حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم میں حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں قرآن کریم کی تفسیر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام میثم حمیدی نیک نے کہا کہ سورۂ ق بنیادی طور پر توحید، نبوت اور معاد کے موضوعات پر مشتمل ہے، جس میں انسانوں کو اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کے دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے سورۂ ق کی آیات 31 تا 35 کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو متقین کے قریب قرار دیا ہے اور جنت کے مستحق افراد کی چار صفات بیان کی ہیں۔ پہلی صفت "اوّاب" ہے، یعنی وہ شخص جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا رہے اور توبہ و استغفار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے
انہوں نے کہا کہ دوسری صفت "حفیظ" ہے، یعنی ایسا شخص جو اپنے دین، خاندان، معاشرے اور اسلامی اقدار کی حفاظت کرے اور اللہ کے احکام کی پابندی میں غفلت نہ برتے۔
حجت الاسلام حمیدی نیک کے مطابق تیسری صفت یہ ہے کہ انسان تنہائی اور پوشیدہ حالات میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے بچے، جبکہ چوتھی صفت "قلبِ منیب" ہے، یعنی ایسا دل جو ہمیشہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان چار صفات کے حامل افراد کے لیے اللہ تعالیٰ نے چار عظیم انعامات کا وعدہ کیا ہے: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخلہ، ہمیشہ کے لیے جنت میں قیام، ہر مطلوب نعمت کی فراہمی اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطائیں۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو منیب یعنی اپنی طرف رجوع کرنے والا، حفیظ یعنی دین کی حفاظت کرنے والا، خشیتِ الٰہی رکھنے والا اور قلبِ منیب کا حامل بندہ بنائے تاکہ ابدی جنت کی نعمتیں نصیب ہوں۔









آپ کا تبصرہ