حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جعفریہ الائنس پاکستان کے ترجمان علامہ سید باقر زیدی نے خیرپور میں کالعدم تکفیری جماعت کی ریلی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے پُرتشدد واقعے کو انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس عزم کو چیلنج کرتا ہے جو محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
انہوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبۂ سندھ بھر میں محرم کے ایام میں ہزاروں مجالس اور عشرے منعقد ہوئے، مگر کہیں بھی امن و امان کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا؛ تاہم، 11 محرم کو خیرپور میں اسی کالعدم جماعت نے ریلی نکال کر عزاداروں کے گھروں پر حملے کیے، خواتین پر تشدد کیا اور سبیل امام حسین (ع) کو نقصان پہنچایا۔ یہ تمام کاروائیاں انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہوئیں، مگر وہ انہیں روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے علاقے ملیر میں عاشورہ کے جلوس کے دوران بھی اسی کالعدم جماعت کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سندھ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ان دہشت گرد عناصر کو لگام دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تکفیری آئیڈیالوجی ملک پاکستان کے امن و امان کے لیے شدید خطرہ بن رہی ہے اور یہی سوچ کراچی میں رینجرز ڈپو پر حملے کی بھی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ خوارج دہشت گرد انہی تکفیری مدارس میں پنپ رہے ہیں اور سیکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف فوری اور مؤثر ایکشن لیں۔
علامہ باقر زیدی نے مطالبہ کیا کہ خیرپور میں عزاداروں پر تشدد کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ