حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر شہید نے امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت نے مؤمنوں کو طاغوتوں اور ان کے پیروکاروں سے خبردار کیا اور فرمایا:
«أیها المؤمنون لا یفتننکم الطواغیت و أتباعهم.» ’’اے مؤمنو! طاغوت اور اس کے پیروکار تمہیں فریب نہ دیں۔‘‘
بیان میں کہا گیا کہ طاغوت کے پیروکاروں سے مراد صرف اس کے قریبی افراد نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے طاغوت کے پیچھے چلتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔
امام سجاد علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں طاغوتوں اور ان کے پیروکاروں کی ایک اہم خصوصیت دنیا سے شدید وابستگی ہے۔«مِن أهلِ الرَّغبةِ فی هذه الدنیا» وہ دنیا کی ظاہری دولت، مال، عزت، مقام اور سماجی حیثیت کو بہت اہم سمجھتے ہیں اور اسی کے حصول کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کرتے ہیں «المائلون إلیها»۔
درس میں ’’حُطام‘‘ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں دنیا کی ظاہری چمک دمک ایک ایسے عارضی سامان کی مانند ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔ مال و دولت، ظاہری عزت اور سماجی اعتبار بھی اسی فانی دنیا کا حصہ ہیں اور انسان کو ان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔
اسی طرح ’’ہشیم‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت «هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ» کی طرف اشارہ کیا گیا، جس میں دنیا کی مثال ایسے خشک اور بکھرے ہوئے تنکوں سے دی گئی ہے جنہیں ہوا اپنے ساتھ اڑا لے جاتی ہے۔
بیان کے مطابق، طاغوتوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ دنیا کی انہی عارضی اور ظاہری چیزوں کے لیے جدوجہد کرتے ہیں جن کی حقیقت بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ مؤمن کو چاہیے کہ وہ دنیا کی ظاہری شان و شوکت سے متاثر نہ ہو اور طاغوتوں اور ان کے پیروکاروں کے فریب میں نہ آئے۔









آپ کا تبصرہ