محسنِ انسانیت؛ نبیِ رحمت (ص) کا طرزِ عمل

حوزہ/سرورِ دوجہاں، باعثِ تخلیقِ ارض و سماء، ختمی مرتبتؐ کو جب پروردگار نے اس دنیا میں مبعوث فرمایا تو ایسی شریعت کے ساتھ بھیجا جسے قیامت تک باقی رہنا تھا اور آپؐ کے ہمراہ معجزۂ خالدہ، قرآنِ حکیم، کو وحی کی صورت میں نازل فرمایا۔

تحریر:مولانا سید محمد فائز باقری، حوزہ علمیہ قم المقدسہ

حوزہ نیوز ایجنسی|

تمہید:

بعثتِ انبیاء کا مقصد اور اسوۂ رسولؐ

اعلیٰ اخلاق، بلند کردار اور انسانی فضائل و کمالات وہ مقصد ہیں جن کی تکمیل کے لیے پروردگارِ عالم نے زمین پر پہلے انسان کو ہادی بنا کر بھیجا، اور اس کے بعد انبیاء کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو بشریت کو دنیوی اور اخروی سعادت تک لے جانے کے لیے مبعوث کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرام کی بعثت کا مقصد تربیت، تزکیۂ نفوس، اور تعلیمِ قرآن و حکمت قرار دیا۔ نیز عدالت کا قیام انبیاء کا ایک اہم مقصد اور شرک و بت پرستی سے پاک معاشرے کی تشکیل رسولوں کی بنیادی تعلیم قرار پائی۔ یہ سب اہداف محض نظری تصورات نہ تھے بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے، بشمول جنگ و جدال کے میدان، میں ان کا اظہار مطلوب تھا، کیونکہ دین اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہے جو انسان کے انفرادی و اجتماعی، امن و جنگ، ہر حال کے آداب بیان کرتا ہے۔

سرورِ دوجہاں، باعثِ تخلیقِ ارض و سماء، ختمی مرتبتؐ کو جب پروردگار نے اس دنیا میں مبعوث فرمایا تو ایسی شریعت کے ساتھ بھیجا جسے قیامت تک باقی رہنا تھا اور آپؐ کے ہمراہ معجزۂ خالدہ، قرآنِ حکیم، کو وحی کی صورت میں نازل فرمایا۔ اس دین کی حفاظت کے لیے آپؐ کے اوصیاء اور جانشینوں کا سلسلہ بارہ اماموں کی شکل میں جاری کیا گیا، تاکہ یہ دین اور یہ شریعت گذشتہ شریعتوں کی طرح نابود اور انسانوں کی نفسانی خواہشات کی نذر نہ ہو۔ لہٰذا آپؐ کا اخلاق، کردار، عمل، اور زندگی کا ایک ایک لمحہ رہتی دنیا تک بشریت کے لیے اسوہ اور آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے، اور آپؐ کی تعلیمات ایک جامع و مکمل دستورِ حیات ہیں۔ یہی وہ اسوہ ہے جسے میدانِ جنگ میں بھی اسی جامعیت اور اسی رحمت کے ساتھ برتا گیا جس طرح امن کے حالات میں برتا جاتا تھا۔

چالیس سالہ زندگی: کردار کی گواہی خود مخالفین کی زبانی

آپؐ نے چالیس سال اپنے اخلاق اور کردار کا کلمہ اپنے دشمنوں سے بھی پڑھوا دیا، اور آپؐ کے مخالفین بھی آپؐ کو صادق اور امین کہتے تھے، اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھواتے تھے، اور آپؐ کی صداقت کے معترف تھے۔ اعلانِ رسالت کے بعد تیرہ سال تک اسی مکہ میں خدا کے دین کی تبلیغ میں منہمک رہے، اور اس راہ میں ہر سختی کو برداشت کیا اور ہر توہین کا نہایت خندہ پیشانی سے سامنا کیا، لیکن اپنے عقیدے، اپنے اخلاق اور اپنی تعلیمات کی تبلیغ میں کسی چیز سے ہراساں نہ ہوئے۔ اسی صبر و استقامت نے آگے چل کر جنگی حالات میں بھی آپؐ کے طرزِ عمل کی بنیاد رکھی: ایک ایسا کردار جو غصے، انتقام اور جذباتیت سے بالاتر تھا، اور جس میں حکمت، عدل اور رحمت کا امتزاج نمایاں تھا۔

آپؐ نے حجاز کے وحشی ماحول کو الٰہی رنگ میں بدل دیا، جاہلی معاشرے کو دنیا کے متمدن سماج میں تبدیل کردیا، اور حیوانی طرزِ حیات کو اسلامی طرزِ حیات کے اسلوب سکھائے۔ عرب کا معاشرہ اس دور میں جنگ و جدال کو معمول کی بات سمجھتا تھا؛ قبائلی چپقلشیں، خون کے بدلے خون، اور بلا تفریق قتل و غارت گری اس دور کی پہچان تھی۔ ایسے ماحول میں جنگ کے آداب مرتب کرنا اور ان پر عملی طور پر کاربند رہنا ایک انقلابی اقدام تھا جس نے آنے والی صدیوں کے لیے بین الاقوامی قانون اور جنگی اخلاقیات کی بنیاد رکھی۔

اخلاقی زندگی: ایک معجزہ

بطورِ اختصار یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپؐ کی اخلاقی زندگی اتنی تاثیر گزار تھی کہ اسے ایک معجزے سے کم تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ آپؐ کے دیگر معجزات کے ساتھ یہ بھی ایک معجزہ تھا، کیونکہ ایک عام انسان سے ایسے اخلاق کا سرزد ہونا آسان نہیں ہے، خصوصاً اس وقت جب انسان طاقت کے عروج پر ہو اور انتقام لینا اس کے لیے سب سے آسان راستہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو نبیِ رحمتؐ کے جنگی طرزِ عمل کو انسانی تاریخ کے تمام فاتحین سے ممتاز کرتا ہے: طاقت کے باوجود عاجزی، غلبے کے باوجود رحمت، اور فتح کے باوجود عفو کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔

مدینہ منورہ میں ریاست کا قیام اور حکمرانی کے اصول

جب آپؐ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہاں ایک اسلامی حکومت و ریاست تشکیل دی، تو بشریت کو حکومت کے اعلیٰ اصولوں، انسانیت کی خدمت کے افتخار آمیز اور فراموش نہ ہونے والے لمحات، اور محرومین و مستضعفین کی رسیدگی کے انمٹ نقوش سے روشناس کرایا۔ یہی ریاست وہ پلیٹ فارم بنی جہاں سے دفاعی اور بعض اوقات ناگزیر جنگیں لڑی گئیں، اور یہیں سے وہ اصول وضع ہوئے جو آج بھی جنگی اخلاقیات کی بنیاد شمار کیے جاتے ہیں۔

آپؐ کا اپنے ساتھیوں اور اصحاب سے بے تکلف، سادہ، ایثار و قربانی سے لبریز اور برابری و مساوات کا انداز ایسا تھا کہ کوئی پہچان نہیں پاتا تھا کہ ان میں نبی کون ہے۔ یہی مساوات اور یہی سادگی میدانِ جنگ میں بھی نظر آتی تھی: آپؐ خود خندق کھودنے میں شریک ہوتے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پتھر اٹھاتے، اور کبھی بھی اپنے آپ کو خصوصی مراعات کا حق دار نہ سمجھتے۔ اہلِ خانہ سے محبت آمیز اور لطف و مہربانی سے بھرا ہوا رویہ دلوں کو موہ لیتا تھا، اور دشمنوں سے ہمدردی، رفق و مہربانی، اور ان کی ہدایت و سعادت کے لیے کوشاں رہنا وہ کردار ہے جسے بشری تاریخ کی پیشانی پر ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

رحمت کا عملی مظہر

جنگ ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کا اصل جوہر، اس کا اخلاقی معیار، سب سے زیادہ آشکار ہوتا ہے، کیونکہ غصہ، خوف اور انتقام کے جذبات عروج پر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نبیِ رحمتؐ کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے۔ آپؐ نے جنگ کو کبھی مقصد نہیں بلکہ آخری چارۂ کار کے طور پر اختیار کیا، اور جب بھی جنگ ناگزیر ہوئی تو اس کے لیے واضح اصول اور حدود مقرر فرمائیں۔

آپؐ کی ہدایت تھی کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور راہبوں پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، غیر مسلح افراد کو نشانہ نہ بنایا جائے، کھیتوں اور باغات کو تباہ نہ کیا جائے، اور جانوروں کو بلاوجہ ہلاک نہ کیا جائے۔ لشکر روانہ کرتے وقت آپؐ اپنے سپہ سالاروں کو نصیحت فرماتے کہ عہد شکنی نہ کریں، دھوکہ نہ دیں، مثلہ (اعضاء کاٹنے) سے اجتناب کریں، اور کسی بھی ایسے شخص کو قتل نہ کریں جو جنگ میں شریک نہ ہو۔ یہ اصول اس دور میں غیر معمولی تھے جب جنگیں بلا امتیاز تباہی کا نام تھیں، اور ان اصولوں نے ثابت کیا کہ جنگ بھی ایک ایسی حالت ہے جسے اخلاق اور رحمت کے دائرے میں محدود کیا جاسکتا ہے۔

قیدیوں کے ساتھ سلوک میں بھی آپؐ کا طرزِ عمل بے مثال تھا۔ غزوۂ بدر کے بعد قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی گئی، یہاں تک کہ صحابہ کرام اپنے قیدیوں کو خود کھجوریں کھلاتے اور ان کے آرام کا خیال رکھتے، حالانکہ وہ خود سادہ خوراک پر گزارہ کرتے تھے۔ یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی انسانیت اور رحمت کے تقاضے فراموش نہیں کیے گئے، بلکہ دشمن کو بھی ایک انسان کے طور پر عزت دی گئی۔

فتحِ مکہ: عفو و درگزر کی عظیم مثال

فتحِ مکہ کا واقعہ نبیِ رحمتؐ کے طرزِ عمل کی سب سے روشن اور تابناک مثال ہے۔ وہی مکہ جہاں تیرہ سال تک آپؐ اور آپؐ کے پیروکاروں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، وہی مکہ جہاں سے آپؐ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا، جب فتح ہوا تو آپؐ نے انتقام کی بجائے عمومی معافی کا اعلان فرمایا۔ آپؐ نے اپنے شدید ترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا اور فرمایا کہ آج کوئی مواخذہ نہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ فاتح کی عظمت طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ عفو و درگزر میں پوشیدہ ہے۔ اس عمل نے نہ صرف مکہ کے باشندوں کے دل جیت لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی مثال قائم کی جو انسانی تاریخ میں کم یاب ہے۔

دشمن کے ساتھ ہمدردی اور ہدایت کی جستجو

نبیِ رحمتؐ کا یہ وصف کہ دشمنوں سے بھی ہمدردی، رفق و مہربانی اور ان کی ہدایت و سعادت کے لیے کوشاں رہنا، جنگی حالات میں بھی نمایاں رہا۔ طائف کے واقعے میں جب آپؐ کو پتھروں سے زخمی کیا گیا اور فرشتے نے دونوں پہاڑوں کو ملا کر ان لوگوں کو ہلاک کرنے کی پیشکش کی، تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ ان کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہی وہ جذبہ تھا جو آپؐ کو جنگی حالات میں بھی دشمن کی ہلاکت کے بجائے اس کی ہدایت کا خواہاں رکھتا تھا۔ جنگ کا مقصد کبھی بھی تباہی و بربادی نہیں بلکہ ظلم کا خاتمہ اور امن کا قیام تھا، اور جیسے ہی دشمن صلح یا امن کی طرف مائل ہوتا، آپؐ فوراً ہاتھ روک لیتے۔

خلاصہ اور نتیجہ

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نبیِ رحمتؐ کا طرزِ عمل آپؐ کے مجموعی کردار کا تسلسل تھا، جس کی بنیاد صداقت، امانت، عدل، اور رحمت پر استوار تھی۔ اسی لیے آپؐ نے جنگ کو کبھی مقصد نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر اپنایا، اور جب بھی اس ضرورت کا سامنا کرنا پڑا تو اس میں بھی انسانیت، اخلاق اور رحمت کے اصول فراموش نہ کیے۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں کی حفاظت، قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عہد کی پاسداری، اور فتح کے وقت انتقام کے بجائے عفو و درگزر، یہ سب وہ عملی نمونے ہیں جو آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپؐ کی سیرت اس بات کی گواہ ہے کہ حقیقی طاقت اور عظمت انتقام میں نہیں بلکہ رحمت، عدل اور عفو میں پنہاں ہے، اور یہی وہ اسوہ ہے جسے آج کی دنیا کوسب سے زیادہ ضرورت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha