حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ مجتہدی تہرانی نے اپنی ایک تقریر میں بے جا سوالات اور ان کے گناہ آلود نتائج کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ انسان کو ایسی باتیں اور سوالات ترک کر دینے چاہییں جو اس کے کام کے نہیں ہوتے، کیونکہ بعض اوقات ایک معمولی سا سوال بھی کسی کو جھوٹ یا ریاکاری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان میں کسی سے یہ پوچھنا کہ "آپ روزے سے ہیں یا نہیں؟" ایک غیر ضروری سوال ہے۔ اگر سامنے والا شخص روزے سے ہو تو ممکن ہے وہ ریا سے بچنا چاہے اور اپنی عبادت کو ظاہر نہ کرنا چاہتا ہو، اور اگر وہ کسی عذر، مثلاً بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکا ہو تو شاید وہ یہ بات لوگوں پر ظاہر کرنا نہ چاہتا ہو۔ اس طرح ہمارا ایک سوال اسے یا تو جھوٹ بولنے پر مجبور کر سکتا ہے یا ریاکاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔
مرحوم آیت اللہ مجتہدی تہرانی نے تاکید کی کہ انسان کو فضول گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی لگتی ہیں مگر نامۂ اعمال کو بھاری کر دیتی ہیں۔ بعض سوالات دوسروں کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں اور ان کے لیے گناہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں انہوں نے نقل کیا کہ بزرگ عالم، آیتالله بهجت کی مجلس میں اگر کوئی ایک گھنٹہ بھی بیٹھتا تو آپ خود سے گفتگو شروع نہیں کرتے تھے، مگر جب کوئی ضروری سوال کیا جاتا تو مختصر اور بامعنی جواب دیتے تھے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ خاموشی، غیر ضروری کلام سے بہتر ہے۔
پیغام واضح ہے: غیر ضروری سوالات اور بے فائدہ گفتگو سے بچیں، سنی سنائی باتوں پر فوراً ردِعمل نہ دیں، اور زبان کو گناہ کے اس جال سے محفوظ رکھیں جو بظاہر معمولی باتوں سے شروع ہوتا ہے۔









آپ کا تبصرہ