ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 10:02
غصہ عقل کو تباہ کر دیتا ہے، خواہشات پر قابو پانا کامیابی کی علامت ہے: حجۃ الاسلام محمد محسن تقوی

حوزہ/ جامعۃ الشہید دہلی کے پرنسپل حجۃ الاسلام والمسلمین سید محسن تقوی نے کہا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن وہ نہیں جو باہر سے اس کے سامنے موجود ہو، بلکہ غصہ اور بے قابو خواہشات وہ اندرونی دشمن ہیں جو انسان کی عقل، کردار اور روحانی ترقی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ حقیقی کامیابی اپنے نفس اور غصے پر قابو پانے میں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 11 ستمبر 2026 کو نئی دہلی کی جامع مسجد کشمیری گیٹ میں نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید محسن تقوی کی امامت میں ادا کی گئی۔ انہوں نے خطبۂ جمعہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی احادیث کی روشنی میں غصے کے نقصانات اور اس پر قابو پانے کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غصے اور خواہشات کو انسان کے اہم دشمنوں میں شمار کیا ہے۔ جو شخص ان دونوں پر قابو پالے، اس کے درجات بلند ہوتے ہیں اور وہ اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ بیرونی دشمن کا مقابلہ نسبتاً آسان ہے، کیونکہ اسے پہچانا جا سکتا ہے، لیکن غصہ اور بے قابو خواہشات انسان کے اندر سے اسے نقصان پہنچاتی ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین تقوی نے کہا کہ آج بعض لوگ غصے کو اپنی طاقت اور بہادری سمجھتے ہیں۔ کسی کو دھمکانا، سخت زبان استعمال کرنا یا گالی گلوچ کرنا ان کے نزدیک عزت کی علامت بن گیا ہے، حالانکہ یہ طاقت نہیں بلکہ کمزوری ہے۔ غصے کی حالت میں انسان دوسروں سے زیادہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ سب سے پہلے اس کی عقل متاثر ہوتی ہے اور وہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب ایک فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غصہ عقل کو خراب کر دیتا ہے اور انسان کو صحیح راستے سے دور لے جاتا ہے۔ شدید غصے میں انسان حالات کا درست اندازہ نہیں لگا پاتا اور اکثر ایسا قدم اٹھا بیٹھتا ہے جس پر بعد میں اسے پچھتاوا ہوتا ہے اور معافی مانگنی پڑتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ غصہ نہ کرنے سے لوگ انہیں کمزور سمجھیں گے، جبکہ حقیقی عزت دوسروں کو دبانے میں نہیں بلکہ اپنے غصے پر قابو رکھنے میں ہے۔ غصے کے بعد پچھتاوا، ذہنی دباؤ، بے چینی اور شرمندگی جیسی کیفیتیں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ انسان ابتدا ہی میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھے۔

جامعۃ الشہید کے پرنسپل نے کہا کہ غصہ انسان کی چھپی ہوئی کمزوریوں کو بھی ظاہر کر دیتا ہے۔ عام حالات میں انسان اپنی بہت سی خامیوں کو چھپا لیتا ہے، لیکن غصے کے وقت اس کی زبان اور رویے سے اس کی حقیقی شخصیت سامنے آ جاتی ہے۔ اسی لیے کسی شخص کے کردار کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ غصے کی حالت میں کس طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔

انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منقول تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غصے کی بنیادی وجوہات میں تکبر اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا شامل ہیں۔ جب انسان دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر غصے کی کیفیت بڑھنے لگتی ہے۔ اس لیے غصے کا علاج صرف ظاہری رویے کو بدلنا نہیں بلکہ اپنے اندر سے تکبر اور خود پسندی کو ختم کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غصہ آنا انسانی فطرت کا حصہ ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں جسے کبھی غصہ نہ آتا ہو، لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان غصے کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیتا ہے یا اسے قابو میں رکھتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے لقب ’’کاظم‘‘ کا مطلب بھی غصے کو پی جانے والا ہے؛ یعنی غصہ آنے کے باوجود اسے قابو میں رکھنا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید محسن تقوی نے تاکید کی کہ غصے کے وقت فوری ردعمل دینے کے بجائے انسان کو اپنی زبان روک لینی چاہیے اور حالات کو پرسکون ہونے کا موقع دینا چاہیے۔ حقیقی طاقت دوسروں پر غصہ نکالنے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے میں ہے۔ اگر انسان امیرالمؤمنین علیہ السلام کی اس تعلیم پر عمل کرے تو وہ غصے اور خواہشات پر قابو پا کر اپنی روحانی زندگی میں بلند مقام حاصل کر سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha