۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
انٹرویو؛ حجت الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان نے کہا: پاکستان میں آنے والے طلاب کی جو مشکلات مشاہدہ کی جا رہی ہیں ان میں سے ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ ان کے پاس فقہ و اصول سمیت مختلف سبجیکٹس کی معلومات تو ہوتی ہیں لیکن وہ کئی مسائل سے عملی  طور پر ناآشنا ہوتے ہیں یعنی جس چیز کی مہارت عملی طور پر ان کے پاس ہونی چاہئے تھی اس کی کمی ہوتی ہے۔ جسے برطرف کرنے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے ایران تشریف لائے معروف عالم دین، نمائندگی المصطفی پاکستان میں ادارہ ارتباطات اور امور بین الملل کے مسئول، مدرسہ علمیہ "جامعۃ الفرات" کے مُشرف اور مرکز افکار اسلامی پاکستان کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان نے حوزہ نیوز کے نامہ نگار کو دئے گئے ایک انٹرویو میں اپنی دینی و مذہبی فعالیت اور جامعۃ المصطفی میں داخلہ کے مراحل سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ جسے (حصہ اول) قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

حوزہ: براہ کرم اپنا تعارف کرائیں اور اپنی موجودہ فعالیت کے بارے میں آگاہ کریں؟

حجت الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سب سے پہلے تو میں آپ احباب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، حوزہ نیوز اور بطورِ خاص شعبہ اردو کا کہ آپ نے یہ موقع فراہم کیا کہ میں آپ کے مرکزی دفتر اور آپ کی فعالیت کو نزدیک سے دیکھ سکوں اور اس سے بہتر آشنائی ہو۔ اسی طرح پاکستان میں انجام شدہ اپنے امور کو آپ کے ساتھ شیئر کیا جا سکے۔ اس فرصت کے مہیا کرنے پر میں آپ سب احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میں نے حوزہ علمیہ قم میں فقہ و اصول میں مدرسہ حجتیہ قم سے کارشناسی ارشد کی تھی اور 2009ء سے پاکستان میں مشغول خدمت ہوں۔

پاکستان میں جامعۃ المصطفی العالمیہ کی نمائندگی کی تاسیس کا شرف مجھے حاصل ہے کہ جب سے جامعۃ المصطفی العالمیہ کی نمائندگی کی بنیاد رکھی گئی، اللہ تعالی نے وہ سعادت بھی ہمارے حصے میں رکھی۔ اسی وقت سے ہم جامعۃ المصطفی میں فعالیت انجام دے رہے ہیں۔ ابتدا میں کلی امور جیسے نمائندہ تام الاختیار ہونا اور سارے امور کی سرپرستی وغیرہ شامل تھے اور اب جبکہ نمائندگی کے امور کافی وسعت اختیار کر چکے ہیں تو میری ذمہ داری "ادارہ ارتباطات اور امور بین الملل" میں ہے۔

دینی طلاب کا تعلیمی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ عملی میدان میں بھی ضروری مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے

واضح رہے کہ ہمارے پاس پانچ شعبے ہیں: آموزش، پژوہش ، فرہنگی تربیتی، اداری مالی اور شعبہ ارتباطات و امور بین الملل اور میں اس شعبہ کا سربراہ ہوں۔ المصطفی میں ہمارے انڈر فارغ التحصیلان کے امور ہیں، یونیورسٹیز کے امور ہیں، اہل سنت کے امور ہیں اور تبلیغی و مبلغین کے امور ہیں اور اسی طرح خود المصطفی کی رسمیت بخشی کے حوالے سے جو کام ہوتا ہے، المصطفی کی معرفی ہے، مختلف نہادوں سے المصطفی کا رابطہ وغیرہ ہے یہ سب کلی امور میرے سپرد کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ وفاق المدارس کی جو مرکزی کابینہ ہے اس کا میں سیکرٹری نشرواشاعت ہوں اور مرکز افکار اسلامی میں بھی ہم قم ہی سے منسلک تھے اور اب بھی مرکز افکار اسلامی کی ذمہ داری بھی ہمارے پاس ہے اور اس کی سعادت بھی ہمیں حاصل ہے۔

ملی یکجہتی کونسل جو پاکستان کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے جس میں غالبا 28 مذہبی جماعتیں ہیں۔ البتہ اس میں بھی مختلف کمشنز ہیں، ایک کمشن ہے "خطبات جمعہ کمشن" جیسے یہاں پر "ستاد جمعہ" ہے تو ملی یکجہتی کے اندر اس خطبات جمعہ کمشن میں وفاق المدارس کی طرف سے میں نمائندگی کر رہا ہوں۔

اس کے علاوہ سرگودھا شہر میں ہمارا مدرسہ علمیہ بنام "جامعۃ الفرات" ہے جو جامعہ المصطفی کے تحت اشراف مدارس میں سے ہے، اس کا میں "مُشرِف" ہوں۔ اس کے علاوہ بھی کافی سارے امور ہیں جن میں خداوند متعال نے خدمت کی توفیق دے رکھی ہے۔

یہاں حوزہ علمیہ ایران کے پاکستان میں حوزات علمیہ اور اسی طرح مختلف اہل تشیع اور اہل سنت علماء و مدارس کے ساتھ روابط برقرار کرنا یا سرپرست حوزہ علمیہ وغیرہ جیسی شخصیات کے پیغامات ان تک پہنچانا اور اسی حوزہ علمیہ کی صد سالہ تقریبات ہونے والی ہیں اس کی مقدماتی نشست ایک کراچی میں اور ایک اسلام آباد میں ہوئی، اس کی میزبانی کی سعادت بھی ہمیں حاصل تھی۔ جس میں 250 سے زائد علماء کرام نے شرکت کی تھی۔

ہمارا پاکستان میں سات تعلیمی اداروں کے ساتھ رابطہ ہے، جن سے المصفطی نے m-o-u سائن کی ہے جس میں پانچ یونیورسٹیز ہیں۔ جن میں پہلے نمبر پر قائداعظم یونیورسٹی ہے، ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور ہے، الحمد اسلامک یونیورسٹی ہے، جس کا اسلام آباد میں بھی کیمپس ہے اور کوئٹہ میں بھی ہے، اسی طرح دانشگاہ منہاج اور جامعہ نعیمیہ بھی ہے۔

دینی طلاب کا تعلیمی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ عملی میدان میں بھی ضروری مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے

حوزہ:جو طلاب جامعہ المصطفی سے فارغ التحصیل ہو کر جاتے ہیں انہیں ان تعلیمی اداروں یا المصطفی سے m-o-u (مفاہمت کی یادداشت) سائن ہونے کا کیا فائدہ ہو گا؟

حجت الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان:

میں نے جیسے پہلے بھی عرض کیا کہ قائداعظم یونیورسٹی، ایجوکیشن یونیورسٹی، منہاج ، جامعہ نعیمیہ اور ایک انسٹیٹیوٹ جسے فارسی میں "موسسہ مطالعات راھبردی" کہا جاتا ہے، جو IPS کے نام سے ہے، اس میں مختلف شقیں ہیں، جن میں طلبہ کا تبادلہ ہے، اساتید کا تبادلہ ہے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے، مشترکہ تحقیقی پروجیکٹ ہیں وہ شامل ہیں۔ ہم اس پہ کام کر رہے ہیں انشاء اللہ تعالی اس کا فائدہ طلبہ کو یہ ہو گا کہ یہاں سے طلاب وہاں جا سکیں گے اور وہاں پاکستان کی یونیورسٹیز کے طلبہ یہاں آسکیں گے۔ اپنے تھیسیز کیلئے ان کو یہاں بھیجا جا سکتا ہے۔ اس طرح اساتید کا تبادلہ ہے غرض مختلف شقیں ہیں جن پر ہمارا ان سے اتفاق ہوا ہے۔ آقای دکتر عباسی کی بھی پاکستان دورے کے دوران تاکید یہی تھی کہ یہ کام صرف MOU کی حد تک نہ ہو بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا جائے۔ اس حوالے سے ہم نے طے کیا کہ کم از کم ان میں سے ایک دو متفقہ موارد کو اس سال عملی جامہ پہنایا جائے۔ سب نہ سہی لیکن ممکنہ حد تک تدریجاً یہ امور انجام دئے جائیں۔

حوزہ: انٹرنیشنل لیول پر جو جامعہ المصطفی پر پابندی عائد ہے، تو پھر اس پابندی کو دیکھتے ہوئے بھی آیا یہ ادارے جامعۃ المصطفی کے جن طلاب کے پاس فارغ التحصیلی کی سند ہو گی انہیں کہیں کھپت یا تحقیق وغیرہ کے سلسلے میں ان کے ساتھ تعاون کریں گے؟

حجت الاسلام والمسلمین انیس الحسنین خان: (مسکراتے ہوئے) یہ ادارے اگر ان پابندیوں کو فالو کرتے تو جامعہ المصطفی کے ساتھ m-o-u ہی سائن نہ کرتے۔ اب ملکی بڑے ادارے جیسے قائداعظم یونیورسٹی ہے، جی سی گورنمنٹ یونیورسٹی لاہور ہے۔۔۔ تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان پابندیوں کا بہت زیادہ اثر نہیں ہے نہ ہی یہ ادارے اس کو فالو کر رہے ہیں ۔

البتہ یہ ان اداروں میں موجود افراد پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ بعض اوقات ایسے افراد آ جاتے ہیں جو پاکستان اور ایران کے تعلقات میں موثر واقع ہوتے ہیں۔ اگر اس طرح ہو تو تمام امور میں اس چیز کی تاثیر کو مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

دینی طلاب کا تعلیمی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ عملی میدان میں بھی ضروری مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے

دینی طلاب کا تعلیمی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ عملی میدان میں بھی ضروری مہارت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .