۵ اسفند ۱۴۰۲ |۱۴ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 24, 2024
جامعہ روحانیت بلتستان

حوزه/ دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے سنن یا قوانین الہی کا علم ہونا ضروری ہے۔ جب ان قوانین کے مطابق چلیں گے تو کامیابی یقینی ہے۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ روحانیت بلتستان کے زیر اہتمام بلتستان کے مجامع کے تعاون سے شہید مطہری کے افکار سے آگاہی کیلئے شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا ہے، ان کلاسوں سے آشنائی کی تعارفی نشست آج بروز جمعرات حسینیہ بلتستانیہ قم المقدسہ میں منقعد ہوئی۔

دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے قوانین الہی کا علم ہونا ضروری ہے، حجۃ الاسلام شیخ حلیمی

تفصیلات کے مطابق، استاد شیخ فدا علی حلیمی نے ان کلاسوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ علمیہ سمیت مختلف شعبوں میں ناکامی کی دو بنیادی وجہ ہے: زندگی میں منصوبہ بندی نہ ہونا اور نظم و ضبط کا فقدان: نظم سے مراد مختلف اجزاء کا ایسا مجموعہ ہے اور ایک ہدف کے حصول کیلئے ہر جزو کو اپنی جگہ پر رکھ کر سب کو آپس میں جوڑنے کو کہتے ہیں۔

دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے قوانین الہی کا علم ہونا ضروری ہے، حجۃ الاسلام شیخ حلیمی

شیخ فدا علی حلیمی نے مزید کہا کہ دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے سنن یا قوانین الہی کا علم ہونا ضروری ہے۔ جب ان قوانین کے مطابق چلیں گے تو کامیابی یقینی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قوانین الہی دو طرح کے ہیں: 1۔ قوانین تکوینی، 2۔ قوانین تشریعی، امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فرمان مطابق: نظمِ امر کے مصادیق میں سے ایک اپنی معلومات و علم کو منظم کرنا ہے۔ رہبر معظم انقلاب فرماتے ہیں: اگر کوئی مفید معلومات کو بڑھانا چاہتا ہے تو اسے چاہیئے ک ایک منظم صورت میں سیر مطالعاتی کو اختیار کرئے۔

استاد حلیمی نے کہا کہ انسان کیلئے ضروری ہے کہ اس کے پاس اپنی روش اور منظومہ فکری موجود ہو اور اگر انسان کے پاس کوئی طریقہ نہیں تو کسی صاحب روش اور اسلوب کی پیروی کرے۔ صاحب اسلوب افراد ہزاروں میں سے ایک ہو سکتے ہیں، لہٰذا باقی افراد کو کسی ایسی ہستی کی پیروی کرنی چاہیئے، جو منظومہ فکری رکھتی ہوں اور اس کے آثار کا مطالعہ کریں۔

دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے قوانین الہی کا علم ہونا ضروری ہے، حجۃ الاسلام شیخ حلیمی

حجت الاسلام شیخ فدا علی نے کہا کہ عصر حاضر میں شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ایسی شخصیات میں ہوتا ہے، جن کے، مجموعہ آثار بنام آثار شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی مفید ہے۔ امام خمینی شہید کے آثار کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شہید مطہری کے تمام آثار بلا استثناء خوب وکار آمد ہیں۔ رہبر معظم فرماتے ہیں: شہید مطہری کے مبانی فکری وفلسفی پر زیادہ کام کریں۔ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں،ان کے آثار کی مختلف کیٹیگری بنائیں اور فکر وعمل کے میدان میں ایک شمع کی مانند استفادہ کریں، اگر میں حوزہ علمیہ قم کا نصاب لکھتا تو یقیناً ان میں سے ایک شہید مطہری کے آثار ہوتے۔ ان کو پڑھا جائے، خلاصہ کیا جائے اور امتحان دیا جائے۔

استاد حوزہ نے شہید مطہری کے افکار کی خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شہید مطہری کے آثار کی 6 اہم خصوصیات ہیں، جن میں عام فہم ہونا، موضوعات کی وسعت، معاشرے کی ضروریات پر توجہ، بہترین طریقوں کا استعمال، تمام پہلوؤں پر توجہ اور انقلاب کی مختلف جہتوں کیلئے راستہ ہموار کرنا شامل ہیں۔

دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے قوانین الہی کا علم ہونا ضروری ہے، حجۃ الاسلام شیخ حلیمی

واضح رہے کہ جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان نے اسی ضرورت کے پیش نظر "اندیشہ مطہر"کتاب سے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ شہید کے افکار سے طلاب آگاہ ہو سکیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتب کا دقیق مطالعہ، مباحثہ اور خلاصہ نویسی ان کلاسوں کی خصوصیت ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .