جمعہ 28 مارچ 2025 - 05:00
خاموشی کا زہر اور مظلوموں کی پُکار

حوزہ/ یہ دنیا ہمیشہ سے ایک ہی اصول پر چلتی رہی ہے، طاقتور اپنے ظلم کو جائز قرار دیتا ہے اور کمزور اپنی بے بسی کی گواہی خود بن جاتا ہے؛ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم ظالموں کے ساتھ ہیں یا مظلوموں کے؟ اگر آج ہم خاموش ہیں، تو یہ خاموشی کسی اور کے لیے نہیں، کل ہمارے اپنے لیے لکھی جانے والی تقدیر ہے۔

تحریر: امداد علی گھلو

حوزہ نیوز ایجنسی | یہ دنیا ہمیشہ سے ایک ہی اصول پر چلتی رہی ہے، طاقتور اپنے ظلم کو جائز قرار دیتا ہے اور کمزور اپنی بے بسی کی گواہی خود بن جاتا ہے؛ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم ظالموں کے ساتھ ہیں یا مظلوموں کے؟ اگر آج ہم خاموش ہیں، تو یہ خاموشی کسی اور کے لیے نہیں، کل ہمارے اپنے لیے لکھی جانے والی تقدیر ہے۔

آج فلسطین میں بچے جل رہے ہیں، گھروں کے ملبے تلے سسکیاں دم توڑ رہی ہیں اور مسجد اقصیٰ کی دیواریں فریاد کر رہی ہیں؛ لیکن دنیا خاموش ہے۔ وہی دنیا جو انسانیت کے نعرے لگاتی ہے، انسانی حقوق کی دعوے دار بنتی ہے، مگر جب مظلوم مسلمان خون میں نہا رہے ہوتے ہیں، تو اس کے ہونٹ سی دیے جاتے ہیں۔ یہ وہی خاموشی ہے جو کشمیریوں نے دیکھی، جب ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا، جب ان کے نوجوانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا، جب ان کی عورتوں کی عزت پامال کی گئی، تب بھی دنیا نے آنکھیں بند کر لیں۔ کیا ہم نے محسوس نہیں کیا تھا کہ خاموشی کا یہ زہر کتنا اذیت ناک ہوتا ہے؟

ہم سب کو یاد ہے کہ جب ہمارے اپنے بھائی، ہمارے کشمیری بہن بھائی، دہائی دیتے رہے، عالمی برادری سے انصاف کی اپیل کرتے رہے؛ لیکن دنیا نے ان کی آواز کو دیوار پر لکھی ایک تحریر سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ہمیں وہ لمحے آج بھی یاد ہیں جب ہم نے چیخ چیخ کر دنیا کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے، کہ وہاں کے بچوں کی آنکھوں سے چھین لیا گیا نور کسی بھی عالمی تنظیم کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، کہ وہاں کی سڑکوں پر بہنے والا خون کسی بھی مہذب دنیا کے لیے قابل توجہ نہیں۔ ہمیں تکلیف ہوئی، بے پناہ ہوئی؛ لیکن کسی نے ہمارا درد محسوس نہیں کیا۔ آج فلسطین میں یہی ہو رہا ہے؛ لیکن اگر ہم خاموش رہے تو ہم بھی انہی ظالموں کے ساتھ شمار کیے جائیں گے، جو قتل کرتے ہیں، جو برباد کرتے ہیں، جو انسانیت کی روح کو پامال کرتے ہیں۔

سوچیں! اگر آپ کا گھر جل رہا ہو، اگر آپ کے بچوں کے لاشے آپ کے سامنے رکھے ہوں اور دنیا آپ کے درد پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہو، تو آپ پر کیا گزرے گی؟ کیا آپ چیخیں گے؟ کیا آپ فریاد کریں گے؟ کیا آپ توقع رکھیں گے کہ کوئی تو آئے، کوئی تو سنے، کوئی تو آپ کے حق میں بولے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کے لیے بولے، تو آپ کو آج فلسطین کے لیے بولنا ہوگا۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ جب آپ مظلوم ہوں تو دنیا آپ کے حق میں کھڑی ہو، تو آج آپ کو مظلوم فلسطینی بچوں کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔

یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے۔ یا تو آپ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ظالم کے۔ بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔ خاموشی بھی ایک گناہ ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو ظالم کو مزید حوصلہ دیتا ہے، جو قاتل کے ہاتھوں کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اگر ہم آج خاموش رہ گئے، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمارا ضمیر ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ ہمارا خدا ہمیں معاف نہیں کرے گا۔

اس وقت امت مسلمہ کے ہر فرد پر فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کی آواز بلند کرے، کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو، کہ وہ خاموشی کے پردے چاک کرے۔ اگر ہم واقعی مظلوم کشمیریوں کے لیے درد رکھتے ہیں، اگر ہم حقیقت میں خود کو ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں فلسطین کے لیے بولنا ہوگا، ہمیں غزہ کے بچوں کے لیے بولنا ہوگا، ہمیں ان سسکیوں کے حق میں کھڑا ہونا ہوگا جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم زندہ ہیں، کہ ہمارے دل دھڑکتے ہیں، کہ ہم انسان ہیں۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے، تو کل جب ہماری باری آئے گی، تو دنیا کا ضمیر بھی ہمارے لیے سو چکا ہوگا اور ہم بھی چیخ چیخ کر رہ جائیں گے کہ کوئی تو ہو جو ہمارے حق میں بولے، مگر ہمیں بھی کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha