بدھ 12 اگست 2026 - 20:28
خدا نے پیغمبر اکرم (ص) کو خاتم النبیین اور انسانِ کامل کی حیثیت سے انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین محسن جلالی نے کہا: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ایک حدیث میں رحلت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عظیم مصیبت قرار دیتے ہیں، ایسی مصیبت جس نے آپ علیہ السلام کے وجود کے ایک رکن کو توڑ دیا۔ ہم شیعیان کو بھی چاہیے کہ اس مصیبت کو عظیم سمجھیں، اس سوگ میں شریک ہوں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و منزلت کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے حوزہ علمیہ اصفہان کے امور تحقیق کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین محسن جلالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کے ایامِ سوگ کے حوالے سے کہا: 28 صفر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت اور 17 ربیع الاول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بلند مرتبہ، ہمہ جہت اور کامل شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین اور انسانِ کامل کی حیثیت سے انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اس عظیم ہستی کے وجود پر فخر کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات کو اہمیت دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت، ولادت اور بعثت کے ایام میں آپ کی یاد کو زندہ رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام قرآن کریم میں چار مرتبہ آیا ہے۔ سورۂ آل عمران میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ذکر ہوا ہے، جبکہ سورۂ محمد قرآن کریم کی واحد سورہ ہے جس کا نام ہی محمد ہے۔ اسی طرح سورۂ فتح میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ذکر ہوا ہے۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس سورہ کو استکبارِ عالم، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کی فتح و نصرت کے لیے عوام مساجد اور میدانوں میں انفرادی طور پر یا نمازِ استغاثہ کے دوران بھی تلاوت کرتے ہیں: «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ»

حجت الاسلام جلالی نے مزید کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کی صفات میں سے ایک نماز ہے۔ «تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا» یعنی انہیں رکوع و سجود کی حالت میں دیکھتے ہیں اور سجدے کے اثرات اور اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی عاجزی و تواضع مسلمانوں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے والوں کے چہروں پر نمایاں ہوتی ہے۔

انہوں نے ان سورتوں کی طرف بھی اشارہ کیا جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بیان ہوئی ہے اور کہا: سورۂ یٰسین میں، جو قرآن کریم کا قلب ہے، «یٰسین» کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ طٰہٰ میں «آلِ طٰہٰ» اور «آلِ یٰسین» کو خاندانِ پیامبر کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔

حوزہ علمیہ اصفہان کے امور تحقیق کے سرپرست نے کہا: سورۂ کوثر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا: «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» یعنی اے رسول اللہ! ہم نے آپ کو خیرِ کثیر اور کوثر عطا فرمائی۔ اسی طرح سورۂ انشراح میں ارشاد ہوتا ہے: «أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۝ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ ۝ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ ۝ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۝ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا»

یہ خطاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرحِ صدر عطا فرمایا اور بعثت و ہجرت کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بعد آسانی کی بشارت دی۔ یہ آسانی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے تمام مسلمانوں کو بھی نصیب ہوتی ہے۔ آج بھی جب ہمارے عوام صبر اور سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے آسانی اور فراوانی نصیب ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا: سورۂ ضحیٰ میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا: «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» یعنی عنقریب آپ کا پروردگار آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کتنی اہم ہے۔ اسی سورت میں ارشاد ہوتا ہے: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ * وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ» یعنی کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا تو پناہ دی اور آپ کو راہ سے ناواقف پایا تو ہدایت عطا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha