۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
تصاویر/ بازدید آیت خاتمی از بخش حوزوی سی و یکمین نمایشگاه بین‌المللی قرآن کریم

حوزہ/ حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے رکن نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ حوزہ علمیہ نے قرآن کریم کے تئیں اپنا قرض ادا کر دیا ہے، لیکن ہمیں اسی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہئے، ہم قرآن کے ہمیشہ مقروض رہیں گے لہذا ہمیں قرآن اور قرآنی تعلیمات کو ہر جگہ بالخصوص حوزہ علمیہ میں مسلسل آگے بڑھانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں جاری قرآن کریم کی بین الاقوامی نمائش میں حوزہ علمیہ کے شعبے کا دورہ کرتے ہوئے حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے رکن آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا: حوزہ علمیہ مسلسل ترقی کی راہوں کو طے کر رہا ہے، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے آغاز سے ہی امام خمینی علیہ الرحمہ اور مرحوم آیت اللہ گلپایگانی علیہ الرحمہ کے حکم سے حوزہ کا نظام قائم ہوا اور حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل تشکیل دی گئی۔

انہوں نے کہا:حوزہ علمیہ میں قرآنی خدمات کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو انقلاب اسلامی کی فتح کے شروعاتی دنوں میں تفسیر قرآن کے دروس محدود تھے اور صرف مرحوم آیت اللہ مشکینی ، مرحوم آیت اللہ خزعلی اور آیت اللہ جوادی آملی ہی درس تفسیر دیا کرتے تھے، لیکن آج الحمد للہ حوزہ میں 200 سے زیادہ تفسیر کے دروس منعقد ہوتے ہیں۔

انہوں نے حوزہ علمیہ میں تفسیر کے 200 دروس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: میں گزشتہ 36 سالوں سے درس تفسیر دے رہا ہوں لیکن قرآن کریم کے 15 پاروں کی تفسیر بیان کرنے میں کامیاب ہو پایا ہوں۔

جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے حضرت آیت اللہ سبحانی کی کتاب " مفاهیم القرآن " اور قرآن کریم کے سلسلے میں مرحوم آیت اللہ مصباح یزدی کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجھے لگتا ہے کہ حوزہ علمیہ نے قرآن کریم کے تئیں اپنا قرض ادا کر دیا ہے، لیکن ہمیں اسی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہئے، ہم قرآن کے مقروض ہیں اور ہمیں قرآن اور قرآنی تعلیمات کو ہر جگہ بالخصوص حوزہ علمیہ میں مسلسل آگے بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: جہاں تک میں جانتا ہوں حوزہ نیوز ایجنسی میں پرعزم اور محنت کش افراد شب و روز خدمت میں مشغول ہیں، میڈیا کی وسعت اور اس کے غیر معمولی اثرات کو دیکھتے ہوئے میڈیا کے شعبے میں مزید کام کرنے کیا جائے، یہاں تک کہ جسے بھی حوزہ سے متعلق دقیق خبریں چاہئے وہ حوزہ نیوز ایجنسی کی طرف رجوع کرے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .