جمعرات 20 مارچ 2025 - 05:00
عصرِ جدید میں بچوں کی دینی تربیت / والدین بچوں کے ساتھ دینی مسائل پر گفت و شنید کا ماحول پیدا کریں

حوزہ / یونیورسٹی کی استاد نے کہا: والدین اور بچوں کے درمیان نظریاتی اختلافات خاندان کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں لیکن اگر ہوشیاری سے کام لیا جائے تو ان اختلافات کو مختلف امور کے سیکھنے اور ان میں بہتری کے موقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی کی استاد محترمہ معصومہ خلیلی مقدم نے کہا: آج کے دور میں بچوں کی دینی تربیت انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ تیز رفتار سماجی و ثقافتی تبدیلیوں کے پیش نظر بچوں کو اپنی دینی اقدار اور اصولوں کی حفاظت کے قابل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا: ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں مختلف نظریات اور اطلاعات کی بھرمار ہے لہٰذا صحیح دینی تربیت بچوں کو اپنی شناخت تلاش کرنے اور اصولی زندگی گزارنے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے والدین کو درپیش چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض اوقات والدین کے دینی عقائد و نظریات معاشرتی یا میڈیا کے عمومی رجحانات سے متصادم ہو سکتے ہیں، جس سے بچوں کی دینی تربیت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

عصرِ جدید میں بچوں کی دینی تربیت / والدین بچوں کے ساتھ دینی مسائل پر گفت و شنید کا ماحول پیدا کریں

انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ دینی مسائل پر گفت و شنید کا ماحول پیدا کریں اور ان کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں تاکہ والدین اور بچوں کے درمیان مضبوط رشتہ اور باہمی افہام و تفہیم قائم ہو سکے۔

انہوں نے کہا: والدین کو صبر اور مہارت کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ بچوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ ایک محفوظ اور حامی ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں تاکہ وہ بلا جھجک اپنے سوالات پوچھ سکیں اور اپنی تلاش میں آگے بڑھ سکیں۔

محترمہ معصومہ خلیلی مقدم نے مزید کہا: محبت بھرا ماحول فراہم کرنا اس سلسلے میں بے حد اہم ہے اور والدین کو خود بھی دینی تربیت اور ذاتی ترقی و رشد کے حوالے سے مسلسل سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha