بدھ 18 فروری 2026 - 04:00
احکام شرعی | کیا گناہگار شخص دوسروں کو اسی گناہ سے روک سکتا ہے؟

حوزہ/ رہبرِ معظمِ انقلاب نے «گناہگار شخص کے امر بالمعروف» کے موضوع پر ایک استفتاء کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ‌ای نے «گناہگار شخص کا امر بالمعروف» کے موضوع پر ایک استفتاء کا جواب دیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال: کیا وہ شخص جو خود دینی احکام پر عمل نہیں کرتا یا کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، اسے دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کا حق یا فریضہ حاصل ہے؟ یا گناہگار ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری اس سے ساقط ہو جاتی ہے؟

جواب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ نصیحت کرنے والا خود ان تمام احکام پر عمل پیرا بھی ہو جن کی وہ تلقین کر رہا ہے، یا جن گناہوں سے وہ دوسروں کو روک رہا ہے اُن سے مکمل طور پر اجتناب بھی کرتا ہو۔

یعنی امر و نہی کا فریضہ گناہگار شخص پر بھی واجب ہے، اور وہ یہ عذر پیش کر کے کہ “میں خود گناہ کرتا ہوں” اس عظیم ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

دینی منابع میں ان افراد کی سخت مذمت کی گئی ہے جو خود عمل نہیں کرتے لیکن دوسروں کو عمل کی دعوت دیتے ہیں، یا خود گناہ کرتے ہیں اور دوسروں کو منع کرتے ہیں۔ تاہم یہ مذمت اس بات پر ہے کہ انہوں نے خود اپنی ذمہ داری پر عمل نہیں کیا، نہ کہ اس بات پر کہ انہوں نے امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کیوں کیا۔

یعنی اصل کوتاہی ان کا خود عمل نہ کرنا ہے، نہ کہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دینا یا برائی سے روکنا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha