پیر 7 ستمبر 2026 - 04:42
ڈیرہ اسماعیل خان؛ شیعہ اکابرین کا جشنِ میلادِ مصطفیٰ (ص) کی ریلی کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار

حوزہ / شیعہ علماء کونسل پاکستان، مجلس وحدت مسلمین، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، انجمن متولیان اور دیگر شیعہ اکابرین نے کوٹلی امام حسین علیہ السلام ڈیرہ اسماعیل خان میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جشنِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں ریلی کی اجازت نہ دینے پر ضلعی انتظامیہ کے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ رمضان توقیر، مرکزی جامع مسجد لاٹو فقیر کے خطیب علامہ غضنفر علی نقوی اور انجمن متولیان کے صدر تنویر حسین رضوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ دیگر شیعہ رہنما اور نمائندگان بھی موجود تھے۔

علامہ رمضان توقیر نے 6 ستمبر، یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: آج پاکستان میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ان عظیم قربانیوں کی بدولت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا: گزشتہ دنوں جشنِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں مختلف پروگرام اور ریلیاں منعقد کی جا رہی تھیں جبکہ شیعہ مکتبِ فکر کی جانب سے بھی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے ریلی کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر شیعہ برادری میں شدید دکھ اور تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا: اس وقت شیعانِ حیدرِ کرار کے تمام نمائندے اور اکابرین ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں اور انتظامیہ کے رویے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، ایک طبقے کو مذہبی پروگراموں اور ریلیوں کے انعقاد کے لیے سہولیات اور اجازتیں دی جا رہی ہیں جبکہ دوسرے طبقے کو اپنے مذہبی پروگرام منعقد کرنے کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

علامہ رمضان توقیر نے کہا: یہ پہلا موقع نہیں کہ شیعہ مکتبِ فکر کو اس نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی ضلعی اور صوبائی سطح پر بعض ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جن سے شیعہ برادری میں احساسِ محرومی پیدا ہوا اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا: پاکستان کے ہر شہری کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلک، مذہب یا جماعت سے ہو، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی پروگرام منعقد کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی شہری کو اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے حالیہ تجوید و قرأت کے مقابلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ضلعی اور ڈویژنل سطح کے مقابلے کمشنر ہاؤس میں منعقد ہوئے، جبکہ کمشنر ہاؤس کسی مخصوص مذہب یا مسلک کی ملکیت نہیں بلکہ ایک سرکاری مقام ہے، جہاں تمام پاکستانی شہریوں کے لیے مساوی حیثیت ہونی چاہیے۔

ڈیرہ اسماعیل خان؛ شیعہ اکابرین کا جشنِ میلادِ مصطفیٰ (ص) کی ریلی کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار

انہوں نے کہا: اس معاملے پر خطبات اور دیگر ذرائع سے بھی انتظامیہ تک آواز پہنچانے کی کوشش کی گئی، تاہم اب تک ان کے تحفظات کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ اس قسم کے امتیازی رویوں سے معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور حالات خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے، اس لیے انتظامیہ کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

علامہ رمضان توقیر نے کہا: پاکستان میں اقلیتوں سمیت مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مذہبی معاملات میں آزادی حاصل ہے، تاہم شیعہ مکتبِ فکر کو اپنے مذہبی پروگراموں کے انعقاد کے حوالے سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا: اگر دیگر مذہبی یا مسلکی حلقوں کو ریلیوں اور پروگراموں کے انعقاد کی اجازت دی جا رہی ہے تو شیعہ برادری کو بھی مساوی حق دیا جانا چاہیے۔ شیعہ برادری نے ہمیشہ اتحاد، وحدت، محبت اور بھائی چارے کی بات کی ہے اور انہیں کسی دوسرے مسلک کی ریلی یا پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ انہیں اپنے مذہبی پروگرام کے لیے اجازت کیوں نہیں دی گئی۔

شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما نے مزید کہا: شیعہ مکتبِ فکر کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی کا مقصد بھی جشنِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اظہار تھا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے میں سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ بعض افراد کے خلاف کارروائی اور گرفتاریوں سے بھی شیعہ برادری میں تشویش پیدا ہوئی ہے، جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

علامہ رمضان توقیر نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو تمام شیعہ اکابرین اور تنظیمیں باہمی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔

مرکزی جامع مسجد لاٹو فقیر کے خطیب علامہ غضنفر علی نقوی نے کہا: شیعہ مکتبِ فکر ملک کے قانون اور آئین کا احترام کرتا ہے اور کسی دوسرے مسلک یا مذہبی گروہ کے پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کی خواہاں نہیں، تاہم مذہبی آزادی کے معاملے میں تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

انجمن متولیان کے صدر تنویر حسین رضوی نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ شیعہ مکتبِ فکر کو جشنِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں ریلی اور دیگر مذہبی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی جائے اور کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے گریز کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں انچارج محرم و چہلم بشیر حسین جڑیہ، علامہ کاظم حسین مطاہری، ہیبت اللہ صدیقی، تحسین علمدار ایڈووکیٹ، مجلس وحدت مسلمین کے جنرل سیکرٹری سید علمدار حسین ہاشمی، سید انصار زیدی، ایم ڈبلیو ایم کے تحصیل صدر ملک ربنواز حسن، علامہ کرامت حسین، علامہ حاجی حنیف اور علامہ مجاہد حسین جھیڈا سمیت دیگر شیعہ اکابرین اور نمائندگان بھی موجود تھے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ مذہبی معاملات میں تمام مکاتبِ فکر کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرے اور شیعہ مکتبِ فکر کو بھی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مذہبی پروگرامز اور ریلییاں منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha