جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 13:45
عراق سے امریکی انخلا کے دعوے پر سوالیہ نشان؛ اربیل میں فوجی ساز و سامان بدستور موجود

حوزہ/ شمالی عراق میں ایک سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے اربیل میں واقع حریر ایئربیس اور امریکی قونصل خانے سے اپنا فوجی ساز و سامان مکمل طور پر منتقل نہیں کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے شمالی صوبے سلیمانیہ کے ایک سکیورٹی ذریعے نے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے حریر ایئربیس اور اربیل میں واقع امریکی قونصل خانے سے اپنا جنگی ساز و سامان باہر نہیں نکالا، بلکہ امریکی انخلا کو ایک حکمتِ عملی پر مبنی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، امریکی فوج نے صرف ’’حفاظتی اور نگرانی کرنے والی فورس‘‘ کو اس انخلا کے عمل سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، جبکہ حریر ایئربیس اور اربیل میں موجود امریکی قونصل خانے سے فوجی ساز و سامان بدستور منتقل نہیں کیا گیا۔ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام امریکی فوجیوں کی دوبارہ واپسی اور نئے سرے سے تعیناتی کی تیاری ہو سکتا ہے، جس کے لیے مختلف بہانوں اور مصنوعی وجوہات کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

اس سکیورٹی ذریعے نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے ایک ایسے منصوبے کا پتہ چلتا ہے، جس کے بعض پہلو ابھی واضح نہیں ہیں، تاہم اس کے مقاصد عراق کے امن و استحکام اور سلامتی سے متعلق ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی فوج نے ایک بڑی فوجی فورس کو بھی انخلا کے عمل سے الگ رکھا ہے، جو جدید جنگی ساز و سامان سے لیس ہے اور متعدد جنگی طیاروں کی معاونت حاصل ہے۔ حریر ایئربیس پر بڑی تعداد میں امریکی بھاری فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کی آمد و رفت بھی دیکھی گئی ہے۔

ذریعے کے مطابق، ان طیاروں کی آمد و رفت کے ساتھ جنگی طیاروں اور ڈرونز کی وسیع پیمانے پر پروازیں بھی جاری رہیں، تاہم ان فوجی سرگرمیوں کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کی جانب سے انخلا کے باضابطہ اعلان کے باوجود، امریکی فوجی طیاروں نے عراق کے شمالی صوبوں کی فضائی حدود میں گشت کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha