جمعہ 13 فروری 2026 - 11:46
عالمی طاقت کی بساط پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی

حوزہ/ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ علاقائی سالمیت ،خودمختاری کے احترام اور امن کے فروغ پر مبنی رہی ہے ۔پنڈت نہرو سے لے کر نان الائنمنٹ کی پالیسی تک، ہندوستان نے طاقت کے استعمال کے بجائے باہمی احترام ،مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر دیکھا گیا۔

تحریر: عادل فراز

حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ علاقائی سالمیت ،خودمختاری کے احترام اور امن کے فروغ پر مبنی رہی ہے ۔پنڈت نہرو سے لے کر نان الائنمنٹ کی پالیسی تک، ہندوستان نے طاقت کے استعمال کے بجائے باہمی احترام ،مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر دیکھا گیا۔

اسی نظریے کے تحت ہمارے ملک نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوموں کی حمایت کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کے مطالبات کی حمایت میں رائے دی ۔ہمارے ملک نے کبھی صہیونی سیاست کی طرف جھکائو نہیں رکھا لیکن اسرائیل کو ایک ریاست کے طورپر تسلیم کرکے اس کے ناپاک عزائم کو توانائی ضرور بخشی ۔۱۹۹۲ء میں جب ہندستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہوئے ،اس کے بعد ہندستان کی خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔’طوفان الاقصیٰ ‘ کے بعد جس طرح ہندستان نے مقاومتی محاذ کے بجائے صہیونی ریاست کی حمایت کی ،اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی ۔وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے کئی وزیروں نے طوفان الاقصیٰ کو دہشت گردانہ حملے سے تعبیر کیا،اس حقیقت سے قطع نظر کہ اس آپریشن کے عوامل کیاتھے ۔البتہ ہندستان نے سلامتی کونسل میں اپنی دیرینہ روایت کو برقراررکھااور مسئلۂ فلسطین کے حل کے مطالبے سے قدم پیچھے نہیں ہٹائے ۔لیکن دنیا نے اسرائیل کے تئیں ہندستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسیوں کو بہت قریب سے دیکھاجس کا اثر علاقائی سیاست اور خارجہ پالیسی پر بھی صاف نظر آیا ۔حال ہی میں امریکی صدر نے ہندستان پر عائد اضافی پچیس فیصد ٹیرف کم کرکے اٹھارہ فیصد کردیاجس کو اسی تناظر میں دیکھناچاہیے ۔اس پر ہم آگے بات کریں گے۔

دنیا ایک بارپھر جنگ ،علاقائی عدم استحکام اور طاقت کے استعمال کی طرف بڑھ رہی ہے ،ایسے میں ہندستان کی تاریخی روایت مزید اہم ہوجاتی ہے ۔ہندستان نے حال میں اپنے بیانات میں بار بار زور دیا ہے کہ کشیدگی کو بڑھانے والے اقدامات سے بچا جائے اور تمام فریقین (مثلاً امریکہ، ایران، اسرائیل) کو بات چیت اور سفارتکاری کا راستہ اپنانا چاہیے۔یہ پالیسی بنیادی طور پر ہندستان کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی، اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی گئی ہے ،کیونکہ ہندستان بیک وقت امریکہ ،اسرائیل،ایران اور روس کا ساتھی ہے۔

ہندوستان اپنے دوستوں کے درمیان انتخاب کا خطرہ نہیں لیناچاہتا،لیکن یہ انتخاب کی صورت حال کئی بار پیداہوچکی ہے ۔فی الوقت ہندستان امریکی دبائو میں اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ تعلقات پر از سرنو غور کررہاہے جس سے موجودہ حکومت کی کمزور خارجہ پالیسی کا اندازہ ہوتاہے ۔روایتی طور پر ہندستانی خارجہ پالیسی فوجی مداخلت یا حملے کے بجائے پر امن حل کے لیے زور دیتی ہے، اور وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کے اصولوں کے تحت تنازعات کے حل کی حمایت کرتی ہے۔ہندستان نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے امکانات پر علاقائی سالمیت اور امن کے پیش نظر ’ خودمختاری کے احترام‘ اور ’مذاکرات و سفارت کاری‘ پر زور دیا۔لیکن دوسری طرف امریکی دبائو میں روس اور ایران سے تجارت کم یا موقوف کردینا،اس کے خودمختاری کے جذبے کے خلاف ہے،حالانکہ ہندستان روس سے سے تجارت موقوف کرنے پر راضی نہیں ہے جیساکہ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جائسوال نے اپنے بیان میں کہاہے ۔اگر ہندستان ایران اور روس جیسے ملکوں سے اپنے روابط محدود یا ختم کرتاہے تو اس کے علاقائی نقصانات زیادہ ہوں گے ،کیونکہ ہندستان کے حریف مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں ۔

اب آتے ہیں امریکی صدر کی ٹیرف وار کی طرف!تجزیہ نگاروں کا دعویٰ یہ ہے کہ امریکہ نے پہلے ہندستان پر اضافی پچیس فیصد ٪ ٹیرف روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے لگایا تھا، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران روسی معیشت کو کم مددملے۔اس دعوے کو رد بھی نہیں کیاجاسکتاکیونکہ امریکی صدر نے بھی بارہا ہندستان کو روس سے تیل کی خریداری روکنے کے لئے انتباہات دئیے تھے ۔امریکی صدر نے پہلے وزیر اعظم مودی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ،اس کے بعد ٹیرف میں تخفیف کااعلان کیاگیا۔یہ تخفیف وزیر اعظم کی خوشنودی میں نہیں ہوئی بلکہ عالمی سیاسی تناظر میں ہندستان کے موقف کے پیش نظر ہوئی ہے ۔امریکہ نہیں چاہتاکہ ہندستان اس کے مفاد کے خلاف کوئی لایحۂ عمل ترتیب دے ۔دوسرا بڑا مسئلہ اسرائیلی حمایت کاہے ۔اگر ہندستان اسرائیلی حمایت سے دستبردار ہوتاہے تو یہ امریکی مفاد کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔ امریکہ کبھی نہیں چاہے گاکہ مشرق وسطیٰ میں اس کے خلاف کوئی دوسرا محاذ تقویت حاصل کرے ۔چونکہ اس وقت روس ،چین ،ایران اور کئی دیگر ملک مل کر ایک تجارتی اور دفاعی محاذ تیار کررہے ہیں جس سے امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہے ۔ایران پر تو پہلے ہی جوہری توانائی کے بہانے پابندیاں عائد کردی گئی تھیں ،اس بار روسی معیشت پر ضرب لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہندستان بیک وقت روس اور امریکہ دونوں کے ساتھ خوشگوار روابط رکھتاہے ،البتہ اپنی داخلی مسائل کے پیش نظر امریکہ اور اسرائیل کی طر ف زیادہ جھکائو رکھتاہے ۔اس کی بنیادی وجہ ہندستان کے اقتدار پر ان طاقتوں کے سہارے جمے رہناہے ۔یہ شراکت داری محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ہندوستان نے جنگ کے دوران اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل بھی کی جس میں کئی بھارتی سرمایہ داروں کی کمپنیاں شامل تھیں ۔یہی سرمایہ دار موجودہ حکومت کو اسرائیل کے اس قدر قریب لے گئے کہ اب وہاں سے واپسی آسان نہیں ہوگی۔خاص طورپراڈانی گروپ جو اپنے مفاد کے لئے قومی مفاد کو دائوں پر لگانے سے بھی نہیں ہچکچائے گا۔

امریکی صدر کے اضافی ٹیرف کو کم کرنے کے پیچھے کئی اہم وجوہات ہیں ۔حال ہی میںاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کی ایک خاص نشست میں ایران کے اندر ہونے والے احتجاجات کے بہانے ’ریاستی تشدد‘ پر مبنی قرارداد پیش کی گئی تھی ،جس کے پیچھے امریکی سازشیں کارفرماتھیں تاکہ امریکہ کو ایران پر فوجی کاروائی کا جواز مل سکے ،اس اجلاس میں پچیس ممالک نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا،جب کہ چودہ ملک مستعفیٰ ہوگئے اور سات ملکوں نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیاجس میں ہندستان بھی شامل تھا۔ہندستان نے اپنی سابقہ خارجہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی تھی مگر امریکہ اس مخالفت پر بھونچکارہ گیا۔کیونکہ عالمی سطح پر ہندستان کی مخالفت معنی خیزہے لہذا ٹرمپ کے تیور ڈھیلے پڑگئے ۔اس قرارداد کی مخالفت کے کچھ ہی دن بعد امریکی صدر نے ہندستان پر عائد اضافی ٹیرف میں تخفیف کردی۔اس کے بعد امریکی صدر کی خواہش یہ ہوگی کہ ہندستان اقوام متحدہ میں اس کے مفادات کا خیال رکھے ،جس کے نقصانات ’اضافی ٹیرف ‘ سے زیادہ ہوں گے ۔امریکہ جو اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لئے پوری توانائی کے صرف کررہاہے ،کبھی نہیں چاہے گاکہ آئندہ ہندستان اسرائیل کے مفاد کے خلاف سلامتی کونسل میں رائے پیش کرے ۔کیونکہ عالمی سطح پر ہندستان کی رائے اہمیت رکھتی ہے جو امریکہ کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے ۔اگر ہندستان اسی طرح امریکی مفادات کے خلاف سلامتی کونسل میں حصہ لیتارہاتو کئی خدشات لاحق ہوںگے ،لہذا ٹرمپ نے اضافی ٹیرف کم کرکے موجودہ حکومت کو قریب کرنے کی کوشش کی ہے ۔موجودہ حکومت بھی اضافی ٹیرف کے مسئلے پر مسلسل تنقید کا شکار تھی جس نے یقیناً کچھ راحت کی سانس لی ہوگی۔البتہ امریکی درآمدات پر ہندستان کی طرف سے کوئی ٹیرف نافذ نہیں ہے یہ ایک معمہ ہے ۔

ہندوستان کا نظریہ ہمیشہ علاقائی سالمیت اور امن کی بحالی پر مبنی رہاہے ۔موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ ہندوستان کی اس دیرینہ روایت کو زندہ رکھے ۔امریکہ اور اسرائیل جیسی ریاستیں اپنے مفادکی تلاش میں رہتی ہیں ۔وہ کبھی کسی دوسری ریاست کے قومی مفادات کو ترجیح نہیں دیتیں ،جس کا مشاہدہ ہم نے حالیہ چند برسوں میں بھی کیا۔اس لئے ان امریکہ اور اسرائیل کے پیچھے بھاگنا اپنے قومی وقار کو کھودینے کے مترادف ہوگا۔ہندستان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال رکھے اور کسی عالمی دبائو کو خاطر میں نہ لائے ۔اگر ہمیں ’وشوو گرو‘ بنناہے تو امریکی دبائو کو نظر انداز کرکے اپنا عالمی بھرم قائم کرناہوگا۔اس کے بغیر نہ تو ہم خودکفیل ہندستان کی تعمیر کرسکتے ہیں اور نہ ’وشوو گرو‘ بننے کی راہ میں پیش رفت کرسکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha