۲ اسفند ۱۴۰۲ |۱۱ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 21, 2024
News ID: 392163
25 جولائی 2023 - 08:36
تصاویر/ بازدید نماینده ولی فقیه در استان هرمزگان از هیئات مذهبی دهستان سرخون

حوزہ|کسی بھی عمل سے اس کے مطلوب اور مقررہ نتائج حاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ اس عمل کو اس کے متعین قواعد و آداب کے ساتھ انجام دیا جائے۔ ظاہر ہے عزاداری سیدالشہداء کو اس اصول سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا عزاداری سے بھی اس کے مطلوب نتائج حاصل کرنے کے لئے اس کے دوران بعض اصول و آداب کی پابندی لازم ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

کسی بھی عمل سے اس کے مطلوب اور مقررہ نتائج حاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ اس عمل کو اس کے متعین قواعد و آداب کے ساتھ انجام دیا جائے۔ ظاہر ہے عزاداری سیدالشہداء کو اس اصول سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا عزاداری سے بھی اس کے مطلوب نتائج حاصل کرنے کے لئے اس کے دوران بعض اصول و آداب کی پابندی لازم ہے۔ یہ اصول و آداب کیا ہیں؟ انہیں کہاں سے اخذ کیا جائے؟ اس مسئلے پر غور و فکر کہ بعد ہم تین ایسے مصادر کا تعین کر پائے ہیں جن سے عزاداری منانے کے اصول و قواعد اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ یہ تین مصادر ہمیں عزاداری کے ذریعے پیش کیے جانے والے مضمون، اس کے منانے کے انداز و کیفیت اور اس کے مراسم کی صحت و درستگی کی حدود سے روشناس کرتے ہیں۔ یہ مصادر درج ذیل ہیں۔
1۔ امام حسین ابن علی (ع) کی تحریک کے مقاصد2۔ عزاداری کے بارے مین آئمہ اطہار (ع) کی ہدایت3۔ عزاداری کے مراسم کے بارے میں علماء کی ہدایات و نصائحآئیے اس حوالے سے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔
1۔ حسین ابن علی (ع) کی تحریک کے مقاصد:سیدالشہداء کے فرض منصبی کو ملحوظ رکھا جائے، آپ کی تحریک کا واقعاتی جائزہ لیا جائے اور اس تحریک کے دوران آپ کے فرامین، مکتوبات اور اقدامات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کہ امام عالی مقام کی تحریک امت کے سیاسی و اجتماعی نظام کی اصلاح کے لئے تھی۔ امام عالی مقام، بنی امیہ کے اقتدار کے نتیجے میں شریعت کی پامالی، حدود الہی کے تعطل اور عوام کے ساتھ ظلم و ناانصافی کا مشاہدہ کررہے تھے۔ آپ علیہ السلام دیکھ رہے تھے کہ امت کا اقتدار یزید جیسے فاسق و فاجر شخص کے حوالے کردیا گیا ہے، امت کے امور ایک ایسے شخص کے سپرد کردیئے گئے ہیں جو کسی طرح اس عہدے کا اہل نہیں اور بیعت کے ذریعے اس کے اقتدار کی تصدیق دراصل اسلام کی موت کے پروانے پر دستخط کے مترادف ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس صورتحال پر خاموشی بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ لہذا امام عالی مقام نے یزید کے خلاف تحریک شروع کی اور اپنی حکمت عملی سے اسلام کی نابودی کے خطرے سے تجات دلائی۔

2۔ عزاداری کے بارے مین آئمہ اطہار (ع) کی ہدایت:روایات سے ظاہر ہے آئمہ معصومین اپنے اصحاب اور ماننے والوں کو عاشورہ محرم غم و اندوہ، حزن و ملال کے ساتھ گزارنے کی ہدایت کرتے تھے، مصائب کربلا کے بیان اور انہیں سن کر اشک فشانی کی تاکید کرتے تھے، ان ایام میں ابا عبداللہ الحسین کے مصائب کے بیان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ آئمہ اطہار اپنے گھروں میں ان مصائب کو سننے، سنانے کا اہتمام کرتے، یہ مصائب سن کر آنسو بہاتے اور اس اشک فشانی پر انتہائی اجر و ثواب اور آخرت میں نجات کی نوید دیتے۔

3۔ عزاداری کے مراسم کے بارے میں علماءکی ہدایات و نصائح:علمائے امامیہ ایام عزا کے خصوصی اہتمام کے ساتھ ساتھ عزاداری کی رسوم کو غیر شرعی امور اور نامناسب اخراجات سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی کوشاں رہے ہیں۔ لہذا جید علماء نے عزاداری میں صرف ان امور کی شمولیت کو جائز قرار دیا ہے جن سے کسی قسم کے ضرر اور نقصان کا خوف نہ ہو۔ یعنی نہ تو وہ مذہب کے لئے نقصاندہ ہوں اور نہ جسمانی نقصان کا باعث ہوں اور جن پر عزاداری کا عنوان صادق آتا ہو۔ یعنی وہ اظہار غم و اندوہ کے منافی نہ ہو۔ اسی طرح یہ امور مذہب کے تمسخر کا موجب بھی نہ ہوں۔ یعنی انہیں دیکھ کر لوگوں کو مذہب کا مذاق اڑانے کا موقع نہ ملے، نیز مسلمانوں کے درمیان نفرت و عداوت کا سبب نہ ہوں۔
حتی علماء نے ایسے مباح امور کو انجام دینے سے بھی اجتناب کی تاکید کی ہے جنہیں دیکھ کر مخالفوں کو خوامخواہ سوال و اعتراض اٹھانے اور شکوک و شبہات پھیلانے کا موقع ملے۔ اس تین مصادر کی روشنی میں جو اصول وضع کیے جاسکتے ہیں، وہ یہ ہیں اور ان پر توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔
٭ عزاداری پر رنج و الم اور سوگواری کی فضا طاری ہو۔ اس کے اجتماعات اور رسومات دیکھنے والے پر غم و اندوہ کا تاثر پیدا کریں تاکہ ایک طرف اس کے ذریعے اسلام کی خاطر اٹھائی جانے والی اہل بیت (ع) کی مصیبت اجاگر ہو اور دوسری طرف اس فضا میں بیان کیا جانے والا پیغام سننے والوں کے دل کی گہرائی میں اتر جائے۔
٭ عزاداری محض غم کی داستان کا بیان نہیں بلکہ اس کا پیغام مسلمانوں کے اجتماعی اور انفرادی معاملات میں دین کی حکمرانی کا قیام ہے۔ لہذا اس کے دوران، خطیبوں کی تقاریر اور شعراء کے کلام میں امام حسین ابن علی (ع) ان کے اصحاب، اہل حرم کے مصائب کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کی ترویج اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات و مسائل کے بارے میں بھی گفتگو ہو۔ تقاریر اور اشعار ایسے مواد پر مشتمل ہوں جو عزاداروں کو وقت کے حسین اور دور حاضر کے یزید کی پہچان کرائیں، نہ صرف پہچان کرائیں بلکہ انہیں اس حسین کی مدد نصرت اور اس یزید کی مخالفت پر کمر بستہ بھی کریں۔ عزاداری کا بنیادی اور اصل مقصد بھی یہی ہے۔ حسین ابن علی (ع) اپنی تحریک کے ذریعے مسلمانوں میں ایک ایسے مکتب کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے جس کے ماننے والے مسلمانوں کے امور و معاملات سے کسی طور غافل اور لاتعلق نہ ہوں، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے رحجانات اور ان کے خلاف ہونے والے اقدامات سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ انہیں ناکام بنانے کے لئے اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہ کریں۔
٭ عزاداری کے اجتماعات اور رسموں میں شرعی اصول اور دینی اقدار پیش نظر رہیں۔ کوئی ایسا عمل انجام نہ دیا جائے جو احکام دینی کے خلاف اور ان سے متصادم ہو، دین کو کمزور کرنے والا ہو، مسلمانوں میں انتشار و افتراق پھیلانے کا موجب ہو، اور ہمارے مذہب کو تماشا بناتا ہو۔
چند تجاویزمذکورہ اصولوں کی روشنی میں اپنے یہاں عزاداری کے بارے میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں:
٭ سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک مسلمانوں کو اموی اقتدار سے نجات دلانے، شریعت کی بالادستی، اسلامی احکام کے نفاذ اور اپنے حق کی بازیابی کے لئے تھی۔ لہذا ہماری مجالس، ہمارے نوحے اور مرثیے ایسے مضامین پر مشتمل ہوں جو لوگوں میں ان مقاصد کا شعور پیدا کریں، ان مقاصد کی اہمیت ان کے اذہان میں بٹھائیں اور ان اہداف سے وابستہ کرکے انہیں ان کے حصول کے لئے متحرک کریں۔ یقین جانیئے اگر ہماری عزاداری ان خطوط پر منعقد ہو تو اس کے ذریعے بڑی تعداد میں ایسے افراد کی تربیت کی جاسکتی ہے جو اسلام اور مسلمانوں اور خود ہماری ملت کو موجودہ زوال و انحطاط کی اس کیفیت سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کو اپنا دینی فریضہ سمجھ کر انجام دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ پہلے سے ان مقاصد کے لئے متحرک قوتیں بھی عزاداری کے اجتماعات کو ستائش و تحسین کی نظر سے دیکھ کر اس میں شمولیت پر آمادہ ہوں گی۔
٭ عزاداری کی رسوم اور ان کے اجتماعات سے رنج و الم اور سوگواری ظاہر ہو۔ سیاہ لباس کے ساتھ ساتھ ہمارے چہرے مہرے بھی غم و اندوہ کا اظہار ہو۔ ہم جہاں سے گزریں دیکھنے والوں کو محسوس ہو کہ اپنی کسی عزیز ترین ہستی کے غم مین ڈوبے ہوئے لوگ ہیں۔ لیکن اگر کے برعکس ہم شو و غل مچاتے، ہنستے ٹھٹھے لگاتے ہوئے گزریں تو لوگوں پر یہ تاثر نہیں پڑے گا۔
٭ عزاداری کے دوران شرعی اصولوں کی پابندی کا سنجیدہ اہتمام ہونا چاہیے۔ تاکہ اس کے اجتماعات پن مذہبی رنگ غالب رہے۔ مثلا مشاہدہ ہے کہ بہت سی مجالس کا وقت مقرر کرتے ہوئے اوقات نماز کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس کی وجہ سے بعض مجالس عین نماز کے وقت شروع ہوتی ہیں اور بسا اوقات مجالس اور جلوس کے درمیان نماز کا وقت آجاتا ہے۔ بلکہ کچھ جلوس تو عین اس وقت برآمد ہورہے ہوتے ہیں جب مسجد سے اذان کی آواز بلند ہورہی ہوتی ہے۔ اس طرح دیکھنے والے غیروں پر عزاداروں کی دینی احکام سے بے توجہی کا تاثر پڑتا ہے اور اپنے لوگوں میں نماز سے تساہل کا رحجان تقویت پاتا ہے۔ جبکہ آئمہ اطہار نے نماز میں سستی کو انتہائی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔
٭ جلوس عزا کے دوران ہر قسم کے غیر شرعی اور غیر مہذب اعمال سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ جلوس مقصد حسین کی تشہیر کے لئے نکالے جاتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر لوگوں میں امام حسین سے محبت اور ان کے مکتب سے لگاؤ پیدا ہونا چاہیے ۔ لیکن اگر ان کے دوران غیر شرعی، غیر مہذب اور لوگوں کے لئے باعث اذیت و آزار کام ہوں تو لوگوں پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔
٭ اسی طرح جلوسوں کے دوران غیر ضروری طور پر راستے نہیں بلاک کرنے چاہئیں۔ ایسے مقامات سے جلوسوں کو مقررہ وقت اور ہر ممکن سرعت کے ساتھ گزارنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
٭لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں بھی ضرورت اور لوگوں کے آرام و آسائش کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ بالخصوص ایسے اوقات میں ضرور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے جن مین لوگ عام طور پر آرام کرتے اور طالب علم مطالعے میں مصروف ہوتے ہیں۔
٭ عزاداری حسینی پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ ہے۔ لہذا اس کے دوران ہمارا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں رکاوٹ بنے۔ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کے کسی طور انہیں اپنا ہمنوا نہیں بنایا جاسکتا۔ لہذا دوسروں کو کچوکے لگانے والی گفتگو خواہ وہ خفیف اشاروں کنایوں کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو، حسینی پیغام کو عام کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ایسی گفتگو سے پرہیز دینی تقاضا بھی ہے اور تبلیغ کی حکمت بھی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .