حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجتالاسلام والمسلمین رفیعی نے ٹیلی ویژن پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برکت صرف مال، عمر یا وسائل کی زیادتی کا نام نہیں، بلکہ برکت یہ ہے کہ کوئی چیز محدود ہونے کے باوجود اس کے آثار اور نتائج زیادہ اور دیرپا ہوں۔ برکت کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے اور قرآن و روایات میں بعض شخصیات، مقامات، اوقات اور اعمال کو بابرکت قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے شب قدر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ رات وقت کے اعتبار سے مختصر ہے، لیکن اس کی قدر ہزار مہینوں سے زیادہ ہے؛ اسی طرح مسجدالحرام محدود جگہ ہے، مگر وہاں ایک نماز کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برکت کا تعلق کثرت سے نہیں بلکہ اثر اور نتیجہ خیزی سے ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین ڈاکٹررفیعی نے تقوا کو معاشرے میں برکت کا اہم ترین سبب قرار دیتے ہوئے آیتِ کریمہ «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَیٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ گناہ، ظلم اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے پرہیز برکاتِ الٰہی کے نزول کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے عادل و دیندار حاکم، معاشرتی انصاف اور سیرتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو بھی اس سلسلے میں اہم قرار دیا۔
انہوں نے حسنِ عمل اور کام کو درست و مضبوط طریقے سے انجام دینے کو عمر میں برکت کا سبب بتایا اور صلہ رحمی، انفاق، صدقہ، والدین سے نیکی، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور ہمسایوں کے حقوق کی رعایت کو بھی زندگی میں برکت کے اسباب میں شمار کیا۔ ان کے مطابق خمس و زکوٰۃ اور پسندیدہ چیزوں میں سے انفاق مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اس میں برکت پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے نے گھر میں سلام کرنے، مہمان نوازی، ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے اور اہلِ خانہ پر توجہ دینے کو بھی باعثِ برکت قرار دیا اور کہا کہ انسان کی علمی و تحریری خدمات بھی بابرکت ہوسکتی ہیں؛ ایک مختصر وقت میں لکھی گئی کتاب یا تحریر صدیوں تک لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے برکت کے موانع بیان کرتے ہوئے کہا کہ خیانت، چوری، جھوٹ اور بدزبانی انسان کی زندگی سے برکت سلب کرسکتے ہیں۔ اس لیے صداقت، امانت داری، تقوا اور نیکی کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی برکت زیادہ مال رکھنے میں نہیں بلکہ دستیاب نعمتوں سے زیادہ خیر اور دیرپا فائدہ حاصل کرنے میں ہے۔










آپ کا تبصرہ