تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اہلِ بیتؑ کی نگاہ میں اربعین کی عظمت
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات میں اربعینِ امام حسین علیہ السلام کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اگرچہ اسلام میں بہت سے ایام فضیلت رکھتے ہیں، لیکن اربعین وہ دن ہے جسے خود ائمۂ معصومینؑ نے ایمان، ولایت اور وفاداریِ دین کی علامت قرار دیا ہے۔
اربعین صرف چالیس دن پورے ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ اس عظیم تحریک کی بقا کا اعلان ہے جس کی بنیاد امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن اپنے پاکیزہ خون سے رکھی۔ اگر عاشورا قربانی کا دن ہے تو اربعین اس قربانی کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد ان کی قبر کو ہدایت کا مرکز قرار دیا، جہاں آنے والا بندہ معرفت، رحمت اور مغفرت حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمۂ اہلِ بیتؑ نے اپنے ماننے والوں کو بارہا زیارتِ حسینؑ کی تاکید فرمائی۔
اربعین؛ مؤمن کی پہچان
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:«عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ: صَلَاةُ إِحْدَى وَخَمْسِينَ، وَزِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ، وَالتَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ، وَتَعْفِيرُ الْجَبِينِ، وَالْجَهْرُ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.»
ترجمہ:"مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں: اکیاون رکعت نماز، زیارتِ اربعین، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی، سجدے میں پیشانی کو خاک پر رکھنا، اور نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا۔"
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ زیارتِ اربعین محض ایک مستحب عمل نہیں بلکہ مؤمن کی شناخت ہے۔
اس حدیث میں جن اعمال کو ذکر کیا گیا ہے وہ سب ولایتِ اہلِ بیتؑ سے تعلق رکھتے ہیں۔ گویا اربعین انسان کے ایمان، عبادت اور ولایت کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔
زیارتِ اربعین کا عظیم پیغام
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے زیارتِ اربعین میں امام حسینؑ کے قیام کا مقصد یوں بیان فرمایا:«وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلَالَةِ»
ترجمہ:"انہوں نے تیری رضا کے لیے اپنا خون پیش کیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی سے نجات دلائیں۔"
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو پورے واقعۂ کربلا کی تفسیر بن جاتا ہے۔
امام حسینؑ نے کسی ذاتی اقتدار کے لیے قیام نہیں کیا بلکہ:
دین کی حفاظت کے لیے؛
امت کی اصلاح کے لیے؛
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احیاء کے لیے؛
ظلم اور استبداد کے خاتمے کے لیے؛
اور انسان کو خدا کی بندگی کی طرف لوٹانے کے لیے اپنی جان قربان کی۔
اسی لیے زیارتِ اربعین ہر سال انسان کو یہ عہد یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں جہالت، ظلم، فساد اور باطل کے خلاف کھڑا ہوگا۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں اربعین کا پیغام
اگرچہ قرآن میں لفظ "اربعینِ امام حسینؑ" نہیں آیا، لیکن وہ تمام اصول جن پر امام حسینؑ نے قیام فرمایا، قرآن کا بنیادی پیغام ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران: 169)
ترجمہ:"جو لوگ راہِ خدا میں شہید ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔"
امام حسینؑ اس آیت کا کامل مصداق ہیں۔
اسی طرح قرآن فرماتا ہے:"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ" (الشوریٰ: 23)
یہ آیت اہلِ بیتؑ سے محبت کو رسالت کا اجر قرار دیتی ہے، اور اربعین اسی محبت کا عملی اظہار ہے۔
زیارتِ امام حسینؑ کی فضیلت
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:"جو شخص معرفت کے ساتھ امام حسینؑ کی زیارت کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہزار حج، ہزار عمرے اور ہزار شہداء کا ثواب لکھتا ہے۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:"اگر لوگ جان لیں کہ زیارتِ حسینؑ میں کتنی فضیلت ہے تو شوق میں جان دے دیں۔"
یہ روایات بتاتی ہیں کہ زیارت کا مقصد صرف قبر کی حاضری نہیں بلکہ امامؑ کے مقصد سے وابستگی ہے۔
تاریخِ اسلام میں پہلا اربعین
مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ، حضرت عطیہ عوفی کے ساتھ 20 صفر 61 ہجری کو کربلا پہنچے۔
حضرت جابرؓ نے پہلے غسل کیا، خوشبو لگائی، پھر نہایت ادب کے ساتھ قبرِ مبارک کی طرف روانہ ہوئے۔
قبر پر پہنچ کر فرمایا:"حبیب لا یجیب حبیبہ" "کیا دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دیتا؟"
پھر گریہ کیا اور امام حسینؑ کو سلام پیش کیا۔
اسی وجہ سے حضرت جابرؓ کو امام حسینؑ کا پہلا زائر کہا جاتا ہے۔
اہلِ بیتؑ کی واپسی
بعض معتبر شیعہ روایات کے مطابق اسی دن حضرت امام زین العابدینؑ، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور دیگر اسیرانِ اہلِ بیتؑ شام سے واپس کربلا آئے۔
انہوں نے شہداء کی قبور پر گریہ کیا، مصائب کو یاد کیا اور کربلا کے پیغام کی تجدید کی۔
اگرچہ بعض مؤرخین اس واقعہ کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں، لیکن شیعہ روایت میں یہ دن وفاداری اور تجدیدِ عہد کی علامت کے طور پر محفوظ ہے۔
اربعین؛ دنیا کا سب سے بڑا پُرامن اجتماع
آج اربعین دنیا کا سب سے بڑا سالانہ مذہبی اجتماع ہے۔
ہر سال کروڑوں زائرین عراق پہنچتے ہیں۔
وہ مختلف ممالک، زبانوں، قوموں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں، مگر سب کا مقصد ایک ہوتا ہے:
"لبیک یا حسینؑ"
اس سفر میں نہ دولت کی برتری ہوتی ہے، نہ قومیت کی، نہ زبان کی۔
ہر شخص دوسرے کی خدمت کو عبادت سمجھتا ہے۔
موکبوں میں بلا امتیاز کھانا، پانی، علاج، آرام، حتیٰ کہ جوتوں کی صفائی تک کی خدمت پیش کی جاتی ہے۔
یہ دنیا میں اخوت، مساوات اور ایثار کی بے مثال مثال ہے۔
اربعین؛ انتظارِ امام مہدیؑ کی علامت
علمائے شیعہ نے بیان کیا ہے کہ اربعین صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی امید بھی ہے۔
جو شخص امام حسینؑ کے راستے پر ثابت قدم رہتا ہے، وہ درحقیقت حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔
اسی لیے اربعین کا شعار صرف ماتم نہیں بلکہ اصلاح، بیداری اور آمادگی ہے۔
اربعین کے عملی اسباق
اربعین ہمیں سکھاتا ہے کہ:
ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ عملی وفاداری کا نام ہے۔
ظلم کے سامنے خاموشی بھی ظلم کی مدد ہے۔
حق کی خاطر ہر قربانی دینا اہلِ ایمان کا شیوہ ہے۔
صبر، استقامت اور توکل کامیابی کی بنیاد ہیں۔
خدمتِ خلق بہترین عبادت ہے۔
اتحاد، اخوت اور مساوات اسلامی معاشرے کی اصل روح ہیں۔
ولایتِ اہلِ بیتؑ انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتی ہے۔
امام حسینؑ کی محبت انسان کے اخلاق، عبادت اور کردار کو سنوارتی ہے۔
عصرِ حاضر میں اربعین کی ذمہ داریاں
آج کے دور میں اربعین منانے کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان صرف عزاداری اور زیارت تک محدود نہ رہیں بلکہ امام حسینؑ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔
ہمیں چاہیے کہ:
معاشرے میں عدل و انصاف قائم کریں۔
مظلوموں کی حمایت کریں۔
نوجوان نسل کو کربلا کے حقیقی پیغام سے روشناس کرائیں۔
اہلِ بیتؑ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اخلاق، امانت، دیانت اور خدمتِ خلق کو فروغ دیں۔









آپ کا تبصرہ