۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
تاثرات بابت کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول

حوزہ/ " مولانا سید حسن عباس فطرتؔ ہلوری: مدرسۃ الواعظین لکھنؤکا نام آتے ہی پچاس ساٹھ سال پہلے کے لکھنؤ کا نقشہ سامنے آجاتا ہے " " مولانا سید محمد جابر جوراسی واعظ: اس ادارہ (مدرسۃ الواعظین لکھنؤ)نے افریقہ کے سنگلاخ صحرا تک میں دقتیں جھیل کے دین پھیلایا"

تحریر: مولانا شیخ ابن حسن صاحب قبلہ املوی واعظ

تاثرات بابت کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول

"مد رسۃ الواعظین لکھنؤکا نام آتے ہی پچاس ساٹھ سال پہلے کے لکھنؤ کا نقشہ سامنے آجاتا ہے: مولانا سید حسن عباس فطرتؔ ہلوری"

"اس ادارہ (مدرسۃ الواعظین لکھنؤ)نے افریقہ کے سنگلاخ صحرا تک میں دقتیں جھیل کے دین پھیلایا:مولانا سید محمد جابر جوراسی واعظ"

مدرسۃ الواعظین ایک جھلک ماضی کی

تقریظ از قلم حقیقت رقم : معروف صحافی و بزرگ عالم دین

تاثرات بابت کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول

حجۃ الاسلام عالیجناب الحاج مولانا سید حسن عباس صاحب قبلہ فطرتؔ ہلوری(طاب ثراہ) ۔

مد رسۃ الواعظین لکھنؤکا نام آتے ہی پچاس ساٹھ سال پہلے کے لکھنؤ کا نقشہ سامنے آجاتا ہے۔ایک پر سکون دنیا ،خاموش علمی اشتغال ،عالم و فاضل طلاب کے قدموں کی چاپ،تحقیق و تلاش کی سر گوشیاں ،سناٹے کی حکومت،علامہ عدیل اختر صاحب طاب ثراہ کا پر نور جلوہ ،کتاب خانے کی رونق،مولوی وزّن صاحب کا مسکراتا چہرہ،خوشنما حوض کے ارد گرد سبزہ کی چادر ،پھر اس خموشی کو توڑتی ہوئی مولوی سمّن صاحب کی کھنکتی آوازجو الواعظ صفدر پریس کی کھٹ پٹ سے آگے نکل جاتی ۔مسلم ریویو کا بوڑھا دفتر،لسان الملۃ مولانا آغا مہدی صاحب کا نکھرا و تازہ دم الواعظ،مہمان خانہ آباد،طلاب ناظمیہ و سلطان المدارس شیر و شکر۔یہ ہیں مولانا اختر حسین صاحب لاہوری د راز قد،نفاست میں ڈوبے ہوئے۔ چشمہ دور سے چمک رہا ہے۔اپنی دھن میں مگن کسی غیر سے مخاطب بھی نہیں ہوتے انہی کے ساتھی ہیں مولانا غلام عسکری صاحب صاف دل صاف لباس بلندی اقبال بشر ے سے ظاہر ہر ایک کی دلدہی استاد کے نقش پا پر نظر دوستوں کے دوست ۔مولوی کاظم رضا صاحب صدرالافاضل پر مزاح ،طبعاً خاموش،سب کے چہیتے۔ان ہی لوگوں کے دم سے مدرسۃ الواعظین زندہ و تابندہ تھا۔تمام علماء و فضلاء کا منظور نظر تھا۔کبھی یہاں آتے تو لمبی مدت تک رہ جاتے ۔کتاب خانہ نوادرات سے معمور تھااس کے ہوتے ہوئے کسی اور دلچسپی کی گنجائش کہاں۔انجمن موئید العلوم بھی فعال و متحرک تھی ہر سال چھوٹے بڑے رسالے شائع ہوتے اور عام ہوجاتے۔بڑے بڑے جلسے کے لئے مدرسۃ الواعظین ہی کا انتخاب ہوتا۔سارے ھند و پاک کے علماء افاضل و مقررین سے پورا مدرسہ جگمگا جاتا تھا۔

بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس ادارۂ عالیہ کی تاریخ لکھی جا رہی ہے جو نئی نسل کو روشنی دے گی اور بزرگوں کو مسرت و بصیرت۔یہ کام بہت مفید و اہم تھا اور اسے انجام تک پہونچانے میں جناب مولانا ابن حسن املوی(صدرالافاضل، واعظ) نے جس دقت نظر اور ہمت و محنت سے کام لیا ہے اس کی داد صرف خاموشی سے دی جا سکتی ہے۔ والسلام ۔

سیدحسن عباس فطرت ؔ

( ماخوذ از کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول،صفحہ ۱۴)

تقریظ

از قلم حقیقت رقم خطیب قادر حجۃ الاسلام عالیجناب مولانا سید محمد جابرجوراسی صاحب قبلہ واعظ مدظلہ العالی (مدیر ماہنامہ اصلاح لکھنؤ)

تاثرات بابت کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول

دعوت الی اللہ احقاق حق و ابطال باطل ایک ایسا فریضہ ہے جس کو ادا کرنے کے لئے گروہ انبیاء علیہم السلام کو متعین کیا گیا۔ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اخلاق حسنہ کے ذریعہ کار تبلیغ کچھ اس طرح انجام دیا کہ کم عرصہ میں زیادہ علاقہ میں دین پھیل گیا۔ رخصت نبوت کے آخری ایّام میں پیغمبرؐ نے میدان غدیر خم میں اپنے نائبین کا اعلان کردیا جن میں بالخصوص امیر المومنینؑ کی ذات گرامی تھی جن کی ولایت خاصّہ کو حاضرین پر پیش کیا گیا۔ امامت کی آخری فرد حضرت قائم آل محمدؐ کی غیبت جب ضروری ہوگئی تو فریضۂ تبلیغ و ہدایت علماء کے ہاتھوں میں آیا جن کی نشاندہی حجت آخر ؑ نے فرمادی یہ علماء معصوم تو نہیں لیکن ’’صائناً لنفسہ ‘‘ کے سند یافتہ رہے ہیں۔

بحمد اللہ انہیںعلماء کا سلسلہ دور ِحاضر تک یکے بعد دیگرے برقرار ہے۔ ماضی میںایسے ہی علماء کی سرپرستی اور درد قومی رکھنے والے رؤساء کی معاونت سے بر صغیر کا عظیم تبلیغی ادارہ ’’مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘ ۱۹۱۹ء؁ میں عالم وجود میں آیا۔ جس کی ایک زرّیں تاریخ رہی ہے۔ اس ادارہ نے افریقہ کے سنگلاخ صحرا تک میں دقتیں جھیل کے دین پھیلایا اور یہاں کے مبلغین نے واقعاً دلسوزی کے ساتھ یہ اہم کام انجام دیا۔ اسی مدرسۃ الواعظین کی تاریخ مرتب کرکے الحاج مولانا ابن حسن املوی صاحب قبلہ واعظ نے اپنی نوعیت کا ایک اہم کام انجام دیا ہے۔ انشاء اللہ آنے والی نسلیں مستقبل میں اس سے استفادہ کرتی رہیں گی۔

سید محمد جابر جوراسی

( ماخوذ از کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول،صفحہ ۱۵)

تاثرات بابت کتاب ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘جلد اول

نام کتاب : تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ۔(جلد اول)

مؤلّف : عمدۃ الواعظین عالیجناب الحاج مولانا شیخ ابن حسن صاحب قبلہ املوی واعظ۔

پروف ریڈنگ : حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا شیخ مسرور فیضی املوی قمی

ناشر : مرکز بین المللی نور میکروفیلم ۔۱۸۔تلک مارگ۔ دہلی نو۔ھند۔با ہمکاری مدرسۃ الواعظین لکھنؤ

کمپیوٹر کمپوزنگ : شیخ محمد وصی اختر معروفی 9305652568

ایڈیشن : پہلا

تعداد کتاب : پانچ سو( 500)

تعداد صفحات : 800

تقطیع (سائز) : 20X30/8

سن اشاعت : دسمبر ۲۰۱۴ء؁

مطبوعہ : مرکز بین المللی نور میکروفیلم ۔۱۸۔تلک مارگ۔ دہلی نو۔ھند

نوٹ :کتاب ’’ تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ ‘‘ 20X30/8 سائز کی تین ضخیم جلدوں میں مولانا ابن حسن املوی (صدرالافاضل،واعظ) نے مرتب کیا ہے جو انٹرنیشنل نورمائکرو فلم ،ایران کلچر ہاؤس ،نئی دہلی کی جانب سے نہایت دیدہ زیب و خوشنما ز یور طبع سے آراستہ و پیراستہ شائع ہوچکی ہیں۔

{ خواہشمند حضرات درج ذیل پتہ پر رابطہ کرسکتے ہیں:۔ }

ث مرکز بین المللی میکروفیلم نور۔خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران،۱۸،تلک مارگ،نئی دہلی۔ہند

Phone:0091-11-23383116,E-Mail:noormicro@yahoo.com / indianmanuscript@gmail.com

http://indianislamicmanuscript.com

تبصرہ ارسال

You are replying to: .