۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
مولانا ڈاکٹر محمد راحم رضوی 

حوزہ/ اگر عمل کرنے والی چیزوں پر قائم رہیں تو زندگی گلشن و گلستان کی مثال ہوتی ہے اور ترک کرنے والی چیزوں سے پرہیز نہ کیا جائے تو زندگی تلخیوں سے بھر جاتی اور صرف یہ اثرات زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آخرت بھی متاثر ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حسب دستور قدیم امسال بھی موتھری ضلع بارہ بنکی میں چہلم شہدائے کربلا نہایت عقیدت و احترام اور جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا۔

موضع موتھری کے عزاخانہ محمد ذکی مرحوم میں سینکڑوں کی تعداد میں موجود عزاداران امام مظلوم کو خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام عالیجناب مولانا ڈاکٹر محمد راحم رضوی نے اپنے بیان کے ایک حصہ میں معنویت سے مملو زیارت جامعہ کبیرہ کی اہمیت و افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسانی زندگی میں ان اسباب علل پر روشنی ڈالی جن کے ہونے یا نہ ہونے کی بنا پر انسان کی زندگی ضرور متاثر ہوتی ہے اگر عمل کرنے والی چیزوں پر قائم رہیں تو زندگی گلشن و گلستان کی مثال ہوتی ہے اور ترک کرنے والی چیزوں سے پرہیز نہ کیا جائے تو زندگی تلخیوں سے بھر جاتی اور صرف یہ اثرات زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آخرت بھی متاثر ہوتی ہے۔

آخر میں سرکار سید الشہداء اور اہل حرم کی اسیری پر دردناک مصائب پڑھ کر مجلس کو تمام کیا ۔مجلس کا آغاز جناب ایان صاحب نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور ہردلعزیز جناب شان حیدر موسوی نے نوحہ خوانی کے فریضہ کو انجام دیا۔ عزاداران امام مظلوم کربلا نے دل کھول کر سینہ زنی کرکے جناب سیدہ کو انکے لال کا پرسہ دیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .