پیر 12 جنوری 2026 - 14:47
ایران میں احتجاج؛ امریکہ و اسرائیل سمیت تکفیریوں نے اس احتجاج کو کیوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا؟

حوزہ/ یوں تو اسلامی جمہوریہ ایران میں احتجاجی مظاہرہ، تاجر برادری نے شروع کیا تھا؛ تاہم ایران کے قسم خوردہ دشمن: امریکہ، اسرائیل اور تکفیریوں نے بہت جلد اسے متشدد بنانے کی کوشش کی اور یہ دہشت گرد ٹولہ کچھ علاقوں میں عوامی اور حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی فورسز کو شہید کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی | یوں تو اسلامی جمہوریہ ایران میں احتجاجی مظاہرہ، تاجر برادری نے شروع کیا تھا؛ تاہم ایران کے قسم خوردہ دشمن: امریکہ، اسرائیل اور تکفیریوں نے بہت جلد اسے متشدد بنانے کی کوشش کی اور یہ دہشت گرد ٹولہ کچھ علاقوں میں عوامی اور حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی فورسز کو شہید کرنے میں کامیاب بھی ہوا؛ لیکن اس بار بھی عوام نے بصیرت کا عظیم مظاہرہ کیا اور دشمن ایک مرتبہ پھر نامراد ہوئے۔

ٹرمپ کی احتجاج کے نام پر فسادات میں شکست کے بعد ہرزہ سرائی

شیطان بزرگ امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ کے مخالفین سے رابطے میں ہے اور اگر امکان ہوا تو امریکہ ایران کے انٹرنیٹ کو بحال کرے گا۔

واضح رہے انٹرنیٹ کی بندش کا مسئلہ بھی ایران کا اندورنی مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ نیشنل سکیورٹی کونسل سے متعلق مسئلہ ہے؛ تاہم ٹرمپ نے عادت سے مجبور ہو کر پھر مداخلت کی ہے۔

ملک میں بغاوت اور بیرونی شیطانی طاقتوں کو ملوث دیکھنے کے بعد اسلامی جمہوریہ کی سلامتی کونسل نے انٹرنیٹ کو کنٹرول کر لیا ہے، تاکہ دشمن کا کم سے کم اثر و رسوخ ہو۔

ٹرمپ نے ایران میں مسلح دہشت گردوں کی کاروائیوں کا ذکر کیے بغیر اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اور ہمیشہ کی طرح میڈیا اور ایران دشمنی کو تکرار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے اسلامی جمہوریہ کے ہاتھوں قتلِ عام کو بہت زیادہ سیریس لے رہا ہے۔

ٹرمپ کی باتیں، ایک دیوانہ کی باتیں جیسی ہیں؛ دیوانہ شخص ہرزہ سرائی کرتا رہتا ہے، کیونکہ اس کی عقل ٹھکانے پر نہیں ہوتی۔

ٹرمپ یہ باتیں ایسے وقت میں کر رہا ہے کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران نے سینکڑوں دہشت گردوں کو امریکہ اور صیہونی حمایت کے ثبوت کے ساتھ گرفتار کر لیا ہے۔

ٹرمپ کو اگر حقوقِ بشر کی اتنی فکر لاحق ہوئی ہے تو پہلے اپنے ملک میں حقوقِ بشر کو عملی جامہ پہناؤ، کیونکہ آپ نے میڈیا پر تو دیکھا ہوگا کہ گزشتہ دنوں امریکہ میں دوران احتجاج خواتین پر کس قدر ظلم و ستم کیا گیا؟

ٹرمپ کو اگر حقوقِ انسانی کی فکر لاحق ہوئی ہے تو پھر ایرانی قوم پر دسیوں سال سے جاری ظالمانہ اور غیر انسانی پابندیاں کیا ہیں؟

دنیا جانتی ہے کہ اسی ٹرمپ نے ہی اعلان کیا تھا کہ ہم نے ہی داعش کو وجود بخشا اور اس پر سات ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ شام پر جب داعش نے حملہ کیا تو داعشی زخمیوں کا علاج اسرائیل کے ہسپتالوں میں ہوتا رہا۔

حالیہ بارہ روزہ غاصب اسرائیل-ایران جنگ میں بھی اسی ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت کا نہ صرف برملا اعلان کیا، بلکہ خود اسی حقوقِ انسانی کے دعویدار نے پُرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بھی بنایا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے حالیہ احتجاج کے نام پر دہشت گردوں کی سفاکانہ کاروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے مفاد میں فوجی کاروائی کریں گے۔

اب جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر عوام کی بصیرت سے کرایے کے فسادی اور دہشت گرد تنہا رہ گئے ہیں اور عوام نے کرایے کے دہشت گردوں سے اپنا راستہ یکسر الگ کر لیا ہے تو ٹرمپ اسلامی جمہوریہ کی سلامتی کو پھر سے ناامن کرنے کے لیے کرایے کے ٹولوں کو اکسانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سوال؟!

سوال یہ ہے کیا ایران میں ایسا احتجاج پہلی مرتبہ ہوا؟

کیا دنیا کے مختلف علاقوں میں مہنگائی، کرپشن اور حکومت مخالف احتجاج نہیں ہوتا؟

ان سوالات کے جوابات یقیناً ہاں میں ہی ہیں۔

تو پھر ایرانی معاملات کو نیشنل میڈیا، سوشل میڈیا، امریکہ اور اسرائیل سمیت تکفیری کیوں اچھالتے ہیں؟

جواب واضح ہے:

ایران آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے دشمن سے بات کرتا ہے اور کسی بھی صورت میں فلسطین سے غداری کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے، بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی مسئلہ فلسطین سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعادہ کرتا ہے اور عالم اسلام کو فلسطین سمیت دیگر مظلومین سے متعلق آگاہ کرتا رہتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ کی طرح، امریکہ اور اسرائیل کی نگرانی میں ہونے والے ان احتجاج کے نام پر فسادات میں دشمن کو شکست سے دو چار کیا ہے؛ البتہ شہادتیں بھی دی ہیں جو کہ اس قوم کی شناخت ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ ان حقائق کو حقیقت پسند اور حریت پسند لوگوں تک پہنچائیں!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha