حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ، سپریم کونسل اور مرکز مدیریت حوزہ کے اس مشترکہ بیانیہ کا متن حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الباقر علیه السلام: مَنْ تَوَکَّلْ عَلَی اللهِ لا یُغلَب (بحار الانوار)
جمہوری اسلامی ایران دنیا بھر میں ایک جمہوری سیاسی طاقت ہونے کے ناتے مختلف میدانوں میں حاضر رہی اور اس دوران کئی قسم کے بحرانوں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس دینی اور اسلامی نظام نے بیسیوں شہداء کے مقدس خون سے اپنی خدمات انجام دیں۔
ملک کے حالیہ واقعات میں جب امریکہ اور صہیونی حکومت کے کرائے کے گماشتوں اور غنڈوں نے فسادات اور مسلح کارروائیوں کے ذریعہ عوام کی جان و مال پر حملہ کیا اور اس دوران قرآن کریم کی توہین کی گئی، مساجد، امام بارگاہ اور امام زادوں کے مزار کو آگ لگا دی گئی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
الحمد للہ زیادہ تر شہروں میں لوگوں نے بروقت اپنے مؤقف کو ان فتنہ پسند گروہ سے جدا کرتے ہوئے ان کرایہ کے غنڈوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیا اور دنیا کو ایک ہوشیار اور چوکس قوم ہونے کا ثبوت دیا۔
جامعہ مدرسین، سپریم کونسل اور مرکز مدیریت حوزہ اپنے رہبر عظیم الشان اور امام راحل(رہ) کے نظریات سے وفاداری کی تجدید کرتے ہوئے اور ایرانی مذہبی اور قومی شناخت پر تاکید کرتے ہوئے آپ تمام غیور ہم وطنوں کو کل 22 بھمن / 12 جنوری 2026ء کے عظیم احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ «هُوَ الَّذی أَیَّدَکَ بِنَصْرِهِ وَ بِالْمُؤْمِنینَ» (انفال: 62)
ہم ان حوادث میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے خداوند متعال کے حضور دعاگو ہیں اور تمام شہداء خصوصا امن و سلامتی کے محافظ شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ہم ایرانی باشعور اور معزز قوم کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت اور اتحاد کے ساتھ ہمیشہ جدوجہد کی اور میدان میں حاضر رہ کر کئی قربانیاں دی ہیں۔ اسی طرح ہم ایرانی عدلیہ اور امنیتی اداروں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ان شیطان صفت اور بغاوت کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دیں۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم
حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل
مرکز مدیریت حوزہ علمیہ









آپ کا تبصرہ