پر مارتے تھے.[4]
اسی طرح بعض قول کے مطابق اصفہان جو کہ صفوی شیعہ حکومت کا مرکز تھا وہاں لوگ ایک دائرے نما شکل میں کھڑے ہو کر اپنے پاؤں زمین پر مارتے تھے اور ساتھ گول گھوم کر اپنے سینے پر ماتم کرتے تھے. [5]
قاجاری دور میں، بالخصوص ناصر الدین شاہ قاجار کے دور میں عزادار خاص آداب کے ساتھ کچھ کچھ فاصلے پر حلقے بنا کر نوحہ خوانی اور ماتم داری کرتے تھے یہاں تک کہ قاجار کے محل کے اندر عورتیں بھی نوحہ خوانی اور ماتم داری کیا کرتی تھیں. [6]
عصر حاضر میں، ماتم داری مجالس کا ایک حصہ بن گئی ہے بالخصوص جوانوں کی رغبت نوحہ اور ماتم کی طرف بڑھ گئی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

حوالہ جات

١ ، مسند احمد بن حنبل ، ج۶، ص۲۷۴٢

حیدری، تاریخ و جلوہ‌ہای عزاداری امام حسینؑ در ایران، ۱۳۹۱ش، ص۱۰۸

٣ محدثی، فرہنگ عاشورا، ۱۳۸۸ش، ص۲۵۷

۴ فیگوئرا، سفرنامہ فیگوئرا، ۱۳۶۳ش، ص۳۰۹

۵۔کمپفر، در دربار شاہنشاہ ایران، ۱۳۵۰ش، ص۱۷۹

٦ ۔مشحون، موسیقی مذہبی ایران، ۱۳۵۰ش، ص۲۶ و محدثی، فرہنگ عاشورا، ۱۳۸۸ش، ص۲۵۷

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 2 =