حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ فسادات کے دوران، پولیس اہلکار کو صوبۂ ایلام میں اسنائپر فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا؛ واقعے سے قبل سیکیورٹی اداروں نے ایلام کے متعدد شہروں میں دہشت گرد گروہ پژاک کی سرگرمیوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
اسی طرح گزشتہ دنوں صوبۂ کرمانشاہ میں سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے آٹھ اہلکار شہید ہوئے۔
صوبۂ کرمانشاہ پولیس ذرائع نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ پژاک کے مسلح عناصر قصری شیرین اور سومار کے علاقوں میں داخل ہو کر کاروائیوں میں مصروف تھے، تاہم بارڈر فورسز کی بروقت کاروائی کے بعد دہشت گرد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
حالیہ دنوں میں دہشت گرد گروہ جیشالظلم نے ایک پولیس افسر کو ان کو ڈیوٹی پر جاتے ہوئے القاعدہ طرز پر ٹارگٹ کیا، جس سے اس گروہ کے منظم اور پرتشدد عزائم مزید واضح ہو گئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حالیہ بدامنی محض احتجاج نہیں، بلکہ منظم دہشت گردانہ کاروائیوں کا حصہ ہے، جن کے پیچھے بیرونی حمایت یافتہ مسلح گروہ سرگرم ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق، ان عناصر کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کاروائی جاری ہے۔
واضح رہے گزشتہ جمعرات اور جمعہ کی رات اسلامی جمہوریہ ایران کے کچھ شہروں میں صیہونی اور امریکی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے دہشت پھیلانے کی کوشش کی تھی؛ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کاروائی سے امریکہ اور غاصب اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی۔
یاد رہے کہ جیش الظلم سیستان و بلوچستان علیحدگی پسند ٹولہ، جبکہ پژاک کردستان علیحدگی پسند ٹولہ ہے۔









آپ کا تبصرہ