حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، احمد لقمانی نے حرمِ مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اہلِ خانہ سے مہربانی انسان کی شبِ قدر کو منفرد اور بابرکت بنا دیتی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ شیطان ہمیشہ انسان کو غفلت اور جہالت میں مبتلا رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ ماہِ رمضان ان شیطانی غفلتوں سے نجات کا بہترین موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر صاحبِ عقل انسان ایسی راہ کی تلاش میں ہوتا ہے جو اس کی دنیا کو سنوار دے اور آخرت کو مزید روشن بنا دے۔ بسا اوقات ایک غلطی یا بے جا تردد پوری عمر کی محنت کو ضائع کر دیتا ہے، اسی لیے بزرگانِ دین نے نصیحت کی ہے کہ ایسا کوئی عمل نہ کیا جائے کہ زندگی کے آخری ایام میں “اے کاش” کہنا پڑے۔
حجت الاسلام لقمانی نے محاسبۂ نفس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح تاجر سال کے اختتام پر حساب کتاب اور انبار گردانی کرتے ہیں، اسی طرح انسان کو بھی سال کے آخری دنوں میں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس نے گزشتہ سال کیا کھویا اور کیا پایا۔ انہوں نے بتایا کہ دینی اکابرین نے سونے سے قبل روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ بہت سے اہلِ قبور ایسے ہیں جو ماہِ شعبان اور رمضان کا ایک لمحہ دوبارہ پانے کی آرزو رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی کے لیے معنوی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اگر انسان خود منصوبہ بنائے تو وہ پرواز کرتا ہے اور اپنی منزل تک پہنچتا ہے، لیکن اگر دوسروں کے منصوبوں کا اسیر بن جائے تو اسے وہاں پہنچایا جاتا ہے جہاں دوسرے چاہتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تقویٰ کا ایک اہم تقاضہ یہ ہے کہ انسان راستہ نہ بھولے اور بامقصد زندگی گزارے، کیونکہ محض جینا تو حیوان بھی جانتا ہے، اصل کمال رشد و کمال کی منازل طے کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زیادتی اور بے اعتدالی انسان کو رسوا کر دیتی ہے، لہٰذا ماہِ رمضان سے پہلے یہ عہد کر لیا جائے کہ دوسروں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کریں گے اور اپنے گھر والوں سے مہربانی کریں گے، تاکہ اس سال ایک مختلف اور با برکت شبِ قدر نصیب ہو۔









آپ کا تبصرہ