حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق اور امریکہ کے درمیان فوجی انخلا کے معاہدے کے باوجود مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات اور عراق میں امریکی موجودگی کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔
عراق کے مرکز ’’القمة‘‘ کے سربراہ حیدر الموسوی نے اس سلسلے میں کہا کہ عراق کا امریکہ کے ساتھ طویل تجربہ اسے امریکی وعدوں پر آسانی سے اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی فوج 2011 میں عراق سے نکل گئی تھی، لیکن بعد میں داعش کے خلاف کارروائی کے نام پر دوبارہ عراق میں داخل ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ عراق جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم مقام رکھتا ہے اور اس مقام پر اثر و رسوخ رکھنے والا ملک پورے مشرق وسطیٰ کے حالات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ امریکہ بھی عراق کی اس اہمیت سے بخوبی واقف ہے، اسی لیے یہ ملک عالمی اور علاقائی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
حیدر الموسوی کے مطابق، امریکہ نے اپنی مرضی سے عراق سے فوج واپس نہیں بلائی، بلکہ مزاحمت، اس سے وابستہ افراد کی قربانیوں اور امریکی فوجی اڈوں پر دباؤ کے نتیجے میں اسے انخلا پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت نے عراقی سیاسی قوتوں پر بھی دباؤ ڈالا تاکہ وہ عراق سے تمام غیر ملکی فوجیوں کے مکمل انخلا کو یقینی بنانے والے معاہدے تک جلد پہنچ سکیں۔
حیدر الموسوی نے اس بات پر زور دیا کہ انخلا کے مختلف مراحل پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے، تاکہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے اور عراق کی خودمختاری اور آزادانہ فیصلے کرنے کے اختیار کا تحفظ ہو۔
دوسری جانب، امریکی حکام نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ عراق میں باقی رہ جانے والے آخری امریکی فوجی اردن منتقل ہوچکے ہیں، جہاں داعش کے خلاف کارروائیوں کے نام پر خطے میں جاری مشن کا مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر قائم ہے۔










آپ کا تبصرہ