حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے فلسطین کی حمایت ہمیشہ سے بین الاقوامی سیاست اور عالمی تعلقات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ اس مضمون میں، ایران کی اس پالیسی کے پسِ پردہ وجوہات، مذہبی اور سیاسی عوامل، اور عالمی سطح پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ایران فلسطین کی حمایت کیوں کرتا ہے؟
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ ایران، جو ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے، فلسطین کی کیوں حمایت کرتا ہے، جب کہ فلسطینی اکثریت میں سنی مسلمان ہیں؟ مزید برآں، بہت سے عرب اور سنی اکثریتی ممالک فلسطین کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کرتے؟
1. اسلامی اصول اور دینی ذمہ داری
ایران کی فلسطین پالیسی کی بنیادی جڑیں اسلامی تعلیمات اور انسانی اقدار میں پیوست ہیں۔ اسلامی اصولوں کے مطابق، کسی بھی مظلوم کی مدد کرنا لازم ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے:
"وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ" (الأنفال: 72)
"اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد طلب کریں، تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے۔"
اسی طرح، امام علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر ایک غیر مسلم عورت کے پاؤں سے ظلم کے ساتھ زبردستی خلخال اتارا جائے، تو ایک مسلمان کو اس پر غم سے مر جانا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے حمایت مذہبی اختلاف سے بالاتر ہو کر، اسلامی اخوت اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے۔
2. عالمی استعمار اور استکباری طاقتوں کی مخالفت
ایران کی فلسطین کے لیے حمایت صرف مذہبی یا نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ استعماری طاقتوں کے خلاف مزاحمت کا ایک جزو بھی ہے۔
اسرائیل صرف فلسطین کا دشمن نہیں، بلکہ خطے میں امریکی و مغربی سامراجی منصوبوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
ایران ہمیشہ سے استکبار (Global Imperialism) کے خلاف مزاحمت کا پرچم بردار رہا ہے، اور فلسطین کی حمایت کو اسی عالمی جدوجہد کا حصہ سمجھتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کے مطابق: "فلسطین کی حمایت دراصل عالمی استکبار کے خلاف ایک جہاد ہے۔"
3. عرب ممالک اور فلسطین کے ساتھ ان کی بے وفائی
بہت سے عرب اور مسلم ممالک، جو ظاہراً فلسطین کے حامی ہیں، درحقیقت اسرائیل کے ساتھ خفیہ یا علانیہ تعلقات استوار کر چکے ہیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین جیسے ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔
کئی عرب حکومتیں امریکہ اور مغربی طاقتوں پر انحصار کرتی ہیں اور اپنے مفادات کی خاطر فلسطین کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔
ایران، جو خودمختار خارجہ پالیسی رکھتا ہے، ان حکومتوں کے برعکس فلسطین کی آزادی کے لیے عملی اقدامات اٹھاتا ہے۔
4. ایران کی فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو عملی مدد
ایران صرف بیانات کی حد تک فلسطین کا حامی نہیں، بلکہ اس نے عملی طور پر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی مدد کی ہے، بشمول:
حماس (Hamas)
جہاد اسلامی (Palestinian Islamic Jihad)
دیگر مزاحمتی گروہ
یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام، چاہے ان کا مذہبی پسِ منظر کچھ بھی ہو، ایران کو اپنا حقیقی حامی اور محافظ سمجھتے ہیں۔
ایران کی فلسطین سے حمایت فرقہ واریت یا مذہبی تعصب پر مبنی نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں، آزادی، انصاف، اور عالمی استعمار کے خلاف جدوجہد پر استوار ہے۔
آپ کا تبصرہ