جمعہ 28 مارچ 2025 - 06:00
یوم القدس: قبلۂ اول کی بازیابی کا عالمی دن

حوزہ/ یوم القدس ہمیں بیدار کرتا ہے کہ ہم اس معرکۂ حق و باطل میں کہاں کھڑے ہیں۔ یہ دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنی فکر، قلم، عمل، اور دعا کو فلسطین کی نجات کے لیے وقف کر دیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی | یوم القدس محض ایک تقویمی دن نہیں بلکہ ایک زندہ ضمیر کی للکار ہے—ایک ایسی بیدار صدا جو مظلوموں کے زخموں پر مرہم بھی ہے اور ظالموں کے ایوانِ ستم پر تازیانہ بھی۔ اس دن کو امام خمینیؒ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یومِ احتجاج و مزاحمت کے طور پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا، تاکہ بیت المقدس کی بازیابی کو امت کے اجتماعی شعور کا حصہ بنایا جا سکے۔

قدس: روحِ نبوت کا مقام اور تاریخِ توحید کا سنگِ میل

بیت المقدس محض ایک متبرک مقام نہیں، بلکہ وہ مقامِ مقدس ہے جہاں انبیائے کرامؑ کی روحانی گزرگاہیں ہیں۔ یہیں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراجِ الٰہی کا سفر آغاز فرمایا اور یہیں تمام انبیائے سلف نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

“سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ…”

(سورۂ اسراء، آیت 1)

یہ مقام جہاں روحانی مرکزیت رکھتا ہے، وہیں تاریخِ نبوت، تحریکِ توحید اور تہذیبِ اسلامی کا مرکز بھی ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے قدس نہ صرف قبلۂ اول ہے بلکہ ایمان کا امتحان بھی۔

فلسطین پر صہیونی تسلط: ایک استعماری سامراجی منصوبہ

فلسطین کی سرزمین صدیوں تک یہودی، مسیحی اور مسلمان اقوام کی پرامن مشترکہ میراث رہی ہے، حتیٰ کہ بیسویں صدی کے اوائل میں استعمار نے اس خطے کو اپنی سامراجی سازشوں کا نشانہ بنایا۔ 1917ء کے اعلانِ بالفور کے تحت برطانوی حکومت نے صہیونیوں کو فلسطین میں قومی وطن کے قیام کی غیر آئینی اجازت دے کر اس سرزمین پر ایک استعماری خنجر پیوست کیا، جس کے نتیجے میں 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی لاکھوں فلسطینی بے گھر، در بدر اور شہید کر دیے گئے۔

یہ قبضہ نہ کسی مذہبی استحقاق پر قائم ہے، نہ تاریخی میراث پر—بلکہ طاقت، دجل، اور استعماری سودے بازی کا نتیجہ ہے، جس کے پیچھے مغربی سامراجی قوتیں اور بالخصوص امریکہ کا سرمایہ دارانہ مفاد کارفرما ہے۔ اسرائیل آج صرف ایک ریاست نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں مغرب کا عسکری اڈہ ہے۔

صہیونیت بمقابلہ یہودیت: مغالطے کی اصلاح

یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ صہیونیت کوئی مذہب نہیں، بلکہ ایک سیاسی و نسلی قوم پرستانہ نظریہ ہے۔ خود یہودی مذہب کے کئی پیروکار اس نظریے کے شدید مخالف ہیں اور اسرائیل کو “خدائی وعدہ” کے خلاف ایک سرکشی تصور کرتے ہیں۔ پس مخالفت صہیونیت کی ہے، نہ کہ یہودیت کی—اور یہ وہ امتیاز ہے جو علمی سطح پر اجاگر ہونا چاہیے۔

ایران اور یوم القدس: عالمِ اسلام کا مزاحمتی ضمیر

اسلامی جمہوریہ ایران نے امام خمینیؒ کی قیادت میں مسئلہ فلسطین کو امتِ مسلمہ کی دینی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری میں تبدیل کر دیا۔ آپ نے صراحت کے ساتھ اعلان کیا:

“اسرائیل ایک غاصب، جعلی، اور ناسور ریاست ہے، جس کا وجود اسلامی امت کے لیے ذلت و پستی کا سبب ہے۔”

امام خمینیؒ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو “یوم القدس” قرار دے کر امت کو ایک ایسا نظریاتی ہتھیار عطا کیا جو نہ صرف یاد دہانی ہے، بلکہ مزاحمت، بیداری اور قربانی کا منشور بھی ہے۔

ایران آج وہ واحد ریاست ہے جو فلسطین کی مزاحمتی قوتوں—حماس، حزب اللہ، اور جہادِ اسلامی—کی نہ صرف حمایت کرتا ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر صہیونیت کے خلاف واحد مؤثر اور مستقل آواز بھی ہے۔

اہلِ فلسطین پر ظلم و ستم: عصرِ حاضر کی نسل کشی

اکتوبر 2023ء سے جاری صہیونی بربریت نے انسانیت کے تمام اصول پامال کر دیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق

50000 سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین، شیر خوار بچے اور بزرگوں کی ہے، 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، غزہ کی 80% بنیادی تنصیبات—اسپتال، اسکول، پناہ گاہیں، عبادت گاہیں، پانی و بجلی کے نظام—تباہ کر دیے گئے ہیں۔

اسرائیلی افواج نے دانستہ طور پر الشفا، انڈونیشین اور القدس ہسپتال کو نشانہ بنایا، اور زخمیوں کو ملبے تلے دم توڑنے پر مجبور کیا۔ غزہ میں معصوم بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق:

“غزہ کے پانچ لاکھ سے زائد شہری قحط کے دہانے پر ہیں، جب کہ غذائی قلت بچوں کو موت کے قریب دھکیل رہی ہے۔”

(UNOCHA, Humanitarian Report, 2024)

یہ کھلی نسل کشی (Genocide) ہے—اور امریکہ اس جرم کا نہ صرف نگران ہے، بلکہ عسکری و سفارتی محافظ بھی۔ اسرائیل کی ہر سفاکی کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے، جب کہ اقوامِ متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

راستہ کیا ہے؟ وحدت، مزاحمت، اور بیداری

1. اسلامی وحدت: امت مسلمہ کو فرقہ وارانہ تعصبات سے بلند ہو کر مسئلہ فلسطین کو ایک دینی و انسانی فریضہ سمجھنا ہوگا۔

2. مزاحمتی قوتوں کی تائید: حماس، حزب اللہ اور جہاد اسلامی کو امت کا بازو اور مدافع تسلیم کرنا ہوگا، نہ کہ مغربی اصطلاحات میں دہشت گرد۔

3. معاشی و ثقافتی بائیکاٹ: صہیونی مصنوعات اور ان کے حمایتی اداروں کا بائیکاٹ ایک اخلاقی جہاد ہے (BDS تحریک اس کی نمایندہ مثال ہے)۔

4. ابلاغی جہاد: سوشل میڈیا، صحافت، ادب اور فنونِ لطیفہ میں فلسطینی بیانیہ کو مضبوط بنانا ہوگا۔

5. عالمی سطح پر دباؤ: مسلم حکمران اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتوں میں اسرائیل کو جنگی جرائم کے کٹہرے میں لانے کی مؤثر مہم چلائیں۔

ہم سب فلسطین ہیں

فلسطین محض ایک خطہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کا قلب ہے۔

اس کی آزادی، ہماری غیرت و بقا کا نشان ہے۔

یاد رکھیں:

“ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے!”

یوم القدس ہمیں بیدار کرتا ہے کہ ہم اس معرکۂ حق و باطل میں کہاں کھڑے ہیں۔ یہ دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنی فکر، قلم، عمل، اور دعا کو فلسطین کی نجات کے لیے وقف کر دیں۔

جب تک مسجد اقصیٰ آزاد نہ ہو جائے، تب تک دلوں کا دھڑکنا، ذہنوں کا جاگنا اور زبانوں کا گویا رہنا فرض ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha