پیر 29 جون 2026 - 14:53
سرینگر میں رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مجلسِ عزا؛ اتحادِ امت اور پیغامِ کربلا پر شیعہ و سنی علماء کا بیان

حوزہ/ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شہدائے کربلا کی یاد میں مجلسِ عزاء کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، قراء، سماجی شخصیات اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شہدائے کربلا کی یاد میں مجلسِ عزاء کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، قراء، سماجی شخصیات اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے امام حسینؑ کی عظیم قربانی کو حق، عدل، صبر اور ظلم کے خلاف استقامت کی ابدی علامت قرار دیتے ہوئے اتحادِ امت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔

جموں و کشمیر کے سرینگر کے علاقے راولپورہ میں رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن کے چیئرمین شیخ فردوس علی کی رہائش گاہ پر شہدائے کربلا کی یاد میں مجلسِ حسینی کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے جید علماء، قراء کرام، سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

مجلس میں آغا سید علی موسوی، مولانا ابو تراب، ڈاکٹر مشرو، مولانا شاہد، مولانا نعیم احمد خان، مولانا مومن حسین، ڈاکٹر ارشاد حسین، حاجی لعل دین میر، یوسف حسینی، محمد اشرف خان، ڈاکٹر وحید رضا، آغا سید قاسم موسوی، مولانا طالب، سمیر صاحب، ساجد حسین اور لبیک خامنہ ای ونگ کے اراکین سمیت متعدد معزز شخصیات شریک ہوئیں۔

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ واقعۂ کربلا حق، انصاف، قربانی، صبر اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا ایسا عالمگیر پیغام ہے جو ہر دور میں انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات انسان کو عدل، اخلاقی جرأت اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہیں۔

علماء نے اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربلا کا پیغام کسی ایک مکتبِ فکر تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، انصاف اور بقائے باہمی کا منشور ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو نفرت، انتشار اور فرقہ واریت کو ہوا دے کر جموں و کشمیر کی صدیوں پرانی مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن کے چیئرمین شیخ فردوس علی نے تمام علماء، قراء، سماجی شخصیات اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں امن، اتحاد اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مومنین کا متحد رہنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن اتحاد المسلمین، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور معاشرے کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha