جمعرات 3 ستمبر 2026 - 11:09
رسول اکرمؐ کا نور قیامت تک انسانوں کی رہنمائی کرتا رہے گا: آیت اللہ العظمیٰ سبحانی

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے کہا ہے کہ رسولِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نور ہیں جس نے پوری انسانیت کو روشن کیا اور آپؐ کا نورِ وجود ہمیشہ، حتیٰ کہ قیامت تک انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی 1500ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کہا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله ربّ العالمین، والصلاة والسلام علی خاتم الأنبیاء وآله الطاهرین.

قال الله تعالی:إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا (سورۂ مریم، آیت 96)

رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و منزلت کے بارے میں گفتگو کرنا آسان نہیں، کیونکہ آپؐ فضائل کے مرکز ہیں اور تمام فضائل کی تمام جہتیں آپؐ کی ذاتِ مقدس میں یکساں طور پر جمع ہیں۔ اگر ہم شجاعت، زہد اور علم جیسی کسی بھی فضیلت کا ذکر کریں تو تمام فضائل آپؐ کی ذات میں کمال کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں اور کسی ایک فضیلت کو دوسری پر برتری حاصل نہیں۔ اسی لیے معذرت کے ساتھ اپنا پیغام نہایت مختصر انداز میں پیش کر رہا ہوں۔

جس آیہ مبارکہ کو سرنامہ کلام قرار دیا گیا ہے یہ مبارک آیت ایک تکوینی حقیقت کی خبر دیتی ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے۔ گویا معاشرے کی خدمت اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہونے کے درمیان براہِ راست تعلق ہے۔

یہ آیت تمام انبیائے الٰہی کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ تمام اقوام کے درمیان انبیاء علیہم السلام نے لوگوں کے دلوں میں ایک اہم مقام حاصل کیا، کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کے ذریعے انسانی معاشروں کی فکری اور عقلی ترقی کا سبب بننے کے ساتھ انسانوں کو پتھر، لکڑی اور دیگر مخلوقات کی پرستش سے روکا اور توحید و انسانی کمال کی طرف رہنمائی کی۔

اسی بنا پر قرآن کریم نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کو یوں بیان کیا ہے: ﴿وَالَّذِینَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی أُنزِلَ مَعَهُ أُولَٰئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

(سورۂ اعراف، آیت 157)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے چار امور کی دعوت دی ہے:

اول: «آمَنُوا بِهِ» یعنی رسولِ اکرمؐ اور آپؐ کی شریعت پر ایمان لائیں۔

دوم: «وَعَزَّرُوهُ» یعنی آپؐ کی تعظیم، تکریم اور احترام کریں۔

سوم: «وَنَصَرُوهُ» یعنی آپؐ کی مدد کریں۔

چہارم: «وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی أُنزِلَ مَعَهُ» یعنی اس دین اور نور کی پیروی کریں جو آپؐ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔

غور کیا جائے تو «وَعَزَّرُوهُ» اور «نَصَرُوهُ» ایک دوسرے کے ساتھ آئے ہیں۔ «عَزَّرُوهُ» سے مراد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم، تکریم اور مقام و مرتبے کا احترام ہے۔

قرآن کریم کی بعض آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو نعمتیں عطا فرمائیں، ان میں آپؐ کے نام اور ذکر کو بلند کرنا بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ؛ وَوَضَعْنَا عَنکَ وِزْرَکَ؛ الَّذِی أَنقَضَ ظَهْرَکَ؛ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾

(سورۂ شرح، آیات 1 تا 4)

’’کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا؟ اور آپ سے وہ بوجھ نہیں اتارا جو آپ کی کمر کو جھکا رہا تھا؟ اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔‘‘

لہٰذا ہر وہ کانفرنس، تقریر، شعر، مضمون اور سماجی سرگرمی جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور مقام کو بلند کرنے کا ذریعہ بنے، «وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ» کا مصداق قرار پا سکتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کانفرنس بھی اسی مبارک آیت کا ایک مصداق ہے۔

چونکہ ہر وہ عمل جو معاشرے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کو بلند کرنے کا سبب بنے، لوگوں کے دلوں میں آپؐ کی محبت اور رجحان پیدا کرنے میں مؤثر ہے، اس لیے نقل کیا گیا ہے کہ تقریباً سو سال قبل برطانیہ کے وزیر خارجہ نے رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور ذکر کے عام ہونے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا: «فما دام القرآن یُتلی، والکعبة یُطاف، ومحمدٌ یُذکر فی المآذن، والنصرانیة فی خطر عظیم.»

یعنی: ’’جب تک قرآن کی تلاوت ہوتی رہے گی، کعبہ کا طواف کیا جاتا رہے گا اور میناروں سے محمدؐ کا نام گونجتا رہے گا، عیسائیت کو ایک بڑے خطرے کا سامنا رہے گا۔‘‘

تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اسلامی فرقوں نے اس طرح کی کانفرنسوں کے انعقاد کو حرام قرار دیا ہے!

یہاں ہم ایک اور بات عرض کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے حواریوں نے آپؑ سے درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسمان سے ایک مائدہ (دسترخوان) نازل فرمائے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا﴾

(سورۂ مائدہ، آیت 114)

’’اے اللہ! ہمارے پروردگار! ہمارے لیے آسمان سے ایک مائدہ نازل فرما، جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید بن جائے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ آسمانی مائدہ، جس کا فائدہ صرف اتنا تھا کہ وہ کچھ مدت کے لیے ان کی جسمانی ضرورت پوری اور ان کی بھوک ختم کر دے، کیا اس محدود اثر رکھنے والی نعمت کو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے عید قرار دینے کے قابل سمجھا گیا؟ تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ایک ایسا نور تھی جس نے پوری انسانیت کو روشن کر دیا، اور آپؐ کے وجود کا نور ہمیشہ، قیامت تک انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔ کیا یہ مناسب نہیں کہ سب لوگ آپؐ کی ولادت کو عید قرار دیں، آپؐ کی شان میں نازل ہونے والی آیات کی تلاوت کریں اور آپؐ کی مدح و ستائش میں کہے گئے اشعار پڑھیں؟ البتہ شرط یہ ہے کہ یہ تمام مراسم ہر طرح کی آلودگی اور خلافِ شرع و خلافِ شان امور سے پاک ہوں۔

آخر میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اس کانفرنس کے منتظمین نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جو بھی کام انجام دیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور لائقِ قدر ہے۔ حتیٰ کہ جن لوگوں نے اس سلسلے میں کوئی شعر کہا، مضمون لکھا یا فلم بنائی، ان شاء اللہ سب اجر کے مستحق ہوں گے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جعفر سبحانی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha