اتوار 20 ستمبر 2026 - 15:13
حوزہ کو انسانی علوم اور معاشرتی نظام کے میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ حوزہ علمیہ کی ذمہ داری صرف انفرادی اور عبادتی مسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی علوم اور معاشرے کے مختلف نظاموں کے بارے میں اسلامی نظریات پیش کرنا بھی اس کی اہم ذمہ داری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ حوزہ علمیہ کی ذمہ داری صرف انفرادی اور عبادتی مسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی علوم اور معاشرے کے مختلف نظاموں کے بارے میں اسلامی نظریات پیش کرنا بھی اس کی اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے نئے تعلیمی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی خدمت میں سلام پیش کیا اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مبارک باد دی۔ انہوں نے آیت اللہ مصباح یزدی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و فکری خدمات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

معاشرے کے مختلف شعبوں کے لیے اسلامی نظام ضروری

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ حوزہ علمیہ کی اہم ذمہ داریوں میں معاشرے کے مختلف شعبوں کے لیے اسلامی نظام اور اصول پیش کرنا شامل ہے۔ ہر معاشرے کو حکومت، عدلیہ، معیشت، خاندان اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں کے لیے ایک واضح نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی حکومت میں ان تمام نظاموں کی بنیاد اسلام پر ہونی چاہیے۔ فقہ شیعہ میں بعض شعبوں، خاص طور پر عدلیہ کے بارے میں تفصیلی بحث موجود ہے، تاہم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں معاشرے کے دیگر شعبوں کے لیے بھی اسلامی نظام تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ حوزہ علمیہ کو اس میدان میں موجود کمی کو پورا کرنا ہوگا۔

فقہ کو صرف انفرادی مسائل تک محدود نہیں کرنا چاہیے

حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ نے کہا کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے نجف اشرف میں ولایت فقیہ کے نظریے کو واضح کرکے تحقیق کا ایک نیا راستہ کھولا۔ اسلامی انقلاب کے بعد یہ راستہ نظری اور عملی دونوں میدانوں میں آگے بڑھا، لیکن آج بھی معاشرے کے بعض شعبوں میں مشکلات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فقہ کو صرف انفرادی اور عبادتی احکام تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حوزہ علمیہ کی اصل ذمہ داری انسانی علوم اور معاشرتی نظام کے میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

انسانی علوم میں اسلامی نظریات پیش کرنا ضروری

آیت اللہ اعرافی نے انسانی علوم کو دنیا کے موجودہ نظام کو چلانے میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب نے نشاۃ ثانیہ کے بعد فلسفے کی بنیاد پر مختلف علوم کو ترقی دی اور انہیں انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں استعمال کیا۔ اگرچہ اس سے کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن ان نظریات کی بنیاد میں بعض بنیادی مسائل بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان نظریات کا جائزہ لینا، ان کی اصلاح کرنا اور اسلامی بنیادوں پر انسانی علوم کو آگے بڑھانا حوزہ علمیہ کے اہل علم کی اہم اور بڑی ذمہ داری ہے۔

ابھی بہت سا کام باقی ہے

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں امام خمینی، رہبر شہید، علامہ طباطبائی، شہید صدر اور علامہ مصباح یزدی رحمۃ اللہ علیہم جیسے بزرگوں کی فکر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی علوم میں تبدیلی کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے اور اس راستے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حالیہ علاقائی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مزاحمتی جنگوں میں ایک اہم تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مقابلے کا خوف کم ہوا ہے۔ ان کے بقول اس صورتحال نے عالمی سطح پر موجود طاقت کے نظام کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کیا ہے۔

دنیا میں اسلامی فکر کو مضبوط بنانے کی ضرورت

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ مزاحمت کی راہ میں عظیم شخصیات کا نقصان ایک بڑا نقصان ہے، لیکن ان کی جدوجہد نے یہ واضح کیا ہے کہ ہمیں عالمی سطح پر فکری اور نظریاتی میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی اور سیاسی میدان میں تبدیلی سے پہلے فکری بنیادوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ اسلامی فلسفے اور حقیقی فقہ سے حاصل ہونے والے نظریات کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرنا چاہیے تاکہ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں ان سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی سے پہلے بہت سے اسلامی نظریات صرف کتابوں اور علمی بحثوں تک محدود تھے، کیونکہ انہیں عملی طور پر آزمانے کا موقع نہیں تھا، لیکن آج اسلامی نظام کی موجودگی میں ان نظریات کو عملی میدان میں پیش کرنے کا موقع موجود ہے۔

بنیادی اسلامی نظریات پر مزید کام کی ضرورت

آیت اللہ اعرافی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ اور اساتذہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ علمیہ کو بنیادی اسلامی نظریات پر منظم انداز میں کام کرنا چاہیے اور معاشرے کی حقیقی ضروریات کا جواب دینا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha