حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین کے رکن آیت اللہ محسن اراکی نے کہا ہے کہ جو کچھ آج غزہ اور فلسطین میں ہو رہا ہے، وہ صہیونی ریاست کے زوال کے آغاز کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اور معاصر سیاست کا تجربہ بتاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے لگام استکباری پالیسی، جو اس نے اپنے پرانے اتحادیوں کے خلاف بھی اپنائی، خود امریکہ کے زوال کا پیش خیمہ ہے، اور یہ وہی حقیقت ہے جس کا خود امریکی ماہرین بھی اعتراف کر رہے ہیں۔
قم المقدسہ میں مصلیٰ قدس میں منعقدہ عالمی یوم القدس کے اختتامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ اراکی نے کہا کہ آج کے دور میں، حق و باطل کے درمیان ایک شدید معرکہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مستکبرین نے طاقت اور ظلم کے ذریعے دنیا میں فساد برپا کر رکھا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی استکباری طاقت اپنے غرور کی انتہا کو پہنچتی ہے، وہ زوال کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
آیت اللہ اراکی نے کہا کہ تاریخ میں ایسے کئی استبدادی حکمران گزرے ہیں جو اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے تھے، لیکن بالآخر ہلاک اور ذلیل و خوار ہو گئے۔
ہٹلر نے دنیا پر اپنی حاکمیت کے خواب دیکھے، لیکن مکمل تباہی سے دوچار ہوا۔
شاہ ایران کو امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کی علامت قرار دیا تھا، لیکن انقلاب اسلامی ایران نے اس کے تخت کو الٹ دیا۔
صدام نے اپنی طاقت کو ناقابلِ شکست سمجھا، لیکن اس کا حشر سب نے دیکھا۔
آیت اللہ اراکی نے زور دیا کہ آج غزہ میں جاری صہیونی جارحیت درحقیقت اسرائیل کے زوال کے آغاز کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور اس کی پالیسیوں نے امریکہ کے اتحادیوں کو بھی متنفر کر دیا ہے، اور یہ امریکہ کے اختتام کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کی سنت یہی ہے کہ جو ظالم طاقتیں قتل و غارت اور فریب کاری پر اپنی حکومتیں قائم کرتی ہیں، وہ ہمیشہ تباہ ہو جاتی ہیں۔ آج امریکہ اور اس کے اتحادی مظلوموں کا خون بہا رہے ہیں، لیکن ان کا زوال قریب ہے۔
آپ کا تبصرہ