جمعہ 28 مارچ 2025 - 11:11
عالمی یوم القدس، اہمیت، حقائق اور تاریخی پس منظر 

حوزہ/ فلسطین، بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی، مذہبی اور سیاسی حیثیت رکھنے والا مسئلہ ہے، جو مسلمانوں کے عقیدے، غیرت اور ایمان سے براہِ راست جُڑا ہوا ہے۔ یہ تنازعہ صدیوں پہلے شروع ہوا، لیکن جدید دور میں صہیونی تحریک نے اسے ایک نیا رخ دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد بیت المقدس پر قبضہ اور اسلامی دنیا کو کمزور کر کے تمام مسلمانوں کو اپنے اہداف کے سامنے تسلیم کروانا ہے۔  

تحریر: محقق حسین رضا صارم

حوزہ نیوز ایجنسی I فلسطین، بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی، مذہبی اور سیاسی حیثیت رکھنے والا مسئلہ ہے، جو مسلمانوں کے عقیدے، غیرت اور ایمان سے براہِ راست جُڑا ہوا ہے۔ یہ تنازعہ صدیوں پہلے شروع ہوا، لیکن جدید دور میں صہیونی تحریک نے اسے ایک نیا رخ دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد بیت المقدس پر قبضہ اور اسلامی دنیا کو کمزور کر کے تمام مسلمانوں کو اپنے اہداف کے سامنے تسلیم کروانا ہے۔

لیکن رہبر کبیر سید خمینی رضوان اللہ علیہ کی ایمانی بصیرت سے عالمی یوم القدس کی بنیاد پڑی، جو ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کے ہر مسلمان کو یاد رہے کہ فلسطین صرف فلسطینی قوم کا نہیں، بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے۔ یہ دن صہیونی سازشوں کے خلاف مزاحمت کے اظہار اور اسلامی وحدت کی تجدید کا ایک اہم موقع ہے۔

اس مسئلے کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ درج ذیل اہم نکات سے آگاہی حاصل کی جائے۔

(الف) یہودیت کی مذہبی حیثیت اور صہیونی تحریک:

یہودیت ایک قدیم مذہب ہے، جس کی بنیادی تعلیمات "تورات" اور "تلمود" میں موجود ہے۔ ان تعلیمات میں وقت کے ساتھ انسانی مداخلت کی گئی، جس کا ایک نتیجہ "چُنی ہوئی قوم" ہونے کا عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ یہودیوں میں نسلی برتری کا احساس پیدا کرتا ہے، جس کی بنیاد پر وہ دیگر اقوام پر حکمرانی کو اپنا "خدائی حق" سمجھتے ہیں۔

صہیونیت، جو اصل میں ایک سیاسی تحریک ہے، 1897ء میں "تھیوڈور ہرزل" کی قیادت میں وجود میں آئی۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد یہودیوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا قیام تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اب صہیونیوں کا بنیادی ہدف پوری دنیا پر سیاسی، اقتصادی اور مذہبی کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

(ب) صہیونی نظریہ:

یہودیوں کے کئی مذاہب میں سے ایک مذہب صہیونیت ہے، جن کا ایک خاص نظریہ ہے؛ ان کے نظریے کے مطابق، نجات دہندہ (ماشیح/مسیح) کے ظہور اور آمد کے لیے پانچ مراحل کی تکمیل ضروری ہے:

(۱) یہودیوں کا پوری دنیا میں پھیل جانا (ان کے منصوبے کے مطابق یہ مرحلہ 1900ء تک مکمل ہو جانا چاہیے)

(۲) یہودیوں کی فلسطین واپسی اور اسرائیل کے قیام کا مرحلہ (1950ء تک مکمل ہونا ہے)

(۳) مسجد الاقصیٰ کو مسمار کر کے ہیکل سلیمانی کی تعمیر (2000ء تک مکمل ہونا تھا)

(۴) آرماگڈون کی جنگ، جو غیر یہودیوں کے خلاف ایک بڑی جنگ ہوگی (2001ء - 2007ء تک مکمل ہونی چاہیے)

(۵) مسیح کا ظہور، جو ہیکل سلیمانی پر نازل ہوگا اور پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا (2007ء کے بعد یعنی چوتھے مرحلے کی تکمیل کے بعد یہ مرحلہ از خود مکمل ہو جائے گا)

صہیونی سازشوں کے مطابق، ان مراحل کی تکمیل کے لیے جنگیں، فتنہ و فساد اور اسلامی دنیا کو کمزور کرنا لازمی ہے۔

(ج) فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ اور مسجد الاقصیٰ کو خطرہ:

1948ء میں صہیونی سازش کے تحت اسرائیل نامی جعلی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ ریاست محض ایک قومی وطن نہیں، بلکہ ایک مذہبی مشن کا حصہ ہے، جس کا بنیادی ہدف مسجد الاقصیٰ کو مسمار کر کے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا ہے۔ صہیونی عقیدے کے مطابق، ہیکل سلیمانی کی بحالی سے ان کا "نجات دہندہ" ظاہر ہوگا، جو پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا۔

(د) امریکہ، برطانیہ، اور صہیونی حمایت:

صہیونی منصوبے میں مغربی طاقتیں، خصوصاً برطانیہ اور امریکہ، اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ 1917ء میں برطانیہ نے "بالفور ڈیکلریشن" کے ذریعے یہودیوں کے لیے فلسطینی زمین پر ریاست کے قیام کی حمایت کی، اس کے بعد، برطانوی حکومت نے فلسطینی زمینوں پر قبضے کے لیے یہودیوں کو مالی مدد فراہم کی۔ پھر 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد امریکہ نے اسے فوری طور پر تسلیم کیا اور مالی و فوجی امداد فراہم کی۔

اسی طرح "عیسائی صہیونیت" کا نظریہ، جو امریکہ میں عام ہے، اس کے مطابق یہودی حکومت کی حمایت لازمی ہے، کیونکہ اس سے (مسیح/ماشیح) یعنی حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی جلد ممکن ہوگی، اسی لیے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی مالی امداد، جدید ہتھیاروں کی فراہمی، اور سیاسی حمایت حاصل ہے، جو امریکی حکومتی پالیسیوں کا اہم حصہ رہی ہے۔

یہودیوں کے ایک مخصوص فرقے، صہیونی مذہب اور خاص طور پر "عیسائی صہیونیت" کے نظریے نے اپنے منصوبوں کو مختلف چالوں اور حیلوں کے ذریعے آگے بڑھایا اور بڑی طاقت کے ساتھ ان پانچ مراحل میں سے دو مراحل کو آسانی سے مکمل کر لیا، البتہ تیسرے مرحلے کو شروع کرنے سے پہلے کچھ اقدامات کیے، جن میں سے ایک "ابراہیمی معاہدہ" ہے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کے دوران ہی مشرق میں ایک انقلاب آیا، جس نے "صہیونی یہودی" اور "عیسائی صہیونیت" کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا، وہ انقلاب رہبر کبیر سید خمینی رضوان اللہ علیہ کے ہاتھوں آیا، جنہوں نے مسلمانوں کی مزاحمت کے دروازے عالمی سطح پر کھول دیے۔

رہبر کبیر سید خمینی رضوان اللہ علیہ کا انقلابی اعلان اور یوم القدس:

اسلامی انقلاب، جو سید خمینی رضوان اللہ علیہ کی قیادت میں 1979ء میں کامیاب ہوا، صہیونی منصوبوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ رہبر کبیر خمینی رضوان اللہ علیہ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو "عالمی یوم القدس" قرار دیا، تاکہ فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کے ذہنوں سے محو نہ ہو جائے اور کوئی بھی اس سے غافل نہ رہے۔

یہ اعلان محض ایک احتجاجی دن نہیں، بلکہ ایک عملی اسلامی مزاحمتی تحریک کا آغاز تھا، جس کا مقصد اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانا، اسلامی وحدت کو مضبوط کرنا اور عالمی بیداری پیدا کرنا تھا۔

سید بزرگوار نے اس مسئلے پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

"روزِ قدس فقط روزِ فلسطین نیست، روزِ اسلام است؛ روزِ حکومتِ اسلامی است۔"

(یوم القدس محض فلسطین کا دن نہیں، بلکہ اسلام کا دن ہے؛ یہ اسلامی حکمرانی کا دن ہے۔)

عالمی یوم القدس کی اہمیت اور اس کے اثرات:

عالمی یوم القدس کے اعلان نے اپنے اثرات مرتب کیے اور پوری دنیا میں اسلامی مزاحمتی تحریکیں وجود میں آئیں، اور ساتھ ہی درج ذیل نتائج بھی حاصل ہوئے:

(۱) اسلامی وحدت کا مظاہرہ

یوم القدس مسلمانوں کے لیے ایک عظیم پیغام ہے کہ فرقہ واریت سے نکل کر اصل دشمن کو پہچانیں۔ اس دن مسلمان، چاہے شیعہ ہوں یا سنی، اسرائیل کے خلاف احتجاج کے لیے متحد ہوتے ہیں۔

(۲) اسرائیل کے خلاف عالمی دباؤ

یوم القدس عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بیداری کا سبب بنتا ہے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں ہونے والے احتجاج اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔

(۳) فلسطینی عوام کے لیے حوصلے کا پیغام

یہ دن فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے پیغام ہے کہ امتِ مسلمہ بیدار ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے، اور میدان میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔

نتیجہ:

یوم القدس محض ایک رسم نہیں، بلکہ اسلامی مزاحمت، سیاسی بیداری، اور صہیونی سازشوں کو ناکام بنانے کا عالمی دن ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ صہیونی منصوبوں کو سمجھیں اور ان کا مقابلہ کریں، تاکہ فلسطین کی آزادی اور اسلامی بیداری کا خواب ضرور پورا ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha