حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مغربی آذربائیجان کے 707 اہل سنت علماء نے اپنے ایک بیانیہ میں انقلاب اسلامی کے نظریات سے تجدیدِ عہد کرتے ہوئے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ اپنی مکمل اور قاطعانہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اس بیانیہ میں آیا ہے کہ ہم انقلاب اسلامی کے نظریات سے تجدیدِ عہد کرتے ہوئے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ اپنی مکمل اور قاطعانہ حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
حالیہ ملکی حالات میں ہر قسم کے فتنہ و فساد پھیلانے والوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے نظام مقدس جمہوری اسلامی کی حفاظت کو اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔ جس کا محور و مرکز رہبر معظم انقلاب کی ذات مبارک ہے۔ ان کا پربرکت وجود اس ملک کے اقتدار اور شیعہ و سنی وحدت کا باعث ہے۔
رہبر معظم کے مقام و منزلت کی کسی بھی قسم کی توہین کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ اس جیسی مذموم حرکات درحقیقت ایران اسلامی کو کمزور کرنے کی سازش ہے جس کے مقابلے میں ہم سیسہ پلائی دیوار کی صورت میں ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
نظام جمہوری اسلامی ایران شیعہ و اہل سنت بیسیوں شہداء کے خون کے مرہون منت اور ان شہداء کی میراث ہے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ یہ نظام اسلامی دین اسلام کا قلعہ اور اس ملک کے استقلال کا باعث ہے اور کبھی بھی اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ان کے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ملت ایران کے دشمن خصوصا امریکہ و اسرائیل اور مستکبرین عالم یہ جان لیں کہ ان کے منحوس ہاتھ ایران کے داخلی مسائل میں بھی شکست سے دوچار ہوں گے اور ہم انہیں ملکی داخلی مسائل اور شرائط سے کسی بھی قسم کا غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ہم اپنی عوام کی جائز مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا راستہ ان فسادیوں اور دشمن کے گماشتوں سے بالکل جدا ہے اور ہم ان بے رحم سفاکوں کے ہاتھوں ہوئے لوگوں کے جان و مال کے عظیم نقصان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
ہم حکام اور مسئولین سے بھی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ فی الفور عوام کے جائز مطالبات کو سنیں اور ان کو حل کریں اور ان کے معیشتی و اقتصادی پریشانیوں کو دور کریں۔
ملت ایران کی وحدت اور باہمی اتحاد ہی ان مسائل میں کامیابیوں کی کنجی ہے لہذا اس عظیم نعمت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ان شاء اللہ یہی وحدت و یکجہتی ان تمام مسائل و مشکلات کے حل کا اور موجودہ بحران و مسائل سے نکلنے کا باعث بنے گی۔
قابل ذکر ہے کہ اس اعلانیہ پر 707 اہل سنت علماء دستخط کر چکے ہیں۔ جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ