تحریر:عامر حسین کشمیری
حوزہ نیوز ایجنسی|
تاریخ کے کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو الفاظ کے دائرے میں نہیں سماتے، بلکہ وہ انسانی جذبوں، عقیدتوں اور اشکوں کے سیلاب کی صورت میں سڑکوں پر بہتے نظر آتے ہیں۔ تہران کی سڑکوں نے اپنی تاریخ میں کئی بڑے اجتماعات دیکھے ہیں، لیکن رہبرِ شہید کی الوداعی تقریب (تشییع جنازہ) نے وفاداری، محبت اور مقاومت (مزاحمت) کی ایک ایسی نئی اور لازوال داستان رقم کر دی، جسے دنیا نے "تہران کا سمندر" قرار دیا۔
یہ صرف ایک جنازہ نہیں تھا، بلکہ ایک نظریے، ایک سوچ اور ایک ایسے قائد کے ساتھ عہدِ وفا کا تجدیدِ بیعت تھا جس نے اپنی پوری زندگی مظلوموں کی حمایت اور حق کی سربلندی کے لیے وقف کر دی تھی۔
رہبرِ شہید کی تشییعِ جنازہ کے دن تہران کا کوئی بھی راستہ ایسا نہیں تھا جہاں انسانوں کا سر نظر نہ آ رہا ہو۔ لاکھوں نہیں، بلکہ کروڑوں کا یہ مجمع کسی زبردستی یا پروٹوکول کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ دلوں کی وہ تڑپ تھی جو لوگوں کو اپنے محبوب قائد کے آخری دیدار کے لیے کھینچ لائی تھی۔
فضا لبیک یا شہید، مرگ بر استکبار اور رہبر کے نظریات کو زندہ رکھنے کے نعروں سے گونج رہی تھی۔
اس الوداعی سفر میں بوڑھے، جوان، خواتین اور بچے سبھی شامل تھے۔ حتّیٰ کہ وہ لوگ بھی جو روایتی طور پر بہت زیادہ مذہبی نہیں سمجھے جاتے، اپنے وطن اور ملت کے اس عظیم محافظ کی شہادت پر اشکبار تھے۔
دشمنوں کا خیال تھا کہ رہبرِ شہید کی شہادت سے قوم ٹوٹ جائے گی، تحریک کمزور ہو جائے گی اور عوام مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔ لیکن تہران کی سڑکوں پر بہتے انسانی سمندر نے دنیا کے تمام تجزیہ نگاروں کے اندازے غلط ثابت کر دیے۔
"شہادت، تحریکوں کو ختم نہیں کرتی بلکہ انہیں نئی زندگی اور حرارت بخشتی ہے۔ تہران کی تشییع اس بات کا ثبوت تھی کہ قائد اور عوام کے درمیان رشتہ سیاسی نہیں، بلکہ ایمانی اور قلبی ہے۔"
عوام کا اتنی بڑی تعداد میں نکلنا اس بات کا اعلان تھا کہ:-
قائد کا جسم رخصت ہو چکا ہے، لیکن ان کا مشن اور ان کا فکر ہر ایک عزادار کے دل میں زندہ ہے۔
اس جمِ غفیر نے ثابت کیا کہ دباؤ، پابندیاں اور دھمکیاں اس قوم کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
اس تاریخی تشییعِ جنازہ نے بین الاقوامی سطح پر بھی ایک گہرا اور واضح پیغام دیا۔ عالمی میڈیا، جو اکثر ایسے اجتماعات کو کم دکھانے کی کوشش کرتا ہے، اس "انسانی سمندر" کو نظر انداز نہ کر سکا۔
استکباری قوتوں کو اندازہ ہو گیا کہ جس قیادت کو وہ ختم کرنا چاہتے تھے، وہ اب عوام کے جذبوں میں ڈھل کر اور زیادہ ناقابلِ شکست ہو چکی ہے۔
فلسطین، لبنان اور دنیا بھر کے محروم و مظلوم طبقات کے لیے یہ تشییع ایک ڈھارس تھی کہ ان کے پشت پناہ قائد کی فکر کو ماننے والے آج بھی لاکھوں کی تعداد میں میدان میں موجود ہیں۔
المختصر تہران کی سڑکوں پر نظر آنے والا وہ سمندر صرف آنسوؤں کا سیلاب نہیں تھا، بلکہ وہ غیرت، حمیت اور وفاداری کا ایک ایسا طوفان تھا جس نے ثابت کر دیا کہ رہبرِ شہید کی خاکِ پا پر کروڑوں دل دھڑکتے ہیں۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ جب وقتِ امتحان آیا، تو قوم نے اپنے شہید قائد کے خون سے غداری نہیں کی، بلکہ اپنے بے پناہ اجتماع سے یہ لکھ دیا: "رہبر کا مشن کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اے پروردگارِ عالم! تو گواہ ہے کہ ہم نے اپنے شہید قائد کی محبت میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ اے مالکِ ارض و سماوات، اس شہیدِ راہِ حق کی شہادت کو ہماری ملت کے لیے بیداری کا پیغام اور اتحاد کی نوید بنا دے۔
اے باری تعالیٰ! ان کی قربانی کے طفیل ہمارے دلوں میں وہ بصیرت پیدا کر کہ ہم حق اور باطل کا فرق جان سکیں اور جس مشن کی آبیاری انہوں نے اپنے خون سے کی ہے، اسے پائے تکمیل تک پہنچانے کی ہمت عطا فرما۔ اے اللہ! ہماری صفوں میں اتحاد، ہمارے کردار میں اخلاص اور ہمارے عزائم میں وہ استحکام پیدا کر جو طوفانوں کے سامنے دیوارِ آہن بن سکے۔
پروردگار! ہمارے اس شہید قائد کے درجات بلند فرما، ان کی قبر کو نور سے منور کر، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہر مخلص انسان کی حفاظت فرما۔ ہمیں اس راستے پر استقامت عطا کر جس پر چل کر تیری رضا حاصل ہو اور جس کے اختتام پر شہادت کا رتبہ نصیب ہو۔









آپ کا تبصرہ