۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
رضوی میوزیم

حوزہ/ حرم امام رضا(ع) کے مرکزی میوزیم کے سکّوں اورنوٹوں کے خزانے میں ایرانی اور اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کے چار ہزار سکّوں اور نوٹوں کی شناسائی کرکے انہيں لوگوں کے لئے نمائش کے طور پر رکھا گیا جن میں امویوں کے دور حکومت سے لے کر پہلویوں کے دور حکومت تک کے سکّے اور نوٹ پائے جاتے ہیں جن میں سےبعض ایسے ہیں جنہیں ہاتھوں سے اور بعض کو مشین وغیرہ کی مدد سے بنایا گیا تھا،ان تمام سکّوں کی باقاعدہ شناخت کے بعد انہیں دستاویزی صورت دی گئی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حرم امام رضا(ع) کے مرکزی میوزیم کے سکّوں اورنوٹوں کے خزانے میں ایرانی اور اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کے چار ہزار سکّوں اور نوٹوں کی شناسائی کرکے انہيں لوگوں کے لئے نمائش کے طور پر رکھا گیا جن میں امویوں کے دور حکومت سے لے کر پہلویوں کے دور حکومت تک کے سکّے اور نوٹ پائے جاتے ہیں جن میں سےبعض ایسے ہیں جنہیں ہاتھوں سے اور بعض کو مشین وغیرہ کی مدد سے بنایا گیا تھا،ان تمام سکّوں کی باقاعدہ شناخت کے بعد انہیں دستاویزی صورت دی گئی ہے ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ اس خزانہ میں سکّوں کی شناخت کی ماہر محترمہ زہرا قاسمی نے اس خزانے میں پائے جانے والے سکّوں کے مجموعہ کو مختلف تاریخی ادوار سے متعلق جن میں اموی، ایلخانی، مغل،‌ عثمانی، آلاینجو، سربداران، تیموری، گورکانیان ہندوستان، بارک زائی، صفوی، افشار، زند و قاجار اور پہلوی شامل ہیں ان کے ادوار حکومت کے ناشناختہ سکّوں کا نایاب اور قیمتی مجموعہ قرار دیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان مستند شدہ سکّوں کے ضرب اور بنانے کا کام لاہور کے ضرابخانہ دارالسلطنہ، ہندوستان میں دارالخلافہ شاہ جہان آباد، دارالسلطنہ ہرات، دارالسلطنہ کابل، دارالعباد یزد، مشہد مقدس، شہرہا‍ئے واسط، حلب، استرآباد، کرمانشاہان، قندھار، رشت، تبریز، کاشان، ایروان، اصفہان اور دیگر شہروں میں انجام دیا جاتا تھا۔
تاریخی خاندانوں سے متعلق سکّے
محترمہ قاسمی نےبتایا کہ شہاب الدین محمد شاہ جہان کے سکّے(ہندوستان کے شہر آگرا میں مشہور عمارت تاج محل بنانے والے)،محی الدین اورنگ زیب عالمگیر، معزالدین جہاندار شاہ، فرخ سر،شمس الدین محمد رفیع الدرجات،شاہ جہان دوّم اور ہندوستان کے گورکانیانی سلسلے سے محمد شاہ کے سکّے اس نایاب مجموعہ میں پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مجموعہ میں قدیمی ترین سکہ بنی امیہ خاندان کے ولید بن عبد الملک کا ہے جسے 94 ہجری قمری میں عراق کے شہر واسط میں ضرب کیا(بنایا) گیا تھا یا ڈھالا گیا تھا ۔
قاجاریوں کے دورحکومت سے پہلویوں کے دور حکومت تک کے مشینی سکّے
محترمہ قاسمی کا یہ کہنا تھا کہ اس مجموعہ کے مشین سے ڈھالے گئے سکوں میں ناصر الدین شاہ کے آخری دور حکومت کے سکے،مظفر الدین شاہ،محمد علی شاہ اور احمد شاہ قاجار کے دور کے ڈھلے ہوئے سکے ہیں جنہیں تہران اور لنینگراڈمیں ضرب کیا گیا اس کے علاوہ پہلوی اوّل اور پہلوی دوّم کے سکے بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مشین سے ضرب کئے گئے سکّوں کی تاریخی غلطیوں کا ذکر کرتے ہوئے جس میں سکّوں کی تاریخ،نمبر،تصویر اور وزن سے متعلق غلطیوں کو دلچسپ نکتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے ان سکوں کی قدر و قیمت مزید بڑھ گئی۔
محترمہ قاسمی نے سکّوں میں پائی جانے والی غلطیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سکّوں کو بنانے کے مراحل میں مختلف غلطیاں ہو جاتی تھیں جن کی وجہ سے سکّے ایک دوسرے سے نہیں ملتے تھے اس طرح کے سکّوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ قاجاریوں کے دورحکومت میں بنائے گئے مشینی سکّوں میں سب سے زیادہ غلطیاں پائی جاتی ہیں اس قیمتی مجموعہ میں ایک تاریخی غلطی مظفر الدین شاہ قاجار کے دورحکومت میں بنائے گئے چاندی کا دوقرانی سکہ ہے جسے 1321 ہجری قمری میں بنایا گیا اس سکّہ پر جو 13201 تاریخ غلطی سے درج کی گئی ہے ۔
سکّوں کی شناخت کیسے کریں
انہوں نے سکّوں کی شناخت کے لئے کیٹلاگ کا بین الاقوامی معیار Standard Catalog of World Coins کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیٹلاگ میں دنیا کے تمام ممالک کے سکّوں کانگریزی میں AسےZ ترتیب کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے جس میں ترتیب کے ساتھ تمام سکّوں کی معلومات ان کی تصاویر کے ساتھ موجود ہیں یہ کیٹلاگ افغانستان سے شروع ہوتا ہے اور زمباوے پر ختم ہوتا ہے ۔
محترمہ قاسمی نے کہا کہ قدیمی سکّوں کی قدر و قیمت ان معلومات میں ہوتی ہے جو ان سکّوں سے حاصل کی جاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ تمام تاریخی نوادرات بشمول سکے قومی ورثہ کے طور پر جانے جاتے ہیں اس لئے ہر شہری کو چاہئے کہ وہ ملکی اور قومی ورثہ کے تحفظ پر توجہ دے اور اپنی گذشتہ شناخت اور ماضی کے کسی بھی حصہ کو نابود ہونے سے بچائے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام محققین،ماہرین اورطلباء جن کے آرٹیکلزیا تھیسزز وغیرہ سکّوں سے متعلق ہیں وہ حرم امام رضا علیہ السلام کے مرکزی میوزیم میں واقع سکّوں ،ٹکٹوں اور نوٹوں والے خزانے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .