جمعہ 28 مارچ 2025 - 06:00
بیت المقدس کی بازیابی: قرآنی رہنمائی اور عملی جدوجہد

حوزہ/ جمہوری اسلامی ایران نے ہمیشہ فلسطینی مزاحمت اور بیت المقدس کی بازیابی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ ایران نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتا ہے بلکہ اسرائیلی و امریکی جارحیت کے خلاف بھی مسلسل سرگرم ہے۔

تحریر: سید قمر عباس قنبر نقوی سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی | مسلمانوں کا قبلۂ اوّل، بیت المقدس، کب آزاد ہوگا؟ کیا مظلوم فلسطینیوں کو کبھی آزادی نصیب ہوگی؟ دنیاوی دولت کے لحاظ سے امیر، مگر فکری لحاظ سے کمزور اور بزدل مسلم حکمران کب تک مصلحتوں کی آڑ میں امریکہ اور اسرائیل کی درپردہ حمایت کرتے رہیں گے؟ اور کیا یہ حمایت انہیں محفوظ رکھ سکے گی؟

امریکی صدر ٹرمپ کا وہ بیان آج بھی گونج رہا ہے کہ عرب حکمرانوں کا اسرائیل سے ہمدردانہ تعلقات (چاہے علانیہ ہوں یا خفیہ) رکھنا ضروری ہے، کیونکہ امریکہ اسرائیل کا دوست ہے اور عرب حکمرانوں کی حکومت امریکی فوجی مدد کے بغیر دو ہفتے بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔ کیا ہزاروں بے گناہ فلسطینی بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں کے بہائے گئے خون کی قیمت صرف چند مالی امداد کے اعلانات یا حج و عمرہ کے انتظامات ہیں؟ ایسے بے شمار سوالات ہر حساس اور غیرت مند ذہن میں گردش کرتے ہیں۔ آیئے، ہم اپنی سطح پر ان سوالات کے جوابات تلاش کریں اور اربابِ اختیار و اقتدار تک ان کی گونج پہنچانے کی کوشش کریں۔

قرآنِ مجید ہر مسلمان کے گھر میں موجود ہے، ہر مسلمان قرآن پر ایمان رکھتا ہے ۔ قرآن حمید کا واضح دعویٰ ہے کہ میرے اندر ہر خشک و تر، یعنی ہر مسئلے اور ہر مشکل کا حل موجود ہے۔ تو پھر طاقت و قوت کا مرکز و محور امریکہ اور اس کے اتحادی کیسے بن گئے؟ اصل سبب یہی ہے کہ ہم نے قرآن کو صرف رٹنے تک محدود رکھا، مگر اس کی تعلیمات اور پیغامات سے دور رہے ۔ اس کے برعکس، غیر مسلم اقوام نے قرآن میں بیان کردہ اصولوں سے راہنمائی لی اور نتیجتاً وہ طاقت، قوت، اقتدار اور دولت میں مسلسل اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ کاش مسلم حکمران بھی قرآنی فرمودات سے سبق سیکھتے اور میدانِ عمل میں سرگرم ہو جاتے۔

قرآنِ مجید کا پہلا پیغام علم کے حصول اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کے اطلاق کا ہے۔ قرآنی تعلیمات کا تقاضا تھا کہ مسلم دنیا علم و تحقیق خصوصاً جدید سائنسی و ٹیکنالوجیکل علوم کا مرکز بنتی، اور دنیا کا ہر طالب علم ہمارے علمی مراکز، کتب خانوں، اور محققین کا محتاج ہوتا۔ مگر افسوس! ہماری غفلت، اقتدار پرستی اور عیش و عشرت نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب ہمارے وجود کی بقا بھی دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔

اس کے برعکس، جن مسلم ممالک نے قرآنی تعلیمات کو اپنایا، وہ آج ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر تے ہیں۔

حضرت علیؑ کا ارشاد ہے: "یتیم وہ نہیں جس کا باپ دنیا سے چلا جائے، بلکہ یتیم وہ ہے جو جہالت میں مبتلا رہے۔"

قرآنِ مجید کا دوسرا اہم پیغام آپسی اتحاد اور اخوت کا ہے، مگر ہم نے اسے بھی فراموش کر دیا ہے۔ ہم کتنے نادان ہیں کہ فرقہ واریت اور تفرقے کے بیج بونے والی مغربی سازشوں کو خود اپنے ہاتھوں سے تقویت دے رہے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جہنم و جنت اور کفر و اسلام کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ دشمن ہماری ناسمجھی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ حضرتِ آیت اللہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا "مسلمان ہاتھ کھولنے اور ہاتھ باندھنے میں الجھا ہے اور دشمن ان ہاتھوں کو کاٹنے کی فکر میں ہے۔"

نوجوانانِ ملت! مایوس نہ ہوں، تبدیلی یکدم نہیں آتی، بلکہ بتدریج وقوع پذیر ہوتی ہے۔ دوسروں سے امیدیں لگانے کے بجائے خود میدانِ عمل میں اتریں۔ ذرہ برابر بھی وقت ضائع کیے بغیر نئے عزم، ہمت، شوق اور ولولے کے ساتھ تعلیمی میدان میں ترقی کی راہ اختیار کریں۔ ان شاء اللہ، آنے والا وقت آپ کا ہوگا اور سپر پاور کا تاج آپ کے سر سجے گا۔

بیت المقدس کی بازیابی میں ایران کا مضبوط کردار

جمہوری اسلامی ایران نے ہمیشہ فلسطینی مزاحمت اور بیت المقدس کی بازیابی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ ایران نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتا ہے بلکہ اسرائیلی و امریکی جارحیت کے خلاف بھی مسلسل سرگرم ہے۔

ایرانی قیادت بیت المقدس کو صرف فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ قرار دیتی ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران کے بانی، امام خمینیؒ، اور ان کے جانشین رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطین کی آزادی کو اسلامی انقلاب کے ایک اہم ہدف کے طور پر پیش کیا۔ امام خمینیؒ نے 1979ء میں انقلاب کے فوراً بعد اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپنایا اور اسے ناجائز ریاست قرار دیا۔

امام خمینیؒ کی نے ماہِ مبارکہ رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوادع کو "یوم القدس" نام دیا ہے ، جو آج بھی پوری مسلم اور انسان دوست دنیا میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بیت المقدس کی بازیابی کے عنوان کے تحت پُر امن انداز سے منایا جاتا ہے۔ ایران نہ صرف اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتا ہے، بلکہ مزاحمتی تحریکوں کو اخلاقی اور ممکنہ حد تک عملی مدد بھی فراہم کرتا ہے۔

بدقسمتی سے، جہاں ایران فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے سرگرم ہے، وہیں دوسری طرف متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور دیگر عرب ممالک اسرائیل سے تجارتی، ثقافتی اور سیاسی معاہدے کر کے اس کی معیشت کو مستحکم کر رہے ہیں۔ اقتدار، دولت اور عیش پرستی کے رسیا مسلم حکمران اگر بیدار ہو جائیں اور عملی جدوجہد کا آغاز کریں، تو بیت المقدس کی بازیابی ناممکن نہیں۔

بیت المقدس صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت و حمیت کا معاملہ ہے۔ جب تک ہم قرآنی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں نہیں اپنائیں گے، تب تک ہم غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے۔ اگر آج بھی مسلم دنیا علم، اتحاد، اور جدوجہد کے اصولوں کو اپنا لے، تو فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی زیادہ دور نہیں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha