ہفتہ 25 جولائی 2026 - 11:12
واقعۂ عاشورا اب تک کیوں زندہ ہے؟

حوزہ / امام حسین علیہ السلام نے 10 محرم 61 ہجری کو اپنا سب کچھ قربان کر کے یہ ثابت کر دیا کہ دین، حق اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

محمد ایوب حسن صابری، جامعۃ النجف، سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی | انسانی تاریخ میں ہزاروں جنگیں لڑی گئیں، بے شمار حکمران آئے اور مٹ گئے۔ بادشاہوں کے نام تاریخ کے اوراق سے محو ہو گئے اور عظیم سلطنتوں کے آثار بھی صفحۂ ہستی سے مٹ گئے لیکن 10 محرم الحرام 61 ہجری، مطابق 10 اکتوبر 680ء کو عراق کی سرزمین کربلا میں پیش آنے والا ایک واقعہ آج بھی چودہ صدیوں بعد اسی تازگی، اسی درد اور اسی حرارت کے ساتھ دلوں میں زندہ ہے۔ وہ عظیم واقعہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا اصحاب کی شہادت کا واقعہ ہے۔

آخر اس واقعے میں ایسی کیا خصوصیت تھی جس نے اسے امر کر دیا؟ واقعۂ عاشورا آج تک کیوں زندہ ہے؟ اس کے متعدد تاریخی، اخلاقی، فکری اور روحانی اسباب ہیں۔

کربلا کے زندہ رہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک واضح اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔ سن 60 ہجری میں معاویہ بن ابوسفیان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے یزید نے اقتدار سنبھالا۔ معاویہ نے اپنی زندگی ہی میں خلافت کے نظام کو موروثی بادشاہت میں تبدیل کرتے ہوئے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا تھا۔ یزید ایک فاسق و فاجر، ظالم اور دین کی کھلم کھلا بے حرمتی کرنے والا شخص تھا۔ جب مدینہ کے گورنر نے امام حسین علیہ السلام سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا: "مجھ جیسا شخص، اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔"

امام حسین علیہ السلام 28 رجب 60 ہجری کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے۔ کوفہ کے لوگوں کی جانب سے ہزاروں خطوط موصول ہونے پر آپ 8 ذی الحجہ کو امت کی اصلاح کے مقصد سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں معلوم ہوا کہ کوفہ والوں نے بے وفائی کی ہے اور حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا ہے۔ 2 محرم 61 ہجری کو آپ کا مختصر قافلہ کربلا کی بے آب و گیاہ سرزمین پر پہنچا۔ عمر بن سعد کی قیادت میں ہزاروں کا لشکر آپ کے مقابل آ کھڑا ہوا۔ 7 محرم کو آپ، آپ کے اہلِ بیت علیہم السلام اور ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔ مذاکرات کی تمام راہیں مسدود کر دی گئیں۔ بالآخر 10 محرم کو جنگ کا آغاز ہوا۔

کربلا کے امر ہونے کی دوسری وجہ اس کی بے مثال قربانی اور مظلومیت ہے۔ تاریخ میں ایسی قربانی کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ عاشورا کی صبح سے عصر تک ایک ایک کرکے وفادار جانثار شہید ہوتے گئے۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام میدان میں اترے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام شہید ہوئے۔ حضرت عباس علمدار علیہ السلام فرات سے پانی لانے گئے اور اپنے دونوں بازو قربان کر کے شہادت پائی۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام، جو صرف چھ ماہ کے شیر خوار تھے، پیاس کی حالت میں تیر کا نشانہ بنے۔ آخر میں حضرت امام حسین علیہ السلام خود میدان میں تشریف لائے اور بے مثال شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اس کے بعد آپ کا سرِ مبارک نیزے پر بلند کیا گیا۔ 11 محرم کو خیموں کو آگ لگا دی گئی اور اہلِ بیت علیہم السلام کی خواتین اور بچوں کو اسیر بنا کر پہلے کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا۔ ایسی عظیم مظلومیت کو انسانی ضمیر کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

واقعۂ کربلا کے زندہ رہنے کی تیسری وجہ اس کا ابدی اور عالمگیر پیغام ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة"، یعنی ذلت کو قبول کرنا ہم سے بہت دور ہے۔ آپ کے سامنے دو راستے تھے؛ ایک یہ کہ یزید کی بیعت کرکے ظاہری سکون اور آسائش اختیار کر لیتے، اور دوسرا یہ کہ حق کی خاطر ہر قربانی پیش کر دیتے۔ آپ نے حق کا راستہ اختیار کیا۔ یہی پیغام آج بھی دنیا بھر کے مظلوموں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اسی لیے جب بھی کوئی قوم ظلم و استبداد کے خلاف قیام کرتی ہے تو امام حسین علیہ السلام کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔

چوتھی وجہ امام حسین علیہ السلام کا عظیم مقصد ہے۔ آپ نے فرمایا: "میں فساد اور سرکشی کے لیے نہیں نکلا، بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔" اگر اس دن امام حسین علیہ السلام خاموشی اختیار کر لیتے اور یزید کی بیعت کر لیتے تو اسلام کی حقیقی تعلیمات مسخ ہو جاتیں۔ آپ نے اپنے مقدس خون سے اسلام کی اصل روح اور اس کی اقدار کو محفوظ کر دیا۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہلِ علم نے کہا ہے کہ اسلام کی بقا میں کربلا کا بنیادی کردار ہے۔

پانچویں اور نہایت اہم وجہ اس واقعے کا مسلسل زندہ رہنا ہے۔ مورخین نے اسے تفصیل سے قلم بند کیا، علماء اور خطباء نے ہر سال محرم میں اسے بیان کیا، شعراء نے مرثیوں اور نوحوں کے ذریعے اس کی یاد تازہ رکھی اور ماؤں نے اپنی نسلوں کو کربلا کا پیغام منتقل کیا۔ جب کوئی قوم اپنے عظیم واقعات کو مسلسل یاد رکھتی ہے تو وہ تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن جاتے ہیں۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے 10 محرم 61 ہجری کو اپنا سب کچھ قربان کر کے یہ ثابت کر دیا کہ دین، حق اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا آج بھی انسانیت سے یہ سوال کرتی ہے: کیا تم ظلم دیکھ کر خاموش رہو گے؟ کیا تم حق کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ رکھتے ہو؟ کیا تمہاری زندگی اصولوں پر قائم ہے یا مفادات پر؟

جب تک دنیا میں ظلم، جبر اور ناانصافی موجود رہے گی، لوگ امام حسین علیہ السلام سے ہمت، حوصلہ اور استقامت حاصل کرتے رہیں گے۔ اسی لیے واقعۂ عاشورا آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔

السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا عَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنِ عَلَیْہِ السَّلَامُ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha