۹ مهر ۱۴۰۱ |۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 1, 2022
شام پر اسرائیل کا حملہ

حوزہ/ شام میں امن و استحکام کی واپسی کے درمیان، دمشق میں پیغمبر اسلام (ص) کی نواسی حضرت زینب (س) کے روضہ پر زائرین کی بڑھتی بھیڑ سے اسرائیل بوکھالا گیا ہے۔ اسی لیے وہ بار بار دمشق کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ شام جانے والے زائرین حملے کے خوف سے نہ نکلیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،شام میں امن و استحکام کی واپسی کے درمیان، دمشق میں پیغمبر اسلام (ص) کی نواسی حضرت زینب (س) کے روضہ پر زائرین کی بڑھتی بھیڑ سے اسرائیل بوکھالا گیا ہے۔ اسی لیے وہ بار بار دمشق کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ شام جانے والے زائرین حملے کے خوف سے نہ نکلیں۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق، شام کی وزارت دفاع نے ہفتے کی علی الصبح ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایک بار پھر شام میں دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دارالحکومت کے جنوب میں دیگر مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ دہشت گرد صیہونی حکومت کے اس حملے میں پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔

شام میں حضرت زینب (س) کے روضہ پر لوٹی ہوئی رونق سے اسرائیل بھوکھالا گیا،پھر کیا حملہ 5 جاں بحق

شام کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی فضائی دفاع کئی اسرائیلی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے میں کامیاب رہا۔ بتایا جارہا ہے کہ دہشت گرد اسرائیل کی طرف سے شام کے دمشق کے ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دارالحکومت دمشق میں واقع پیغمبر اکرم (ص) کی نواسی اور امام حسین علیہ السلام کی بہن حضرت زینب (س) کے روضہ ہے۔ جہاں ان دنوں میں عزاداروں کی بڑی تعداد حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کو منانے کے لیے جمع ہوئی ہے۔ وہیں اسرائیل شام میں امن و استحکام کی واپسی سمیت اس ملک میں زائرین کی مسلسل بڑھتی ہوئی نقل و حرکت سے بوکھالا گیا ہے۔ اسی لیے وہ شام جانے والے زائرین کو روکنے کے لیے بار بار دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

دریں اثنا، شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق، شام کے ایک فوجی اہلکار نے ہفتے کے روز بتایا کہ صیہونی حکومت نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور جھیل تبیریا کے شمال مشرقی جانب شہر کے جنوب میں بعض علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 شامی کی موت ہو گئی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ دہشت گرد اسرائیل کی طرف سے یہ فضائی حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شامی حکومت نے کئی بار اقوام متحدہ کو خط بھیج کر ان حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں روکنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وہ ممالک جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کے محافظ کہتے ہیں، اسرائیل کے ان وحشیانہ حملوں پر نہ صرف خاموش ہیں، بلکہ کسی نہ کسی طریقے سے وہ ناجائز صیہونی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 6 =