۱۴ اسفند ۱۴۰۲ |۲۳ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 4, 2024
عمدۃ العلماء مولانا کلب حسین نقوی

حوزہ/ پیشکش: دانشنامہ اسلام، انٹرنیشنل نورمائکروفلم سینٹر دہلی کاوش: مولانا سید غافر رضوی چھولسی و مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی | خاندان اجتہاد کے چشم و چراغ مولانا سید کلب حسین نقوی عرف کبن نصیرآبادی 13 فروری سنہ 1894ء میں خاندان اجتہاد میں سرزمین لکھنؤ پر پیدا ہوئے۔ آپ کا تاریخی نام "علی اختر" تھا۔ آپ کے والد "قدوۃ العلماء مولانا سید آقا حسن" علماء لکھنؤ کے درمیان بڑی شہرت کے مالک تھے۔ آپ کے نانا "مولانا میر آغا" بھی لکھنؤ کے بڑے فقہا میں شمار ہوتے تھے۔

عمدۃ العلماء نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے علمی ماحول میں اپنے والد اور دیگر افراد سے حاصل کی۔ آپ کے والد آقا حسن نے ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ سلطان المدارس میں داخل کرا دیا جہاں آپ کا شمار مدرسے کے خوش اخلاق، شاعر اور ذہین طلباء میں ہوتا تھا۔ آپ نے مدرسے کے اساتذہ سے کسب فیض کرکے صدرالافاضل کی سند حاصل کی۔

مولانا کلب حسین نے مدرسہ سے فراغت کے بعد عراق کا رخ کیا، نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ کے اکابر علماء سے تین سال کسب فیض کرنے کے بعد اپنے وطن لکھنؤ واپس آگئے۔ آپ کے سلطان المدارس کے اساتذہ میں مولانا سید محمد رضا فلسفی، آیت اللہ سید ہادی، باقرالعلوم آیت اللہ سید محمد باقر رضوی وغیرہ اور گھر پر اپنے والد قدوۃ العلماء آقا حسن، ظھیر الملت آیت اللہ ظھور حسین، عمدۃ العلماء مولانا سید کاظم، اشرف الحکماء حکیم سید علی وغیرہ سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ اپنے والد کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے۔ خدا نے آپ کو قوت بیان اور ملکہ خطابت سے نوازا تھا اس لئے آپ نے منبر کو زینت بخشی اور دن بدن ترقی کرتے گئے۔ اس وقت شیعہ خطابت کے افق پر شمس العلماء خطیب اعظم مولانا سبط حسن، مولانا محمد رضا فلسفی اور مولانا محمد حسین محقق ہندی جیسے اکابر ضو فشاں تھے۔ مولانا کلب حسین نے مطالعہ اور محنت سے ان بزرگوں کی موجودگی میں شہرت حاصل کی۔

مرجعیت میں آیت اللہ نجم الملت اور ناصرالملت کے بعد آیت اللہ کلب حسین منفرد شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کی سب سے بڑی مصروفیت مجالس تھیں، برصغیر کے گوشے گوشے میں مجالس خطاب فرمائیں۔ افریقہ، عراق، ایران اور دیگر مقامات پر آپ کی عزت اور تمام شیعہ ان کو عقیدت کا مرکز مانتے تھے۔ آپ علم، ذہانت، عمل، تقدس، بے غرضی، خلوص، ایثار، حسن اخلاق و حسن کردار کی حسین مثال تھے۔ آپ نے قوم کے فکری، اخلاقی، علمی اور اقتصادی معیار کو بلند کرنے کے لئے رسالے نکالے جن میں الناطق، بلاغ اور سحاب کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ بیت المال ادارہ اقتصادیات اور دیگر اداروں کے لئے بنیادی کام کیے۔ جامعہ ناظمیہ، یتیم خانہ، سلطان المدارس، شیعہ کانفرنس اور سرفراز اخبار جیسے اداروں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

مولانا کلب حسین محنتی انسان تھے وہ سینکڑوں مسئلو ں پر فتوے اور مضامین لکھتے تھے، تالیفات میں آپ کی کتاب "مجالس الشیعہ" کا نام لیا جا سکتا ہے۔

اللہ نے آپ کو پانچ فرزند عطافرمائے جن کے نام کچھ اسطرح ہیں: مولانا کلب عابد نقوی، مولانا ڈاکٹر کلب صادق ، سید کلب ہادی، سید کلب باقر اور سید کلب محسن نقوی۔

آخرکار یہ علم و عمل کا چمکتا گوہر 6 اکتوبر 1963 عیسوی میں خاموش ہوگیا۔ سینکڑوں یتیم اور بیوہ لاوارث ہوگئے قوم کا قوی مرکز ختم ہوگیا، شام غریباں کا پہلا ذاکر رخصت ہوگیا۔ آپ کی رحلت کی خبر بجلی کی مانند پھیل گئی۔ چاہنے والوں کا مجمع آپ کے شریعت کدہ پر امنڈ پڑا۔ تمام عالم تشیع میں کہرام برپا ہو گیا۔ جنازہ غسل و کفن کے لئے دریائے گومتی پر لے جایا گیا۔

آپ کی تشیيع جنازہ میں ہندو مسلم شیعہ سنی اور دیگر مسالک کے لوگوں نے شرکت کی۔ جنازے کے ساتھ بے شمار ماتمی دستے ماتم کرتے ہوئے جنازہ میں شریک ہوۓاور مجمع کی ہزار آہ و بکا کے ہمراہ حسینیہ غفرانمآب میں زیر منبر سپرد خاک کردیا گیا۔

ماخوذ از : نجوم الہدایہ، تحقيق و تاليف: مولانا سيد غافر رضوی فلکؔ چھولسی و مولانا سيد رضی زیدی پھندیڑوی، ج 2، ص 145، دانشنامۂ اسلام، انٹرنيشنل نورمیکروفلم دہلی، 2023ء

ویڈیو دیکھیں:

https://youtu.be/V8HQY4K2vY8?si=Xb0CQ62l18JafL33

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .